حامداً و مصلیاً، اما بعد:
محترم مسلمان بھائیو!
یہ فتنوں کا دور ہے، اسلامی امت اور دینِ اسلام مختلف اطراف سے حملوں اور یلغار کا شکار ہے۔ کفار کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے اسلام کو نقصان پہنچائیں، کبھی وہ کھلے طور پر اور کفر کے لباس میں آ کر اسلام پر ضرب لگاتے ہیں، اور کبھی مسلمان کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کو مسخ کرتے ہیں۔ یہ تمام محاذ ایک ہی وقت میں اسلام کے خلاف سرگرم ہیں۔
آج اسلام کے خلاف بڑے فتنوں میں سے ایک بڑا فتنہ یہ ہے کہ نظام کی بقا کے لیے علمِ دین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ عالمِ اسلام کے بیشتر ممالک میں چونکہ سیکولر نظام حاکم ہیں، ان نظاموں میں درباری علماء کوشش کرتے ہیں کہ نظام کی بقا کے لیے اسلامی احکام میں تحریف کریں، تاکہ وہ اپنے زیرِ اقتدار مسلمانوں کو آسانی سے کنٹرول کر سکیں۔ انہی نظاموں میں سے ایک پاکستانی فوجی رجیم اور اس سے وابستہ درباری علماء ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ہمیشہ اسلام اور منبر کے نام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے، اور یہی درباری علماء اس کے تمام غیر شرعی اقدامات کو جواز فراہم کرتے رہے ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم کی نظر میں اگر سیکولر قوانین نافذ کیے جائیں تو یہ جرم نہیں، اگر لال مسجد پر بمباری کی جائے تو یہ جرم نہیں، اگر لبنان میں فلسطینی مہاجرین پر بمباری کی جائے تو یہ جرم نہیں، اگر غزہ پر قبضہ کرنے کے بورڈ میں شمولیت اختیار کی جائے تو یہ جرم نہیں، اگر پاکستان میں تنان اسلامی اور انسانی اصولوں کے خلاف ہم جنس پرستی کا قانون منظور کیا جائے تو یہ جرم نہیں، اگر وزیرستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عام لوگوں کے گھروں پر بمباری کی جائے تو یہ جرم نہیں، اگر خیبر پختونخوا کی مساجد پر بمباری کی جائے تو یہ جرم نہیں، لیکن اگر خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں کوئی شخص اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو وہ مجرم بن جاتا ہے، یہ ہے پاکستان کے درباری علماء کی منطق۔ ان کی دینی فکر اس انٹیلی جنس نظام کے تابع ہے، جہاں دینی احکام کی صرف آئی ایس آئی کے مفادات کے مطابق تعریف کی جاتی ہے۔
پاکستانی علماء میں ایک ایسا حلقہ بھی ہے جو بعینہٖ فوجی حلقے سے مشابہت رکھتا ہے، جیسے پاکستانی فوج اسلحے کے زور پر نظام کو قائم رکھتی ہے، اور آئی ایس آئی اطلاعات کے ذریعے اسے سنبھالتی ہے، اسی طرح درباری علماء کا حلقہ دینی فتوؤں کے ذریعے اس نظام کو سہارا دیتا ہے۔ اگر پاکستانی فوجی رجیم کی شرعی حیثیت کو دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا نظام ہے جس کی بنیاد ظلم، جبر، طاقت اور دھمکی پر رکھی گئی ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم وہی نظام ہے جس نے دنیا میں واحد اسلامی نظام (امارت) کے خاتمے میں امریکیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، اور پاکستنای فوجی رجیم کے قیام سے لے کر آج تک یہ اپنے عوام کا دشمن اور مغربی مفادات کا وفادار رہا ہے۔
پاکستانی حکومت نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو جرائم کیے ہیں، اگر یہی جرائم کسی اور ملک یا حکومت نے کیے ہوتے تو اب تک پاکستان کے درباری علماء اس کے خلاف کئی بار کفر کے فتوے دے چکے ہوتے۔ وہی اعمال جو دوسرے حکمرانوں کے لیے ان کے نزدیک تکفیر کا سبب بنتے ہیں، پاکستان کے لیے وہی دینی امتیاز کا باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر: اگر فرض کریں کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے دوران ٹرمپ افغانستان آتا، تو یہی بات پاکستانی درباری علماء کے لیے امارت اسلامیہ افغانستان کے خلاف تکفیر کے لیے کافی سمجھی جاتی، لیکن اس کے برعکس اگر ٹرمپ پاکستان کا دورہ کرے تو اسے پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں مسجد اور مدرسے پر بمباری “جہاد” قرار پاتی ہے، لیکن پنجاب میں شراب خانوں پر حملہ “انتہاپسندی” کہلاتا ہے۔ اگر پاکستانی فوجی رجیم کسی کافر، امریکی یا ملحد کے ساتھ دوستی کرے تو اسے ترقی اور بہتر سفارتی تعلقات کہا جاتا ہے، لیکن اگر امارت اسلامیہ افغانستان بھارت کے ساتھ سفارتی روابط قائم کرے تو اسے “ہندوؤں کی غلامی” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے درباری علماء کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام اور اسلامی احکام پوری دنیا کے لیے یکساں نازل ہوئے ہیں۔ اسلام میں ایسا نہیں کہ پاکستان میں شریعت ایک انداز میں عمل کرے اور باقی عالم اسلام میں کسی اور انداز میں شریعت عمل کرے۔ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ شریعت کے بعض احکام سے پاکستان کی سرزمین مستثنیٰ ہے، اسے اپنے ایمان پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
پاکستان کے وہ علماء جو فوجی رجیم کے غیر شرعی اعمال کے لیے جواز تلاش کرتے ہیں، کیا انہیں یہ آیت شریف یاد نہیں آتی:
“أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ”
وہ تو علماء بھی ہیں، اگر عام لوگ فوجی رجیم کی غیر شرعی حیثیت اور ناجائز اعمال سے آنکھیں موند لیں تو وہ اس پر ملامت نہ ہوتے، کیونکہ وہ تو عوام ہیں۔ لیکن جب ایک عالم کھڑا ہو کر ایک سیکولر نظام کے تمام جرائم کا جواز پیش کرے تو پھر عام آدمی یا فوجی سے کیا شکایت؟ ایک کہاوت ہے: “اگر کفر کعبہ سے اٹھے تو پھر مسلمان کہاں جائیں؟” پاکستان کی موجودہ صورت حال اسی کہاوت کا مصداق بن چکی ہے۔
پاکستان کے درباری علماء کو چاہیے کہ وہ اسلام کے بارے میں اپنے فہم پر نظرِ ثانی کریں۔ اگر وہ صرف زبانی دعوے کو اسلام کے لیے کافی سمجھتے ہیں تو عبد اللہ بن ابی بھی خود کو مسلمان کہتا تھا، پھر اسے بھی مسلمان مان لیں۔ اگر وہ صرف نماز، روزہ اور زکوٰۃ دینے پر لوگوں کو مسلمان سمجھتے ہیں، تو عبد اللہ بن ابی یہ سب کچھ کرتا تھا، پھر اسے بھی مسلمان تسلیم کریں۔
جی ہاں، میرے بھائیو!
یہ درست ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اسلامی احکام ہیں، لیکن حقیقی ایمان اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان کفر کے مقابلے میں دشمنی اور مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اختیار کرے۔ جبکہ پاکستانی فوجی رجیم کے ذمہ داران ہمیشہ اس کے برعکس راستہ اختیار کرتے رہے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے افغانستان کے مظلوم مسلمانوں پر حملے کے لیے امریکہ کو فوجی اڈے اور راستے فراہم کیے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں عبد اللہ بن ابی مسلمانوں کے خلاف کفار کے ساتھ خفیہ تعلقات رکھتا تھا تو اسے منافق کہا گیا، لیکن آج پاکستانی فوجی رجیم اسلام کے خلاف کفار کے ساتھ کھلے عام تعلقات اور تعاون کر رہا ہے، اور انہیں مجاہدیں اور اسلام کے محافظ کہا جا رہا ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے احکام بدل گئے ہیں؟ (معاذ اللہ) یا پاکستان کے درباری علماء ہی اسلام سے ناواقف ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہم اپنے معزز قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
وما علینا إلا البلاغ۔

