Site icon المرصاد

مسلمانوں کے درمیان سے اعتماد کی دیواریں کون گرارہا ہے؟

مسلمانوں کے درمیان سے اعتماد کی دیواریں گرا رہا ہے؟ یہ سوال محض ایک جذباتی ردِّعمل نہیں، بلکہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جہاں خون کے ہر قطرے کے ساتھ شک، نفرت اور بداعتمادی کا ایک نیا باب کھلتا جاتا ہے۔ یہ واقعات اتفاقی محسوس نہیں ہوتے، بلکہ ایک ایسی سوچ کا حصہ دکھائی دیتے ہیں جو مسلمانوں کو ان کی مشترکہ انسانی اور اسلامی شناخت سے دور کرکے اختلاف کی بنیاد پر دائمی دشمنی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔

داعش محض معاصر دہشت گردی کا نام نہیں، بلکہ ذہنوں پر قبضہ کرنے کی ایک منظم مہم ہے۔ یہ گروہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر ذہنوں کو فتح کر لیا جائے تو جغرافیہ خود بخود سرنگوں ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اس کی جنگ صرف شہروں کی سطح تک محدود نہیں، بلکہ فکر، احساس اور بیانیے کی گہرائیوں میں لڑی جا رہی ہے۔ ہر واقعے کو اس انداز سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس کا انجام پہلے ہی متعین ہو—اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان شک، فاصلے اور مستقل بداعتمادی کو ہوا دینا۔

یہ محض جسمانی تشدد نہیں، بلکہ ادراک پر حملہ ہے۔ حقیقت کو دانستہ طور پر مبہم رکھا جاتا ہے، معلومات کو ادھورا پیش کیا جاتا ہے اور جذبات کو مسلسل بھڑکایا جاتا ہے۔ جب حقیقت بکھر جائے تو ذہن مکمل تصویر کے بجائے خوف اور قیاس آرائی کا اسیر بن جاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔

اس پوری صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ امت کے تاریخی اور اعتقادی رشتے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان اختلافات اگرچہ ایک تاریخی حقیقت ہیں، لیکن انہیں بقائے باہمی اور وحدتِ امت کے مقابل دائمی دشمنی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ داعش انہی اختلافات کو بھڑکا کر انہیں جنگ کی آگ میں بدلنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ امت کے اتحاد کی بنیادیں کمزور پڑ جائیں۔

کیوں بے گناہ لوگوں کا خون تفرقے کی آگ جلایا جاتا ہے؟ اس لیے کہ اس نوعیت کے حملے صرف جسمانی نہیں ہوتے، بلکہ نفسیاتی اور سماجی زخم بھی پیدا کرتے ہیں۔ ہر واقعہ لوگوں کے ذہنوں میں شک کی ایک نئی کڑی جوڑ دیتا ہے، اور شک ہی بداعتمادی کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب بداعتمادی پھیلتی ہے تو معاشرہ اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے، چاہے بظاہر کوئی کھلی جنگ موجود نہ بھی ہو۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے بے گناہ انسان کا قتل انسانی اقدار کی سب سے بڑی پامالی ہے۔ قرآنِ کریم ایک بے گناہ کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے، جو حرمتِ جان کا نہایت قوی اخلاقی اعلان ہے۔ اسی بنا پر ہر وہ عمل جس کا نشانہ معصوم لوگ ہوں، اسلامی اصولوں کی روح سے صریحاً متصادم ہے اور دین کے نام کا غلط استعمال شمار ہوتا ہے۔

یہ حملے بار بار کیوں ہوتے ہیں؟ اس لیے کہ داعش براہِ راست جنگ کے بجائے معاشرے کے اندرونی انہدام کی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھیں، کیونکہ یہی شک معاشرے کے لیے سب سے مہلک زہر ہے۔ جب معاشرہ اپنے ہی اندر تقسیم ہو جائے تو بیرونی دباؤ کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اور وہ خود اپنے زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

لیکن ان تمام تاریکیوں کے پیچھے ایک اہم حقیقت بھی موجود ہے: یہ جنگ اگرچہ خون سے لکھی جاتی ہے، مگر جیتی شعور سے جاتی ہے۔ اگر لوگ ہر واقعے کے پسِ پردہ تفرقے کے پوشیدہ ہاتھ کو پہچان لیں تو اس جنگ کا اصل مقصد ناکام ہو جاتا ہے۔ کامیابی اس میں نہیں کہ کون کس پر غالب آتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ معاشرہ تقسیم کی آگ سے محفوظ رہے۔ داعش اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ہم ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگیں، اور اس وقت کمزور پڑتی ہے جب ہم ایک دوسرے کو انسان، بھائی اور مشترکہ تقدیر کے حاملین مانیں۔

یہ جنگ ہتھیاروں کی نہیں، بلکہ افکار کی جنگ ہے اور افکار کی جنگ اسی وقت جیتی جاتی ہے جب حقیقت جذبات پر غالب آ جائے اور شعور خوف کی جگہ رہنمائی سنبھال لے۔

Exit mobile version