Site icon المرصاد

مسلمان کیوں پیچھے رہ گئے؟

نبوی دور میں مسلمان ہمیشہ کافروں پر غالب رہتے تھے۔ جب وہ اپنے علاقے سے جنگ کے لیے نکلتے، خواہ ایک ماہ کا سفر کیوں نہ ہوتا، کافر ان کے رعب سے کانپ اٹھتے اور ہتھیار ڈالنے کی فریادیں شروع کر دیتے۔

بدر کی جنگ میں 313 مجاہدین نے ہزار مسلح کافروں پر فتح حاصل کی۔ خندق کی جنگ میں کم تعداد میں مسلمانوں نے دس ہزار کافروں کے مقابلے میں حکمت عملی سے خندق کھودی اور کامیابی حاصل کی۔ خیبر کے ناقابل تسخیر قلعوں کو فتح کیا گیا، جو کہ آسان نہیں تھا۔ اور موتہ کی جنگ میں صرف تین ہزار مسلمانوں نے دو لاکھ کے لشکر سے سخت مقابلے کے بعد جنگ جیتی۔

اسی طرح خلفائے راشدین، اموی، عباسی اور عثمانی خلافتوں کے سنہری ادوار اسلامی فتوحات اور کافروں کی مسلسل شکستوں کے گواہ ہیں۔ لیکن جب عثمانی خلافت زوال پذیر ہوئی، مسلمان اپنے راستے سے ہٹ گئے اور کافروں نے تین بنیادی حکمت عملیوں پر عمل کیا:

دشمنی اور نفرت کی بجائے اتحاد:
یہود نے عیسائیوں کا ہاتھ تھاما، انہوں نے مشرکوں کو ساتھ ملایا اور سب مل کر اسلام کے خلاف ایک صف بن گئے۔

فکر، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کو طاقت بنایا:
انہوں نے علم اور ٹیکنالوجی کو اپنی قوت کا ذریعہ بنایا۔

مسلمانوں کے افکار پر کام کیا:
انہوں نے مسلمانوں کو فکری طور پر غلام بنایا، اپنے دین، تہذیب و اقدار سے ان کا اعتماد ختم کر دیا، اور حتیٰ کہ اسلام کے نام پر لوگوں کو اسلام کے خلاف کھڑا کر دیا۔

اس کے برعکس، مسلمانوں نے کامیابی کے تین بڑے عوامل کو نظر انداز کیا:

– اتحاد کی بجائے اختلاف، تعصب، جھگڑوں اور تقسیم کو اپنایا۔
– اللہ کے دین سے منہ موڑ لیا اور دنیاوی لذتوں کے جال میں پھنس گئے۔
– جدید آلات، فکر اور تعلیم کی بجائے فضول چیزوں سے محبت کی اور بے مقصد زندگی کو ترجیح دی۔

اسی وجہ سے آج دنیا کے 13 ملین یہود 2 ارب مسلمانوں پر غالب ہیں۔ ایک طرف سے کافر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرون اڑاتے ہیں اور دوسری طرف سے اسلامی سرزمین پر بمباری کرتے ہیں، لیکن مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ کافر مسلمانوں کو فارمی مرغیوں کی طرح ایک ایک کر کے مارتے ہیں اور مسلمان صرف آنسوؤں بھری آنکھوں سے تماشا دیکھتے ہیں۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب مقابلہ طاقت کا ہو، تو رونا اور فریاد کوئی نتیجہ نہیں دیتے۔ اگر مسلمانوں کے پاس تیاری کے وسائل نہ ہوتے، تو اللہ تعالیٰ یہ حکم نہ دیتا:

"وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ”
ترجمہ: ان کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت تم سے بن پڑے، تیار کرو۔

ہمارے پاس عزت اور طاقت کے سارے وسائل موجود ہیں: معدنیات، جواہرات، تیل، گیس اور وہ تمام چیزیں جن پر جدید ٹیکنالوجی چلتی ہے، یہ سب ہماری سرزمین پر موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے غفلت کو ترجیح دی، محنت، تعلیم اور اتحاد سے منہ موڑ لیا اور ذلت کی زندگی پر قناعت کر لی۔

اگر ہم دوبارہ سر بلند ہونا چاہتے ہیں، تو ہمیں بیدار ہونا ہوگا، سوچنا ہوگا، تعلیم کی طرف رجوع کرنا ہوگا، ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا، اتحاد کی طرف لوٹنا ہوگا اور اللہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔

Exit mobile version