Site icon المرصاد

مشرق وسطی کی بدلتی اور بگڑتی صورتحال

ایران، اسرائیل اور امریکہ کی مثلث نما جنگ ایک عجیب مرحلہ میں داخل ہوچکی ہےـ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے آغاز سے اب تک ایک انہونی کیفیت سے دوچار ہےـ اسرائیل کی حالت بھی دگرگوں نہ ہو تو بھی دل گلے پر اڑ اڑ سا لگتا ہے، ایران کی حالت پر تو پہلے سے امریکی مغربی اور ان کی ہمنوائی میں علاقائی میڈیا ایک بڑے تغیر کی خبر دے رہا تھا، لیکن اس سارے پس منظر میں جو سب سے زیادہ تعجب خیز اور ہنگامہ برپا کرنے والی حالت سامنے آئی یے وہ خلیج کے عرب ممالک کی ہے؛ جو بالکل ایک غیر متوقع حالت ہے اور ایسے حالات کا سامنا کبھی عرب کے وہم وگمان میں بھی نہیں گزرا ہوگا۔

در اصل اس جنگ میں امریکہ کو یہ یقین تھا یا پھر باور کرایا گیا تھا کہ ایران پر دو چار ہوائی حملے ایران کا ستیا ناس کرسکتا ہےـ لوگوں میں ایک بھگدڑ مچے گی، سب کے سب ایران سے نکلنے کا سوچیں گےـ سرحدات اور ائیرپوٹ پر ہنگامہ کھڑا ہوجائے گاـ ساتھ ہی اسرائیل کو یہ بھی یقین تھا اور اس کے یقین کے بھی دلائل موجود تھےـ چند ہی روز قبل ایران کی حالت نے اس کا پتہ از خود دیا تھا اور ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین ہر تشدد کی جو رپورٹیں سامنے آئی تھیں ان سب سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اسرائیل کو کیونکر یقین تھاـ

وہ یقین یہ تھا کہ جیسے ہی اسرائیل اور امریکہ ایران پر حملہ آور ہوں گے تو وہ مظاہرین جنہوں نے دو ماہ قبل ایران کی ناک میں دم کئے رکھا تھا اور ایرانی حکومت نے پھر چار وناچار کلہاڑی پھیر کر سب کے سر قلم کردئیے تھے، وہ سب کے سب پھر سے اٹھیں گے اور اسرائیل کے ہمنوا بن کر پھر سے ایران حکومت کو زچ کرتے رہیں گے اور چند ہی روز میں ایران کی موجودہ رجیم چینچ ہو کر نئی رجیم سامنے آئے گی۔

اسی مقصد کے لئے امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی وار میں ایران کے سب سے بڑے مذہبی لیڈر اور ایرانی رجیم کی سب سے طاقتور شخصیت خامنہ ای کو نشانہ بنا کر اسے راستہ ہٹادیا؛ وہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ موجودہ رجیم کا سب سے بڑا سہارا اور اسرائیلی امریکی منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی شخصیت ہےـ جیسے ہی راستے سے ہٹا دی جائے گی تو عوامی سمندر ان کے منصوبوں کو جلد ہی عملی جامہ پہنانے کے لئے امڈتا ہوا آگے بڑھے گاـ

لیکن حیرت کے شدید جھٹکے اسرائیل امریکہ سمیت پوری دنیا کو تب لگے جب حملے کے باوجود کوئی مظاہرہ ہوا اور نہ ہی کوئی غدار ملک وملت آگے بڑھاـ مرشد اعلی کے جانے سے دنیا کو خلاء محسوس ہونے کے بعد ایک اچھنبی حالت سے سامنا کرنا ہواـ جس شدت کی توقع وہ مرشد اعلی سے کررہی تھی مرشد اعلی کے جانے بعد شدت اس سے کئی گنا بڑھ گئی۔

اسرائیل اور امریکہ تو دو دنوں اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے دوران ہی رجیم کرکے اپنے مقاصد برآری کا اعلان کرنا چاہتے تھےـ لیکن آج دو ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہےـ اسرائیل وامریکہ کی زور آزمائی کے اکثر گر آزمائے جاچکے ہیں۔ عوامی مقامات سمیت ہر جگہ پر وحشی بمباری ہوچکی ہے، پر ایران میں کچھ بدلا ہی نہیں ہےـ جو بدلا ہے تو یہ کہ پہلے جو لوگ ایرانی نظام کے مخالف تھے اب اس کے دلدادہ ہوگئےـ

پہلے جو غداری سے کسی درجہ میں جی ہی جی میں خوش ہوجاتے تھے اب وہ بھی نفرت کرنے لگے ہیں، پہلے ایران صرف بالیسٹک میزائیل مارنے پر اکتفاء کرتا تھا مگر اب اس نے تباہی کی ایسی انواع واقسام کا انتخاب کیا ہے جس کا کبھی کسی گمان تک نہ تھاـ پہلے ایران کچھ سست قسم کا رد عمل دیتا تھا اور وہ بھی صرف اسرائیل تک اپنے میزائیلوں تک پہنچاتا تھاـ مگر اب اس نے پورے خطہ میں امریکہ کے اڈوں کا تماشا بنا کر رکھ دیا ہےـ ایک ایک اڈے کی ساری روشنیاں گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بدل دی ہیں، جس جس ملک میں امریکی سپاہیوں کا کوئی ٹھکانہ تھا اسے پورے جوش وخروش اور ایک ایک کرکے نشانہ پر لیا ہے اور خوب مارا ہےـ

دوسری طرف ایران نے خلیج سے پوری دنیا کو جانے والی برآمدات اور خاص کر تیل اور گیس کی راہیں مسدود کردیں، آبنائے ہرمز کو اپنی تحویل میں لے کر سرعام اعلان کردیا کہ جس نے بھی یہاں سے کشتی گزارنے کی جسارت کی اسے ہمیشہ کے لئے پانی میں ڈبودیا جائے گاـ جس سے پوری دنیا میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہےـ خطہ میں گیس اور تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھونی لگیں، یورپ تک اس کے اثرات پہنچےـ ایران نے اپنے میزائیلوں سے جہاں امریکی اڈوں اور سفارتوں کو زبردست نشانہ بنایا وہیں فضاء میں آنے جانے والے جنگی طیاروں اور ان جنگی طیاروں کو مدد پہنچانے والے طیاروں کو بھی نشانہ بنایاـ اب تک متعدد طیاروں کو تباہ کرچکا ہےـ مطلب اسرائیل اور امریکہ جس تبدیلی کے خواہاں تھے وہ تو اب تک سرانجام نہ دے سکے البتہ ایران نے ضرور ایک اودھم مچادی ہے جس سے مشرق ومغرب تک تبدیلی کے واضح اثرات آنے لگےـ

اس جنگ میں سب سے زیادہ جو اندوہناک حالت بنی ہے وہ ان عرب ممالک کی ہے جن میں پینتیس چالیس سال سے امریکہ کے اڈے موجود ہیں۔ ان اڈوں پر امریکہ نے اربوں ڈالر خرچہ کیا ہے جس کا اکثر حصہ عرب نے ہی دیا ہے اور ان اڈوں کا مقصد یہ تھا کہ امریکی سپاہی عرب کی حفاظت کریں گے، لیکن اب ایران روزانہ کی بنیاد پر ان اڈوں اور ان میں موجود امریکی سپاہیوں کو نشانہ بناتا ہےـ ماہرین کے بقول ایک میزائیل اسرائیل کو جاتا ہے تو چھ عرب ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ جس سے ان کی فضائی حریم بھی پامال ہوتی ہے اور ان کے رعب ودبدبہ اور امریکی سپاہ سے بنائی گئی قوت وشوکت کی بھی خوب درگت بنتی ہےـ

سعودیہ عربیہ کے طویل عرصہ تک وزارتِ خارجہ اور انٹیلی جنس چیف رہنے والی مشہور شخصیت ترکی الفیصل نے ان دنوں کئی انٹروہوز دئیے ہیں۔ جن میں وہ برملا اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں کہ جن امریکی سپاہ کی حفاظت کے آسرے عرب خوش تھے وہ آج درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان اڈوں نے نہ صرف یہ کہ ایرانی میزائیل کا رخ عرب کی طرف کردیا ہے بلکہ ابنائے ہرمز کی بندش میں بھی ان کا کلیدی کردار ہےـ عرب کا پورا دار ومدارِ حیات تیل اور گیس پر ہی ہے اور یہ تیل اور گیس جب باہر جانے کے لئے راستوں کی بندش کا سامنا کرے پھر تو ان کی بھی زندگی ٹھپ ہوجائے گی۔
سعودیہ کو بڑی خوشی تھی کہ چند سال سے مسلسل پائپ لائنوں کو بچھا کر وہ بحر احمر پہنچنے کے لئے پر تول رہا تھا لیکن اب ایران نے اشارے دینا شروع کردئیے ہیں کہ باب المندب بھی تو ایرانی حمایت یافتہ انصار اللہ تنظیم کے پاس ہی یمن میں سے گزرتا ہے؛ جسے چند ہی لمحوں میں بند کیا جاسکتا ہےـ اس لئے خلیج کے عرب ممالک کو اس صورتحال میں سخت پریشانی سے گزرنا پڑ رہا ہے اور وہ واقعی معنوں میں اب امریکی اڈوں کو ’’آ بیل مجھے مار‘‘ ہی سمجھ رہے ہیں۔

اس جنگ سے اب تک تو عارضی طور پر بہت سارا نقشہ عالم بدل چکا ہےـ تیل اور گیس کے بحران نے یورپ اور ایشیا کو یکساں طور پر ہلا کر رکھ دیا ہےـ میزائیل بھی ایران سے ہر سمت پرندوں کی طرح اڑتے اور علاقائی سطح پر ٹھیک امریکی اور اسرائیلی نشانوں پر جا بیٹھتے ہیں۔ لیکن اس جنگ کا دیرپا نتیجہ کیا ہوگا؟
اس پر ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ ایران کی جانب سے عرب ممالک کو نشانہ بنانا یا پھر ابنائے ہرمز کو بند کر کے یورپ کا دانہ پانی بند کردینا ہی اسی غرض کے لئے ہے تاکہ وہ امریکہ کو دباو میں لا کر اپنی مجبوریاں بتلا کر اسے جنگ بندی پر مجبور کرسکے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران امریکہ کو بہت آسانی سے بہت سستے داموں ٹریپ کررہا ہے، ایران کے مقابلہ میں امریکہ بہت کچھ کھو رہا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ جب تک امریکہ زمینی طور پر ایران میں گھس نہ جائے وہ کامیابی کا تصور تک نہیں کرسکتا لیکن زمین طور پر گھسنے کا تجربہ وہ تازہ تازہ چند سال پہلے افغانستان کر آیا یےـ جہاں اس کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک سمیت نیٹو کی طاقت بھی تھی۔
پھر بھی اسے شرمندگی ہی شرمندگی ہوئی، عرب ممالک کی آشیر آباد تھی ورنہ تو وہ دیوالیہ بننے کے قریب ہی رہ گیا تھاـ اس لئے وہ اب تنہا ہو کر ایران میں ایسا کرے گا نہیں۔ زیادہ سے زیادہ چند ہفتے لڑ کر پھر دم دبا کر بھاگ جائے گاـ البتہ اس لڑائی کا ایک بڑا اثر عرب خطے پر یہ ہوگا کہ وہ امریکہ سے جو مرعوب تھے اور ان کے اڈوں پر جو نازاں تھے وہ تاثر ایک طرح سے غلط ثابت ہوگا اور پھر یہ عرب پر منحصر ہے کہ وہ پھر بھی امریکہ اور اس کے اڈوں سے کیا تعامل کریں گےـ

Exit mobile version