تاریخ سیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کی ایک کھلی کتاب ہے جو واقعات اور مظاہر کے اندراج کے ساتھ ساتھ انسانوں کو اپنے عقائد پر نظرِ ثانی کرنے اور ان کی درستگی و حقیقت پر یقین کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مغرب، جو اپنی ٹیکنالوجی، سائنسی اور سیاسی ترقی کی روشنی میں خود کو مہذب اور ترقی یافتہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مشرقی ممالک، بالخصوص اسلامی ممالک کو اس سلسلے میں تقلید کی دعوت دیتا ہے، آج تاریخ کے ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔
مغربی ممالک اگر قرونِ وسطیٰ کے زاویے سے دیکھے جائیں تو وہ جہالت اور نادانی کے بہت تلخ تجربات سے گزرے ہیں، اور اپنی وحشت اور جہالت کو چھپانے کے لیے اسلامی ممالک کے سامنے اپنی موجودہ مادی ترقی کو ایک جدید امتیاز اور بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ کے نئے صفحات ان سب کو چیلنج کر چکے ہیں، جن میں سے چند کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔
انسان اور انسانی حقوق:
انسانی حقوق مغربی ممالک کا سب سے بڑا اور بظاہر خوبصورت نعرہ ہے جسے وہ مشرقی اسلامی ممالک کے سامنے بطور نمونہ پیش کرتے ہیں، لیکن گزشتہ تقریباً تیس برسوں میں متعدد ناجائز جنگوں میں ملوث ہونا، جن میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی اذیت دی گئی اور انسانی وقار کو پامال کیا گیا، اس اصول کو شدید بحران سے دوچار کر چکا ہے۔ افغانستان میں نیٹو کے فوجیوں نے حتیٰ کہ انسانوں کو کتوں سے نُچوایا اور عام شہریوں پر بڑے ہتھیار استعمال کیے، جن میں اچین میں استعمال ہونے والا “بموں کی ماں” نامی بم بھی شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایسے گروہوں کی مدد کی گئی جو کسی انسانی قدر کی پابند نہیں تھے۔
تمدن اور ثقافت:
مغرب سب سے پہلے بلند تمدن اور ثقافت کی بات کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس نے دنیا کو اس میدان میں بہترین مثالیں فراہم کی ہیں، لیکن وہ مظالم جو نیٹو کے فوجیوں اور انگریزوں نے امریکہ کے اشارے پر مقبوضہ ممالک میں انجام دیے، انہی ممالک کو بدترین ثقافت کا حامل ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے انسان کی خودکشی کے آلات تیار کیے، ہر ایک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، عورت عورت سے اور مرد مرد سے شادی کرتا ہے، حتیٰ کہ انسان کتے اور جانوروں سے بھی شادی کر سکتا ہے، جسے وہ اپنی ثقافت کا اعلیٰ مظہر سمجھتے ہیں۔
میڈیا اور اظہارِ رائے کی آزادی:
مغرب میں اکثر ذرائع ابلاغ حکومتوں اور فوجی اتحادوں کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے ایک دن بھی غزہ کے شہید بچے اور ایک بیوہ ماں کی تصویر کو مظلوم کے طور پر نشر نہیں کیا، لیکن اسرائیل اور دیگر امریکی و یورپی شہریوں کی عام ہلاکتوں کو انسانی جرائم کے عنوان سے نشر کیا۔ بہت سے ایسے افراد گرفتار یا قتل کیے گئے جنہوں نے حکومتی پالیسیوں اور ناجائز جنگوں پر تنقید کی، اسی لیے اظہارِ رائے اور میڈیا کی آزادی کو صرف توہین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
عام شہریوں کا تحفظ:
عراق، افغانستان، فلسطین اور دیگر کئی ممالک میں امریکہ اور مغربی ممالک کی بمباریوں میں ہزاروں عام شہری شہید ہو ئے۔ غزہ میں بھی اسرائیلی قابضین کی جاری بربریت کے دوران بے شمار عام شہری، عورتیں اور بچے، انسانی امداد کے قافلے اور زخمیوں سے بھرے ہسپتال بمباری کا نشانہ بنے اور قبرستانوں میں بدل گئے، لیکن انہوں نے کبھی اس کی مذمت نہیں کی بلکہ اسرائیلی وحشی فوجیوں کی حمایت جاری رکھی۔
ممالک کی آزادی اور خودمختاری کا احترام:
امریکہ کے پاس افغانستان اور عراق پر حملے کے لیے کوئی جواز نہیں تھا، یہ ایک ناجائز جنگ اور جارحیت تھی جس میں افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی اور ایک کٹھ پتلی حکومت کو مسلط کیا گیا، لیکن نیٹو اور اس سے باہر کے یورپی ممالک نے کبھی یہ معیار پیش نہیں کیا کہ وہ کس بنیاد پر کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور قابض اتحاد کا حصہ بنتے ہیں۔
زندگی اور تعلیم کا حق:
بہت سے یورپی ممالک نے اسلامی اقدار، خصوصاً حجاب اور اذان پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ مذہبی آزادی محض ایک نعرہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ تارکین وطن اور دیگر نسلوں کے افراد کو مقامی باشندوں کی طرح نہیں دیکھا جاتا اور ان کے زندگی اور تعلیم کے حقوق محدود کیے گئے ہیں۔
انسانی ہمدردی اور مظلوم کی حمایت:
وہ ادارے اور تنظیمیں جو انسانی حقوق، شہری سرگرمیوں، شخصی آزادیوں اور قوانین کے نفاذ کے نام پر مختلف ممالک میں کام کرتی ہیں، ان کا ایک نعرہ انسانی ہمدردی اور مظلوم کی حمایت ہے، لیکن یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ان میں سے اکثر ادارے مخصوص مقاصد کے لیے فنڈ کیے جاتے ہیں اور پوشیدہ اہداف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کبھی حقیقی ضرورت مندوں کی مدد نہیں کی بلکہ ہمیشہ انہیں تشہیری اور مہماتی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو پاؤں تلے روندنا: جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اقوامِ متحدہ کے قیام کا مقصد اور فلسفہ آج پہلے سے کہیں زیادہ شرمناک ناکامی اور بے بسی کا شکار ہے، اور آہستہ آہستہ یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ دنیا کے چند طاقتور ممالک کی ڈھال ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ناجائز مقاصد کو جواز فراہم کرتے ہیں تاکہ خود کو حق پر اور مہذب ظاہر کر سکیں۔ اسی لیے وہ اس ادارے کے اخراجات برداشت کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے فیصلے اس پر مسلط کرتے ہیں۔
مندرجہ بالا نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ مغربی اقدار کو اب فخر کا باعث نہیں بلکہ باعثِ شرم سمجھا جائے، اور اسلامی ممالک ان پرفریت نعروں سے دھوکہ نہ کھائیں بلکہ اپنے اصل اور اقدار کی طرف لوٹ آئیں، کیونکہ قرآنِ کریم کا فرمان ہے کہ جب تک ان کی پیروی نہ کی جائے، ان سے دوستی ممکن نہیں، جبکہ ان کی دوستی بھی غیر مستحکم اور فریب سے بھرپور ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف اسلام ہی تمدن اور ثقافت کا اصل سرچشمہ ہے اور انہی اقدار کو حقیقی معنوں میں فخر کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مغربی حکومتوں کے ان رسوا چہروں اور اقدار کو اٹل حقیقت نہیں بلکہ کھوکھلے دعوے سمجھا جائے، جنہیں وہ دیگر اقوام کو کمزور کرنے اور ان پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ خود نہ ان پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے ممالک میں ان پر عمل کرتے ہیں۔

