Site icon المرصاد

مغربی مفادات کا وفادار چہرہ!

معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی وفاداری کسی شخص، قوم یا نظام کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے مفادات اور ذاتی فائدے کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ ایسے لوگ کسی گروہ یا لیڈر کے سائے تلے زندگی گزارتے ہیں اور ہر وقت اس کے مفاد کی حفاظت کے لیے تیار رہتے ہیں، مگر ان کی یہ وفاداری اخلاق، انصاف اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

ایسے افراد اپنے آقا کے اشارے پر اپنا قلم، زبان اور طاقت اس کے دشمنوں کو کچلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے آقا کے مفادات کی خاطر جھوٹ، فریب اور بدعنوانی کو معمولی بات سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ آقا کی خوشنودی میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔ اگر آقا بدل جائے تو وہ فوراً اپنی وفاداری نئے آقا کی طرف منتقل کر دیتے ہیں، کیونکہ ان کی اصل وفاداری طاقت اور مفاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں میں ایسے لوگ سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، کیونکہ وہ نظام میں بدعنوانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ وہ نہ حق کا ساتھ دیتے ہیں، نہ انصاف کا، بلکہ صرف اپنے آقا کو خوش رکھنے اور اپنے مقام کو محفوظ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کی نمایاں مثال اس وقت وائٹ ہاؤس کا نیا-پرانا مہمان ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہے۔ جب ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس لوٹا تو عاصم منیر کو اس کی حکمتِ عملی کا سب سے وفادار نفاذ کرنے والا مقرر کیا گیا۔ حال ہی میں عاصم منیر کی وفاداری کی سب سے سفاک مثال 16 مارچ 2026ء کو کابل میں "امید” کے نامی نشہ کے عادی افراد کے علاج کے ایک ہسپتال پر حملہ تھا، جو دو ہزار بستروں پر مشتمل نشے کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا اور جہاں ملک کے مختلف علاقوں سے منشیات کے عادی افراد علاج کے لیے جمع کیے گئے تھے۔

رات گئے، جب مریض تراویح کی نماز کے بعد سونے کی تیاری کر رہے تھے، پاکستان کی فوجی رجیم کے جیٹ طیاروں نے اسی ہسپتال پر بمباری کی۔ وزارتِ صحت اور وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں کم از کم 408 بے گناہ افراد جاں بحق اور 265 زخمی ہوئے۔ حکومتی ترجمان مولوی ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کو "انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ "تمام تسلیم شدہ اصولوں کے خلاف اقدام” ہے۔

اسلام آباد نے کوشش کی کہ اس حملے کو "فوجی تنصیبات پر حملہ” قرار دیا جائے، حالانکہ ہسپتال کے اطراف میں کوئی فوجی مرکز موجود نہیں تھا۔ اس حملے کے حوالے سے مختلف عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وہاں خون میں لتھڑی لاشوں اور منہدم عمارتوں کے نیچے دبے بے گناہ لوگوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس تمام صورتِ حال میں سب سے دردناک حقیقت یہ ہے کہ عاصم منیر اپنے اس اقدام کے لیے مذہبی، قانونی اور اسٹریٹیجک توجیہ بھی پیش کرتا ہے۔ وہ اسے پاکستان کی سرزمین کے دفاع، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور پڑوسی ملک میں استحکام کی کوشش قرار دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام دلائل اس کی وفاداری کو چھپانے کے لیے بنائے گئے پردے ہیں۔ اس کی حقیقی وفاداری پاکستان کی سرزمین سے نہیں بلکہ ٹرمپ کے مفادات سے ہے۔

اسی طرح عاصم منیر نے پاکستان کو اپنے ہمسایوں کی نظر میں ایک غیر معتبر اور بیرونی احکامات پر عمل کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا ہے۔ عاصم منیر کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے آقا کے حکم پر بمباری تو کر رہا ہے، مگر یہ بم بالآخر اسی کے ملک (پاکستان) پر گریں گے۔ یہ حملے افغانستان کے عوام کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت کو مزید گہرا کریں گے، اور یہ نفرت صرف ان بموں کے ختم ہونے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ تاریخ کے طویل عرصے تک اس کی نسلوں کے خلاف باقی رہے گی۔

تاہم یہاں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ افغانستان نے کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا، بلکہ ہر حملہ آور کو عبرت کا نشان بنایا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں سکندر کے لشکروں سے لے کر برطانوی سلطنت، سوویت یونین کے فوجی حملے اور امریکہ کی طویل ترین جنگ تک، یہ سرزمین ایسا میدان رہی ہے جہاں ہر حملہ آور فرعون کی طرح غرق ہوا۔ اس دھرتی کا ہر ذرہ بہادری اور آزادی کی داستان سناتا ہے، ہر پہاڑ مزاحمت کی یادگار ہے، اور ہر پتھر ان شہیدوں کے خون سے رنگین ہے جنہوں نے اس سرزمین کی عزت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

اسی طرح موجودہ حاکم اسلامی نظام اللہ تعالیٰ کی مدد اور اپنے مومن مجاہد عوام کی حمایت سے اسلامی اور قومی اقدار کے تحفظ کا ایک ناقابلِ تسخیر مورچہ ہے۔ یہ مورچہ ان غلاموں کے مقابل کھڑا ہے جو بیرونی آقاؤں کے اشارے پر بے گناہ لوگوں پر حملے کرتے ہیں۔ یہ اسلامی نظام اپنی سرزمین کے ہر انچ کا دفاع کرتا ہے، اپنے عوام کی عزت کی حفاظت کو قومی فریضہ سمجھتا ہے، اور اسلامی شریعت و قومی اقدار کی حفاظت اس کے وجود کی بنیاد ہے۔

یہ حکومت ماضی کی ان کمزور حکومتوں کی طرح نہیں جو بیرونی دباؤ کے سامنے جھک جاتی تھیں۔ آج افغانستان ایک متحد، باوقار اور عوامی حمایت پر قائم نظام رکھتا ہے جسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی، اور جو اپنے عوام کے دفاع میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ اس کے سپاہی دن رات اپنی سرزمین کی حفاظت کرتے ہیں، اس کے ذمہ داران نے اپنی زندگیاں عوام کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہیں، اور اس کے عوام کی خواتین، بزرگ اور نوجوان، اس مضبوط مورچے کی پشت پر کھڑے ہیں۔ یہ محض ایک حکومت نہیں بلکہ ایک قوم کا عزم ہے، جس نے دہائیوں کی جنگ، ناانصافی اور بیرونی مداخلت کے بعد اپنے پاؤں اپنی سرزمین پر جما لیے ہیں۔

آخر میں، آج افغانستان اپنی تاریخ کے سب سے مضبوط، متحد اور ناقابلِ شکست مورچے کے طور پر کھڑا ہے اور اپنے عوام کی حمایت سے اپنے اسلامی اور قومی اقدار کے تحفظ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ اگر کوئی طاقت زبردستی اس مورچے کی طرف بڑھے گی تو اس کا انجام بھی ان جیسا ہوگا جو اس سے پہلے آئے اور اسی سرزمین پر اپنے غرور سمیت مٹ گئے، اور ان کے نام تاریخ کے صفحات میں عبرت کے طور پر ثبت ہو گئے۔

Exit mobile version