Site icon المرصاد

نسل‌ کشی، خیانت اور ظلم: پاکستانی فوجی رجیم کے گھناؤنے باب کا جائزہ!

چند روز قبل پاکستانی فوجی رجیم کے ترجمان نے جامعۃ الرشید کے طلبہ و اساتذہ کے ساتھ ہونے والی ایک نشست کو اپنی پریس ریلیز میں اس انداز سے بیان کیا کہ گویا مدرسے کے طلبہ نے ایک بار پھر فوج کی حمایت کا اعلان کردیا ہو۔ بظاہر یہ بات معمولی لگتی ہے، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی حکمران طبقہ ہمیشہ سے اپنے جرائم کو جائز ثابت کرنے کے لیے مذہبی لبادہ اوڑھنے والے افراد اور دنیا میں معروف شخصیات کے نام کا ناجائز استعمال کرتا آیا ہے، تاکہ اپنے سپاہیوں کو مذہبی نعروں کے ذریعے بے وقوف بنایا جائے۔

لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ لوگ جو خود کو اسلامی اقدار کے محافظ سمجھتے ہیں، ایسے نظام کا ساتھ دیں جس کی تاریخ معصوم انسانوں کے خون سے رنگین ہے؟ ایسا نظام جس کی سب سے بڑی پہچان اسلام سے غداری اور اس کے مقدسات کی بے حرمتی ہے؟

ہاں! پاکستان کے اس نظام نے اپنے سیاہ ماضی میں ایسی سیاہ کاریاں انجام دی ہیں جو نہ صرف اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ انسانی فطرت سے بھی متصادم ہیں، اور جن کے نشان قیامت تک اس کے ماتھے پر داغِ رسوائی بنے رہیں گے۔

اس فوجی رجیم کے جرائم، جن کا ذکر اس تحریر میں کرنا چاہتے ہیں، درج ذیل ہیں:
۱۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا خونی سانحہ (۲۰۰۷ء):
پاکستان کی معاصر تاریخ کی شرمناک ترین واقعات میں سے ایک، لال مسجد اور اسلام آباد کی جامعہ حفصہ کا محاصرہ اور فوجی یلغار ہے۔ اُس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف نے ۳ سے ۱۱ جولائی تک جامعہ حفصہ کو محاصرے میں رکھا، اور بالآخر فوج کے خصوصی دستوں نے نہایت بے دردی سے مسجد اور مدرسے پر حملہ کیا۔ اس سانحے میں جامعہ کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی سمیت ایک سو سے زیادہ افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

۲۔ عافیہ صدیقی سے غداری:
ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک باعمل اور عالمہ مسلمان خاتون کو پاکستانی فوج نے اپنے بچوں سمیت ۲۰۰۳ء میں اغوا کرکے امریکی افواج کے حوالے کیا۔ پاکستانی ریاست نے نہ صرف ان کی حفاظت اور رہائی کے لیے کوئی موثر قدم نہ اٹھایا بلکہ ان کی گرفتاری اور خفیہ منتقلی میں تعاون بھی کیا۔ اس مظلوم خاتون پر برسوں ہونے والے تشدد اور اذیت کے باوجود، حکومتی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رہے۔

۳۔ تحریک لبیک کو کچلنا:
تحریک لبیک، جس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے تحفظ کے لیے رکھی گئی تھی، اور جو اس مقصد کے لیے وقتاً فوقتاً احتجاج کرتی رہی، اسے بھی بارہا ریاستی جبر، گرفتاریوں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ چند مہینوں میں اسرائیل مخالف اور فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران، پاکستانی حکومت نے — صہیونی ریاست سے اپنے پسِ پردہ تعلقات کے باعث — اس جماعت پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت پابندی عائد کردی اور اس کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی کے فورتھ شیڈول نامی قانون کے تحت قید کررکھا ہے۔

۴۔ ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا قتلِ عام:
یہ سانحہ، جو بنگالی نسل کشی کے نام سے معروف ہے، بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے دوران پیش آیا۔ مغربی پاکستان(موجودہ پاکستان) کی فوج نے ۲۶ مارچ کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے آزادی پسند عوام کو دبانے کے لیے فوجی کارروائی شروع کی۔ اس کے نتیجے میں تقریباً تین لاکھ سے لے کر تیس لاکھ تک بنگالی شہری قتل کیے گیے، جن میں اکثریت مسلمان تھی؛ دو لاکھ سے زائد خواتین کی عصمت دری کی گئی اور تقریباً ایک کروڑ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو کر بھارت چلے گئے۔

یہ جرائم اُن مظالم سے مشابہت رکھتے ہیں جو آج غزہ میں صہیونی ریاست کے ہاتھوں رونما ہو رہے ہیں بلکہ کئی لحاظ سے اس سے بھی بڑھ کرہیں، جبکہ حیرت انگیز طور پر یہ ناپاک رجیم خود کو مسلمان کہلواتا ہے اور اپنی رسوائی چھپانے کے لیے چند نام نہاد علماء کی حمایت کے بیانات جاری کرتا ہے۔

۵۔ ٹرمپ کی تجویز کی تائید کرکے فلسطینیوں سے غداری:
پاکستانی حکومت نے صرف انہی مظالم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حالیہ معاملے میں شہباز شریف کی قیادت میں، ٹرمپ کی پیش کردہ دو ریاستی حل کی تجویز کی حمایت بھی کر ڈالی، اور اسرائیلی تسلط کو مضبوط کرنے والے اس منصوبے کو مثبت قدم قرار دیا۔ حالانکہ یہی تائید عوام کی بڑی تعداد کے نزدیک فلسطینی قوم سے کھلی غداری اور صہیونی ریاست و امریکہ کے مفادات سے ہم آہنگی کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ کچھ لوگ، جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر خود کو دینی اقدار کے محافظ ظاہر کرتے ہیں، ایسے نظام کے سامنے خاموش رہیں یا کھلے عام اس کی حمایت کریں؛ ایک ایسا رجیم جو نہ صرف بے گناہوں کا خون بہا چکا ہے، بلکہ اپنی ناپاک پالیسیوں اور ظلم و جبر کے ذریعے اسلام کے شعائر کی بھی توہین کر چکا ہے؟

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو لوگ شریعت اور انصاف کے پاسبان ہونے چاہییں، وہی جرائم کو جائز قرار دینے کا ذریعہ بن جائیں اور اپنے تائیدی بیانات سے اس ناپاک فوجی رجیم کی سیاہ کاریوں پر مہرِ تصدیق ثبت کریں؟

یوں بات واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا کی مشہور شخصیات کی طرف سے ملنے والی یہ حمایت نہ ایمان کی علامت ہے اور نہ دین کی خدمت، بلکہ محض پاکستان کے اس جابر و ظالم رجیم کو اخلاقی جواز دینے کی کوشش ہے۔ حقیقی اسلام ظلم و جبر سے کوئی نسبت نہیں رکھتا، اور جو لوگ دین کے نام پر ان مظالم کی حمایت کرتے ہیں، وہ دراصل عدل و انسانیت کے خلاف کھڑے ہیں۔

Exit mobile version