Site icon المرصاد

نمک حرام فوج؛ جس نے احسان کے بدلے ہمیں قتل کیا!

رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں آ پہنچی تھیں؛ رحمت، مغفرت اور برکت کا مہینہ؛ وہ مہینہ جس کی فضا سکون، نرمی اور دلوں کی صفائی سے معطر ہوتی ہے۔ افغان قوم کے دل بارگاہِ الٰہی میں جھکے ہوئے تھے، اور اسی مقدس مہینے کی برکت سے انہوں نے اپنے دشمن پر بھی مہربانی کا ہاتھ رکھا۔ امارتِ اسلامی نے رمضان کے احترام میں گزشتہ سال سرحدی جھڑپوں کے دوران گرفتار کیے گئے تین پاکستانی فوجیوں کو کشادہ دلی کے ساتھ رہا کر دیا۔

یہ اقدام محض ایک قدم نہیں تھا، بلکہ افغان عوام کی جانب سے ایک عظیم احسان اور واضح پیغام تھا؛ کہ ہم امن، اخوت اور اسلامی اخلاق کے علمبردار ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ رمضان زحمت کے بجائے رحمت کا مہینہ بنے۔ مگر ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ نمک حرام پاکستانی فوج نے اپنی فضائی قوت کو حرکت میں لاتے ہوئے اسی مظلوم قوم پر، جس نے رمضان میں اس پر احسان کیا تھا، وحشیانہ بمباری شروع کر دی۔

ننگرہار میں ایک پورا خاندان، خواتین اور بچوں سمیت، مٹی میں ملا دیا گیا؛ صرف دو افراد زندہ بچ سکے۔ پکتیکا میں ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ کے مبارک کلام کے اوراق کو پارہ پارہ کر دیا گیا؛ بالکل اسی طرح جیسے صہیونی فوجی غزہ میں مساجد اور مقدس مقامات کو نشانہ بناتے ہیں۔

کیا یہی احسان کا بدلہ ہے؟ کیا یہی تمہاری مسلمانی اور ہمسائیگی ہے؟ ہرگز نہیں! یہ نہ اسلام ہے اور نہ ہمسائیگی—بلکہ یہ اسلام اور انسانیت کے خلاف کھلی دشمنی ہے، جہاں نیکی کا جواب ظلم سے دیا جاتا ہے۔

امارتِ اسلامیہ نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ پاکستانی فوجی رجیم نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، مگر یہ بزدل فوج اب بھی انکار کی راہ پر ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن یونما نے بھی تصدیق کی کہ ان فضائی حملوں میں شہریوں کو جانی نقصان پہنچا ہے۔ مزید برآں الجزیرہ نے متاثرہ علاقوں سے مستند رپورٹس نشر کیں، جس کے بعد پاکستان نے اپنے ملک میں اس چینل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی۔ افغانستان کی وزارتِ دفاع نے ان حملوں کو ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے مناسب وقت پر حساب شدہ جواب دینے کا عندیہ دیا۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن یونما نے بھی اس امر کی تصدیق کی کہ پاکستان کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کو جانی نقصان پہنچا۔ حتیٰ کہ الجزیرہ نے متاثرہ علاقوں سے چشم دید اور مستند رپورٹس نشر کیں، جس کے ردِعمل میں پاکستان نے اپنے ملک میں اس چینل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی۔ افغانستان کی وزارتِ دفاع نے ان حملوں کو ملکی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے ’’مناسب وقت پر حساب شدہ جواب‘‘ دینے کا عندیہ دیا۔

بس پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ امارتِ اسلامیہ کے پُرجوش نوجوانوں کو اپنے ملت کے انتقام لینے کا حکم دیا گیا۔ سرحدی مجاہدین فرضی سرحد کی پوری پٹی پر موجود اس نمک‌ حرام فوج کی چوکیوں اور مراکز پر یوں ٹوٹ پڑے جیسے ابابیلوں کا جھرمٹ، اور چند گھنٹوں کی جھڑپ میں دشمن کی صفیں تہس نہس کر دیں۔ درجنوں فوجی مارے گئے، متعدد چوکیوں، کیمپوں اور سازوسامان کو تباہ کر دیا گیا، اور ہلاک و زندہ قیدیوں کو بھی اپنے ساتھ اس پار لے آئے۔

مگر جب اس احسان فراموش فوج نے پھر سرکشی دکھائی اور ایک بار پھر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں شہری آبادیوں پر اندھی بمباری کی، حتیٰ کہ دارالحکومت کابل کو بھی نشانہ بنایا، تو افغان غیرت مند قوتوں نے خاموشی سے اپنے ’’ابابیل‘‘ مارگلہ کی پہاڑیوں تک پہنچا دیے اور وہاں پاکستان کے قلب میں واقع فوجی و حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ نہ صرف اسلام آباد بلکہ صوابی، ایبٹ آباد، نوشہرہ، جمرود، وزیرستان اور کوئٹہ میں بھی ان کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا؛ گویا دارالحکومت کے بدلے دارالحکومت، اور دیگر مقامات کے بدلے دیگر شہر و فوج تنصیبات۔

اس کرائے کی فوج نے افغان قوتوں کو کمزور سمجھا تھا، مگر جواب ان کی توقع سے کہیں زیادہ شدید اور دندان شکن ثابت ہوا۔ اب افغان قوم کے ہاتھ ان کے گریبان تک پہنچ چکے ہیں، اور ہر وار کا جواب کئی گنا شدت سے دیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکی منصوبوں کے نمائندے عاصم منیر یہ گستاخی کرتے ہیں کہ:
’’جب کسی ایک پاکستانی کی سلامتی اور تحفظ کا سوال اٹھے، تو پورا افغانستان قابلِ نفرین ٹھہرایا جائے گا۔‘‘

یا اس طرح توہین آمیز جملے کہتے ہیں کہ:
’’ایک پاکستانی کی جان پورے افغانستان سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘

تو امارتِ اسلامیہ کے ہر چھوٹے بڑے مجاہد کے نزدیک ایک افغان کا ایک بال بھی ان کے سینکڑوں بھگوڑے سپاہیوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ اگر ماضی میں ہمارے بڑوں نے ایک مہاجر بھائی کے لیے اپنا تخت و تاج قربان کیا تھا، تو اے نورعالم! تم تو ہماری اپنی سرزمین کے بیٹے ہو؛ تمہارے ایک آنسو کے بدلے ہم اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی تک کو آگ میں جھونکنے کے لیے تیار ہیں۔

افغان قوم، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی جانب سے خفیہ، فوجی اور معاشی جارحیت کا نشانہ بنتی رہی ہے، اب اس کا ٹوٹ چکا ہے۔ مگر یہ دل اب صرف روئے گا نہیں؛ یہ انتقام کی آگ کو بھڑکائے گا۔ وہی قوتیں جنہوں نے رمضان کی برکت سے دشمن پر رحم کیا تھا، اب اسی دشمن کے ظلم کے جواب میں اپنے مظلوم عوام کے خون کا حساب لینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

Exit mobile version