پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے علاقے وادی تیراہ میں فوج کے کہنے پر مقامی رہائشیوں کی جبری نقل مکانی محض ایک سکیورٹی آپریشن نہیں، بلکہ پاکستان میں طاقت کے اصل مراکز، مفادات کی سیاست اور اختلاف کرنے والوں کو کچلنے کی ایک واضح مثال بنتی جا رہی ہے۔
چند ہفتے قبل پاکستانی فوج نے وادی تیراہ میں تحریک طالبان پاکستان کی نام نہاد موجودگی کو جواز بنا کر فوجی آپریشن کا عندیہ دیا اور مقامی آبادی کو جنوری کے اختتام تک علاقہ خالی کرنے کے دھمکی آمیز پیغامات ملنے لگے۔
نتیجتا ہزاروں لوگ شدید سردی میں اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اسی دوران برف باری شروع ہو گئی، راستے بند ہو گئے، گاڑیاں پھنس گئیں اور مصدقہ ویڈیو رپورٹس کے مطابق سردی، بھوک اور بنیادی سہولیات کی عدمِ دستیابی کے باعث کئی معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے۔
یہ المیہ اس قدر سنگین تھا کہ بشمول الجزیرہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اسے سانحے کو رپورٹ کیا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی فوج پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا دہشت گردی کے نام پر ایک پوری آبادی کو اجتماعی سزا دینا کون سی پیشہ ورانہ فوج کا کارنامہ ہو سکتا ہے؟
دنیا بھر میں تنقید بڑھتے ہی فوج نے یوٹرن لے لیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اہلِ علاقہ کو نقل مکانی کا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ فوج کے اپنے سابقہ بیانات، ریکارڈ پر موجود DGISPR کی پریس کانفرنسیں، میڈیا رپورٹس اور سرکاری ریکارڈ فوج کے اس دعوے کی نفی کرتے ہیں، جن میں آپریشن کے واضح اعلانات موجود ہیں۔
اسی مرحلے پر پاکستان بھر کے سنجیدہ و فہمیدہ حلقوں سمیت خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت، بالخصوص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس آپریشن کی مخالفت کی ہے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف نہ صرف انسانی ہے، بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بھی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سال 2007 کے بعد سے فوج درجنوں فوجی آپریشن کر چکی ہے، مگر نہ امن آیا اور نہ ہی نام نہاد دہشت گردی ختم ہوئی۔ اب وادی تیراہ کے اعلان کردہ فوجی آپریشن سے ایک بار پھر وہی پالیسی اور وہی نتائج پاکستان کو دیکھنا پڑیں گے۔ اس بار شدید سردی میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر کرنے سے جنم لینے والے ممکنه انسانی بحران کا خطرہ بھی درپیش ہے۔
اسی اختلافِ رائے کو فوج نے اپنے لیے اَنا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ جب صوبائی حکومت نے فوج کے غیر سنجیدہ مؤقف پر منطقی سوال اٹھایا اور فوج کی جانب سے اپنے ہی بیان سے مُکرنے کا الزام لگایا تو پرو فوج طاقت وَر حلقوں نے فوج ہی کی پشت پناہی کی بنیاد پر خیبر پختون خوا حکومت کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔
پرو فوج میڈیا، وفاقی ادارے اور مخصوص بیانیہ ساز عناصر یک زبان ہو گئے ہیں کہ ‘صوبائی حکومت ریاستی اداروں (یعنی فوج) کو بدنام کر رہی ہے۔
اسی دوران اچانک اسلام آباد کی ایک عدالت کے ذریعے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف سائبر کرائم کے الزام میں ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔
یہ محض اتفاق نہیں ہے… واقفانِ حال کے مطابق یہ کارروائی اس پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت فوج اپنے مفادات، معاشی سرگرمیوں اور بدنام تجارتی منصوبوں کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تہس نہس کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس کا نقصان پاکستان سمیت بجائے خود فوج کی ساکھ اور اہمیت کو بھی پہنچتا ہے۔ البتہ فوج اپنی اس سیاہ غلطی کو یہ کہہ کر سفید کرتی ہے کہ ’’وہ یہ سب عوام کے مفاد میں کر رہی ہے۔‘‘
جب کہ دوسری طرف وادی تیراہ کے عوام سردی اور برف باری میں جیسی اذیت سے گزر رہے ہیں، اس سانحے نے پاکستان میں غزہ جیسے المیے کو جنم دے دیا ہے۔
فوج پر لگنے والا یہ ایسا الزام ہے، جو ماضی میں بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سامنے آتا رہا ہے کہ فوجی آپریشنز بعض علاقوں میں صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کے پسِ پردہ معاشی اور معدنی مفادات بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وادی تیراہ معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور مقامی آبادی کو ہٹا کر ان وسائل کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھ کر نکالنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
ایسے میں صوبائی حکومت، جو خود اس خطے کی نمائندہ ہے، فطری طور پر اس آپریشن کی مخالفت کرتی ہے۔ چناں چہ پاکستان کے سنجیدہ حلقوں کے نزدیک سہیل آفریدی کی گرفتاری کی کوشش دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ: ’’جو بھی فوجی پالیسی، مفادات، تجارت، معدنیات یا بیانیے کے راستے میں کھڑا ہوگا، اسے عدالت، مقدمے اور طاقت کے ذریعے خاموش کرا دیا جائے گا۔‘‘
پاکستان میں فوجی کردار کا یہ معاملہ اب صرف وادی تیراہ یا ایک وزیراعلیٰ تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ پوری دنیا میں گونجتا سوال بن چکا ہے کہ ‘کیا پاکستان میں منتخب صوبائی حکومتیں بھی اس حد تک بے اختیار ہیں کہ وہ انسانی بحران پر آواز اٹھانے کی بھی قیمت ادا کریں؟
وادی تیراہ کے برف پوش راستوں میں پھنسے بچے، بے گھر خاندان اور اب ایک منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف گرفتاری جیسے ایک ہی تسلسل کے واقعات سب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں۔
ایک ایسی کہانی… جس میں فوجی طاقت سچ سے زیادہ بلند آواز رکھتی ہے اور عسکری مفاد انسان سے زیادہ قیمتی سمجھا جا رہا ہے۔

