یہ واقعہ آج سے تقریباً آٹھ دہائیاں پہلے کا ہے، جب برطانوی افواج نے متحدہ ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصہ بھارت جبکہ دوسرا پاکستان اور بنگال کے نام سے موسوم ہوا۔ مسلم اکثریت والے علاقوں کے بارے میں فیصلہ یہ تھا کہ وہ پاکستان کے حوالے کیے جائیں گے، جن میں کشمیر بھی شامل تھا۔
لیکن جب دونوں فریق اپنی اپنی زمینوں کے حصول کے لیے آگے بڑھے اور سرحدوں کی تقسیم کا مسئلہ زیرِ بحث آیا، تو بھارت نے کھل کر کشمیر کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ کبھی بھی کشمیر پاکستان کو نہیں دے گا۔
یہ تنازعہ تقریباً ایک سال تک جاری رہا۔ بالآخر یہ طے پایا کہ کشمیر کا فیصلہ طاقت کے ذریعے ہوگا اور جنگ ہی آخری فیصلہ کرے گی۔ اسی بنا پر اس وقت پاکستان کے قائد محمد علی جناح نے فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ کشمیر پر حملہ کرے اور فوج کو ہدایت دے کہ فوری جنگ کے ذریعے اس کا مستقبل طے کرے۔ مگر محمد علی جناح اس وقت حیران رہ گئے جب جنرل گریسی نے کھلے عام اس حکم کو مسترد کر دیا اور کہا کہ فوج ہرگز کشمیر کے محاذ پر نہیں جائے گی۔
جنرل گریسی چونکہ برطانوی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور اس وقت پاکستان کے پاس کوئی منظم مسلم کمانڈر نہیں تھا، اس لیے فوج کی کمان بھی انہی برطانوی افسران کے پاس تھی۔ جنرل گریسی اسی سلسلے کا دوسرا سربراہ تھا جس نے پاکستانی فوج کی سربراہی سنبھالی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ جنرل گریسی نے پاکستان کے بانی اور اس وقت کے سب سے بڑے حاکم کا حکم کیوں نہیں مانا؟ اس بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، مگر خود جنرل گریسی کے مطابق خلاصہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک بھارت کے ہندوؤں سے زیادہ پاکستان کو افغانستان کے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی بڑھانی چاہیے۔ اسی لیے اس نے دلائل دے کر محمد علی جناح کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ یہ واضح نہیں کہ جناح نے یہ بات مانی یا نہیں، لیکن وہ بلاشبہ فوج کے سامنے کسی حد تک بے بس ضرور تھے۔
جنرل گریسی نے تین سال تک مسلسل پاکستانی فوج کی تربیت کی، اور اس دوران اس کی سب سے بڑی کوشش یہ رہی کہ فوجیوں کے دلوں میں افغان مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جائے۔ وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا اور پھر ریٹائر ہو گیا۔ برطانوی افواج، جو دنیا پر قبضہ کرنے نکلی تھیں اور کئی جگہ کامیاب بھی ہوئیں، افغانستان میں مسلسل شکستوں سے دوچار ہوئیں اور ذلت آمیز ناکامیاں اٹھائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی بار برطانوی فوجیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور ایک بھی زندہ نہ بچا جو واقعہ بیان کر سکے۔
اسی لیے یہ فطری بات تھی کہ برطانیہ افغانستان سے گہری دشمنی رکھتا تھا۔ اس دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے اس نے مختلف منصوبے اور خطرناک تدابیر اختیار کیں، جو تاریخ میں درج ہیں۔ ان میں سے ایک اہم منصوبہ یہ تھا کہ پاکستانی فوج کو یہ باور کرایا جائے کہ اس کا ازلی دشمن بھارت نہیں بلکہ افغانستان کے مسلمان ہیں، تاکہ وہ ہمیشہ افغان مسلمانوں سے برسرِ پیکار رہے اور یہ دشمنی اس کی فطرت کا حصہ بن جائے۔
جنرل گریسی کی دی ہوئی تربیت اور ان کے دلوں میں کافروں اور مشرکوں کے مقابل مسلمانوں کے خلاف پیدا کی گئی نفرت اور گہرے بغض و دشمنی کا اظہار نہ صرف افغان مسلمانوں کے خلاف بلکہ پاکستان کے مظلوم مسلمانوں کے خلاف بھی شدت سے ہوا۔ کشمیر آج تک ہندوؤں سے آزاد نہ ہو سکا، لیکن قلات اور سوات جیسے مسلم ریاستوں پر، جن کے ساتھ محمد علی جناح کے معاہدے بھی تھے، اسی فوج نے حملے کیے۔ معاہدوں کو پیروں تلے روند ڈالا گیا اور بمباری کے ذریعے ہر اس شخص کو نشانہ بنایا گیا جو اپنے حق کا مطالبہ کرتا تھا یا اس فوج کو مسلمان بھائی سمجھتا تھا۔
قلات کے خان خاندان کو معافی کا لالچ دے کر پہاڑوں سے نیچے لایا گیا، مگر بعد میں ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا اور وعدوں کے خلاف انہی اتنی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا کہ ایسا سلوک جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ اس فوج کی فطرت میں چونکہ مسلمانوں کے خلاف دشمنی شامل تھی، اس لیے دنیا میں جہاں بھی موقع ملا، اس نے مسلمانوں کا خون بہانے سے دریغ نہیں کیا۔
فلسطین کے مظلوم مسلمان، جو اس فوج کو ایک طاقتور اسلامی فوج سمجھتے تھے، اسی کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے گئے۔ آج بھی بہت سے فلسطینی اپنے دل میں یہود کے ظلم سے بھی زیادہ اس غدار فوج کے حملوں کو یاد رکھتے ہیں۔
روس کے خلاف جنگ میں شامل عالمِ عرب سے آئے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مجاہدین کو یقین تھا کہ اگر دنیا ان کا ساتھ چھوڑ دے تب بھی پاکستانی فوج ان کی مدد کرے گی۔ جب امریکہ نے بے جا ان عرب باشندوں سے دشمنی کی اور دونوں ایک دوسرے کے مد مقابل آ گئے تو ان مجاہدین کی امیدیں پھر بھی اسی پاکستانی فوج سے وابستہ تھیں، لیکن وہ اس وقت حیران اور بے بس رہ گئے جب اسی فوج نے امریکی خواہش سے پہلے ہی ایک ایک کر کے انہیں نشانہ بنایا۔ کچھ کو شہید کر دیا اور کچھ کو زندہ گرفتار کر کے امریکہ کے حولاے کر دیا تاکہ مسلمان دشمنی کا واضح ثبوت پیش کر سکے۔
یہ مسلمان دشمنی، جو پہلے فطرت کا حصہ تھی، اب عادت بن چکی ہے۔ عرب، فلسطینی، بنگالی، برمی یا افغان، کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ پھر اس نے اپنے ہی ملک کے مسلمانوں کی جانب اپنی توپوں کا رخ موڑ لیا۔ کراچی سے پشاور، کوئٹہ سے اسلام آباد تک، ہر جگہ اپنے مسلمان بھائیوں کو گرفتار کر کے “اصل مسلمانوں” کے نام پر امریکہ کے حوالے کر کے ایک طرف امریکہ سے ڈالر وصول کیے تو دوسری طرف اپنے دل کی بھڑاس بھی نکالتے رہے۔
جب امریکہ کے حوالے کیے جانے والوں کی تعداد بڑھ گئی اور امریکہ نے مزید قیدی لینے سے انکار کیا تو اسی فوج نے اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بنایا۔ بلوچستان کے لوگوں کو خون میں نہلا دیا، گھروں اور بستیوں کا محاصرہ ہوا، فضائی حملے کیے گئے اور بوڑھوں اور بچوں سمیت کوئی بھی محفوظ نہ رہا۔ پورے خیبر پختونخوا میں گھروں پر چھاپے مارے گئے اور ہر بار ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہوئیں۔ سندھ، خاص طور پر کراچی میں، لوگوں کو مختلف الزامات جیسے “القاعدہ” اور “لشکر جھنگوی” سے تعلق کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا، ہزاروں کو لاپتہ کیا گیا یا جیلوں میں اس طرح ڈالا گیا کہ ان کی زندگی جہنم بن کر رہ گئی۔
پنجاب میں پولیس کے ذریعے خفیہ قتل شروع ہوئے اور امت کے ہزاروں مسلمان نوجوانوں اور بزرگوں معاشرے کے مختلف طبقات کے ہزاروں افراد کو قتل کر کے ختم کر دیا گیا۔ وہ فوج جس کی تربیت مسلمانوں کے خون کی پیاس پر ہوئی ہو، آج تک اسی راستے پر چل رہی ہے۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ طویل عرصے سے اسے کوئی بہانہ نہیں مل پا رہا تھا۔
بالآخر جب یہود اور ان کے مغربی حامیوں نے فلسطینی مجاہدین کو کچلنے کا فیصلہ کیا تو اس فوج کی پرانی خواہش پوری ہوئی۔ پہلے تو اس نے خود کو ان کے سامنے پیش کیا کہ مسلمانوں کا خون بہانے کا مظاہرہ کر سکے لیکن چونکہ اس میں وقت لگ رہا تھا اس لیے دوسری راہ تلاش کی۔
اسی دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بگرام اڈے اور افغانستان میں باقی رہ جانے والے ہتھیار اہم مسئلہ تھے، جس کے باعث اس فوج نے افغان مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں اور مختلف حملے شروع کر دیے تاکہ اپنا مقصد واضح کر دے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ اس سے بھی اس کی خون کی پیاس نہیں بھجی تھی ۔ آخر کار ایک حساس وقت کا انتخاب کیا۔ رمضان کا مہینہ چنا اور پھر اسی مہٰںے میں شب قدر کی مبارک راتوں کے قریب کا وقت منتخب کیا۔ اور ان راتوں میں سے ایک مخصوص رات کا انتخاب کیا اور کابل پر حملے کر دیے۔
ان حملوں میں ان بے گناہ اور بے بس لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے طویل مشکلات کے بعد زندگی کی کچھ امید پائی تھی اور جن کا کسی سے کوئی جھگڑا نہ تھا۔۔ رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ حملے ایسے ہتھیاروں سے کیے گئے جنہوں نے ہر چیز کو آگ میں بھسم کر دیا، اور یہ آگ مزید خونریزی کو جنم دیتی ہے، یہی آگ مسلمان دشمنی کی حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے، اور اسی کے ذریعے اس دشمن قوت کے دل ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس نے یہ بھیانک کام سرانجام دیا۔
جو لوگ ان واقعات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ۱۸ مارچ کو پاکستان کے کچھ سیاسی تجزیہ نگاروں نے تاریخی اعتبار سے یہ بات واضح کی تھی کہ کئی دہائیاں قبل بھی یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ کابل ہمیشہ جلتا رہنا چاہیے۔ بعد میں جو کچھ ہوا وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
مگر یہ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ طاقت جس کے مزاج میں مسلمان دشمنی ہو جس کی بنیاد مسلمانوں کے خون پر قائم کی گئی ہو اور جس کی رگوں میں ظلم دوڑتا ہو، اس سے رحم کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ جس نے نہ فلسطینیوں پر رحم کیا، نہ عرب مسلمانوں پر، نہ بلوچستان کے مسلمانوں کے خون کو پاک سمجھا اور نہ ہی پشتونوں، پنجابیوں اور سندھیوں کے نا حق قتل سے ہاتھ روکا۔
جو فوج بیس سال تک غیر ملکی افواج کو افغان مسلمانوں کے خلاف اڈے فراہم کرتی رہی اور ہزاروں حملوں میں شریک رہی، اس کے لیے یہ کوئی مشکل بات ہے کہ ایک ہی لمحے میں سینکڑوں افراد کو نشانہ بنا دے؟
اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا!

