Site icon المرصاد

پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

پاکستان، جس کی آبادی دو سو ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور جس کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے، بعض ناقدین کے نزدیک ایسا خطہ بن گیا ہے جہاں اسلام اور مسلمانوں کے فکری تصورات میں تحریف کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے ابتدائی زمانے سے ایک طویل عرصے تک اسے محض فکری محاذ پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا، مگر اب یہ دائرہ وسیع ہو کر عسکری میدان تک بھی پہنچ چکا ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک ہے جہاں قادیانیت کے نام سے ایک نیا دین سامنے آیا۔ اس نظریے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ نبوت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، حالانکہ دنیا بھر کے مسلمان خواہ اہلِ سنت ہوں یا اہلِ تشیع اس امر پر متفق ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ناقدین کے مطابق، اس فکر کو فروغ دے کر مسلمانوں کے عقائد میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح، حدیثِ نبویﷺ، جس کا احترام ہمیشہ سے مسلمانوں کے ہاں مسلم رہا ہے، اس کے بارے میں بھی مسلمانوں میں شکوک وشبہات پیدا کیے گئے۔ پاکستان میں غلام احمد پرویز نامی ایک شخصیت سامنے آئی، جس نے احادیث کی حیثیت کو چیلنج کیا اور ان پر تنقیدی انداز اختیار کیا، جس کا مقصد مسلمانوں کو سنتِ نبوی سے دور کرنا تھا اور یوں دینی بنیادوں کو کمزور کرنا تھا۔

اس کے علاوہ ایک اور نام، جاوید احمد غامدی کا ہے، جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے احادیث کے حوالے سے ایسے سوالات اٹھائے جن سے مسلمانوں کے اذہان میں شکوک پیدا ہوئے۔ اگر تحقیقی انداز سے دیکھ اجائے تو حدیث کی تنقیص اور اس کی اہمیت کم کرنے کی کوششیں جس شدت سے پاکستان میں ہوئیں، وہ براہِ راست کہیں اور کم ہی دیکھنے میں آئیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے تمام گمراہ جماعتوں کی حفاظت پاکستانی فوج کی جانب سے کی جاتی ہے۔

اسی طرح، آغا خان سے منسوب جماعت کا مرکز بھی پاکستان کو قرار دیا جاتا ہے۔ بعض حلقوں کے نزدیک، پاکستان میں مختلف مذہبی و فکری گروہوں کی کثرت جیسے قادیانی، آغاخانی، غامدی، پرویزی، بریلوی، سیفی، وہابی وغیرہ سے متعلق فوج کی کوشش رہی ہے کہ ان جماعتوں کی آپس میں اختلافات کو ہوا دی جائے اور پھر یہی اختلافات عالم اسلام کے دیگر ملکوں میں منتقل ہوں۔
دین کے نام پر ہر گمراہی، اس کی عملی شکل سب سے پہلے پاکستان میں سامنے آتی ہے۔

اسی طرح، کفار نے یہ دکھانے کے لیے کہ اسلامی ملکوں میں خالص انگریزی قانون نافذ کیا جا سکتا ہے، پاکستان کو پیش کیا۔ اس کے تمام قوانین کو کفری بنا دیا گیا اور اس کا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ رکھ دیا گیا۔

پاکستان پہلا اسلامی ملک بن گیا جس میں مرد مرد سے اور عورت عورت سے شادی کر سکتی ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی غیر اسلامی اعمال انجام پاتے ہیں، لیکن پاکستان کے اقدامات اس لیے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں کہ وہ انہی غیر اسلامی کاموں کو اسلام کا لبادہ اوڑھا دیتا ہے اور ناجائز اعمال کو حلال کا نام دیتا ہے۔ یہی کفار کی سب سے خطرناک حکمتِ عملی قرار دی جاتی ہے۔

اسی وجہ سے دنیا میں، بھارت کے علاوہ، کوئی بھی کافر ملک پاکستان سے مخالفت نہیں رکھتا، بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے بقاء کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی حیران کن نہیں کہ کفار ایران کو میزائل بنانے کی اجازت نہیں دیتے، لیکن پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کرتے ہیں اور آج تک پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

ایک اور بات یہ ہے کہ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے جس نے فحاشی کے اڈوں کو باقاعدہ حیثیت دی اور ان پر ٹیکس عائد کیا، جس کے بعد دیگر اسلامی ممالک میں بھی اس عمل کو فروغ ملا۔

خلاصہ یہ کہ اگر کہا جائے تو پاکستان کفار کے لیے نئے نظریات اور اسلام مخالف اعمال و نظریات کا ایک مؤثر مرکز بن چکا ہے۔ کفار جو بھی اسلام مخالف عمل انجام دیتے ہیں، مسلمانوں کو اس کا عادی بنانے کے لیے سب سے پہلے اسے پاکستان میں نافذ کرتے ہیں۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اسلام کے خلاف اتنے گمراہ کن افکار اور تخریبی اعمال کسی اور ملک نے نہیں کیے جتنے پاکستان نے کیے ہیں، اور اس کے باوجود یہی ملک سب سے زیادہ اسلام اور مسلمان ہونے کے دعوے بھی کرتا ہے۔

پاکستان اب کفار کے لیے اسلام کے مقابل ایک آزمودہ اور کامیاب ذریعہ بن چکا ہے، اسی پاکستان نے پہلی بار افغانستان کے خالص اسلامی نظام کے خلاف جنگ کا فتویٰ دیا اور عملاً جنگ کا آغاز بھی کیا۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ پاکستان نے ایک اسلامی ملک ہونے کے دعوے کے باوجود، ایک ایسے اسلامی نظام کے خلاف جنگ کا فتویٰ دیا جس کی مثال سلف کے بعد نہیں ملتی، اور عملی طور پر اس جنگ کا آغاز بھی کیا۔

Exit mobile version