پاکستان کی تاریخ میں، اپنے قیام سے لے کر آج تک، کسی بھی حکومت نے کبھی ایک ذمہ دار اور منظم حکومت کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ البتہ، فوجی اور خفیہ اداروں کے جرنیلوں نے ہمیشہ پاکستانی قوم اور سول حکومتوں کو یرغمال بنائے رکھا ہے۔ انہی جرنیلوں نے، غیروں کے اشاروں پر، ایسی تاریخی ظلم وستم کا مظاہرہ کیا ہے جن کا خمیازہ پاکستان کے مسلمان عوام نے بھاری قربانیوں کی صورت میں بھگتا، جن کے زخم آج تک مندمل نہیں ہو سکے۔
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان تھے۔ ان کے قتل کے بعد سے پاکستان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ہمیشہ فوجی آمریتوں اور جرنیلی اقتدار کے زیرِاثر رہا ہے۔ یہاں تک کہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے بھی ۱۹۴۸ء میں اُس وقت کے جنرل محمد ایوب خان کے بارے میں کہا تھا:
’’یہ جنرل ایوب، عسکری ذمہداریوں کے مقابلے میں سیاسی معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔‘‘
جو قومیں اور رہنما تاریخی حقائق اور اقوام کے جذبات کے ساتھ لاپرواہی اور سطحی رویہ اختیار کرتے ہیں، ان کے انجام عموماً نہایت خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
لیاقت علی خان، جو اُس وقت پاکستان کے وزیرِاعظم تھے، ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۱ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کے دوران سید اکبر خان افغان کے ہاتھوں سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔
کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان نے اپنی تقریر میں مختلف اقوام کے خلاف تحقیرآمیز اور رکیک جملے کہے، جس پر اکبر افغان نے مجبور ہوکر اسے سر میں گولی مار کر قتل کردیا۔
پاکستانی جرنیل غلامانہ فطرت پر پرورش پائے ہوئے لوگ ہیں، جنہیں خودمختاری اور آزادی کے مفہوم سے کسی قسم کی وابستگی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی ہی قوموں کے خلاف دشمنوں کے ساتھ ہاتھ ملاتے رہے۔ انہی کی ڈھٹائی اور پست کاروبارِ سیاست و اقتدار نے پاکستانی خودمختاری کی پوری تاریخ کو داغدار کر دیا ہے۔
جنرل سکندر مرزا، جسے پاکستان کی فوج کا بانی سمجھا جاتا ہے، اس کے بارے میں تاریخی ریکارڈ میں یہ بات درج ہے:
’’ مرزا دراصل برطانوی استعمار کا وفادار ایجنٹ میر جعفر کا پڑپوتا تھا؛ وہی میر جعفر جس نے نواب سراج الدولہ کے خلاف بنگال پر انگریز کے قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ان کی جاسوسی کی تھی۔‘‘
اگرچہ جاسوسی کا یہ مکروہ عمل پاکستان کے جرنیلوں کی تاریخ میں ایک مستقل روایت کے طور پر ثبت ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ اس کی سیاہی پورے پاکستانی تاریخ پر سایہ فگن ہو چکی ہے۔
لہٰذا، یہ پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تاریخ کُش جرنیلوں کے سامنے خاموش نہ رہے جنہوں نے ملک کی تاریخ، آزادی اور وقار سب کچھ پامال کر دیا۔
پاکستانی جرنیل حکمرانی کے اصولوں کے ساتھ بھی مذاق کرتے ہیں، جنرل سکندر مرزا کے دور میں محض تین برسوں (۱۹۵۵ء تا ۱۹۵۸ء) کے اندر پانچ وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا، کیونکہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کو کھیل اور تماشا سمجھتا تھا۔
اسی ڈھٹائی اور سطحی طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو کبھی بنگال میں اور کبھی کشمیر میں رسوائی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی جرنیلوں نے نہ صرف طرزِ حکومت، قوم، سرزمین اور تاریخ کے ساتھ سطحی اور ظالمانہ رویہ اختیار کیا ہے، بلکہ قوم کے آئین اور قانون کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا ہے۔ انہوں نے دوسروں کے اشاروں پر پاکستانی مسلمان عوام کے لیے ایک ایسا آئین تیار کیا جو ان کی دینی و قومی روح سے بیگانہ اور غیر ملکی اثرات کا حامل تھا۔
تاریخ بیان کرتی ہے کہ ملک غلام محمد، جو ایک بیوروکریٹ اور فالج زدہ شخص تھا، نے جنرل ایوب خان کی مدد سے اُس وقت کے وزیرِاعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کیا اور ۱۹۵۳ء میں امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیرِاعظم مقرر کیا۔ ملک غلام محمد اتنا کمزور اور بیمار تھا کہ اس کی گفتگو امریکی سیکرٹری کے ذریعے ترجمہ اور دوسروں تک پہنچائی جاتی تھی۔ اسی دوران، یعنی ۱۹۵۴ء میں، پاکستان کے آئین کا پہلا مسودہ تیار کیا گیا۔
پاکستانی جرنیلوں کی یہی بےباکیاں اور طاقت کی سرمستی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے انہیں ایک بار بنگلہ دیش کھونا پڑا، اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہی تاریخ اب کشمیر اور بلوچستان میں دوبارہ دہرائی جا سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی دراصل انہی جرنیلوں کی بےشرمانہ مداخلتوں کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے آزادانہ انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کیے، چنانچہ بنگال کے رہنما شیخ مجیب الرحمن نے اپنے چھ نکاتی منشور کے نفاذ کے لیے آزادی کی تحریک کا اعلان کیا۔ طویل جنگوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد مشرقی پاکستان کی بنیادیں ہل گئیں، اور مولانا ابوالکلام آزاد کی ۱۹۴۶ء کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی؛ پاکستان کا مصنوعی ڈھانچہ بکھر گیا، بنگلہ دیش ایک خودمختار ملک کے طور پر اُبھرا، اور پاکستانی فوج کو تاریخ کی سب سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی جرنیلوں نے نہ صرف اپنے ہی مسلمان عوام اور ہمسایہ ممالک کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے، بلکہ خطے اور دنیا کے دیگر مسلمان بھی ان کے ظلم و تشدد سے محفوظ نہیں رہے۔ فلسطینیوں جیسی مظلوم قوم بھی ان کی سازشوں کی بھینٹ چڑھیں۔
جب اردن کے امریکہ نواز بادشاہ ملک حسین کو یہ اندیشہ ہوا کہ فلسطین کی آزادی کی تحریک اُس کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اور یہ کہ اُس وقت کی شامی حکومت (جو سوویت یونین کی حمایت یافتہ تھی) فلسطینی مجاہدین کی مدد کر سکتی ہے، تو اس نے اپنی بادشاہت بچانے کے لیے ایک خونی قدم اٹھایا۔ چنانچہ اردن نے ستمبر ۱۹۷۰ء میں فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کیں اور ہزاروں مظلوم مسلمانوں کا خون بہایا۔
یہ کارروائیاں تاریخ میں ’’بلیک سپٹمبر ((Black September آپریشن‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران اردن کو اسرائیلی جاسوسوں کی مدد حاصل تھی۔ ان آپریشنز کی نگرانی اور رہنمائی کے لیے پاکستان سے ایک فوجی وفد بھی بھیجا گیا تھا، جس کی قیادت جنرل ضیاءالحق کر رہا تھا، جو اس وقت بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز تھا۔ ان خونریز کارروائیوں کے نتیجے میں پینتیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔
یہی فوجی افسر بعد میں اپنے وطن واپس لوٹا، اور کچھ ہی عرصے میں جنرل کے عہدے پر فائز ہوا۔ پھر اسے پاکستان کی فوج کا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا، جس کے بعد اس نے اُس وقت کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کیا۔ بعد ازاں اس نے اُس وقت کے منتخب وزیرِاعظم کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسایا اور اسے پھانسی پر لٹکایا۔
۱۹۷۰ء میں فلسطینی مہاجرین کے خلاف اردن میں کی جانے والی ان کارروائیوں کی کامیابی کے بعد، پاکستانی جنرل ضیاءالحق کو اُس کی خدمات کے صلے میں اردن کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز عطا کیا گیا۔
یاسر عرفات کے بیان کے مطابق، ان آپریشنز میں پچیس ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے گئے تھے۔ یہ کارروائیاں اردن کے بادشاہ حسین بن طلال کے براہِ راست حکم پر انجام دی گئی تھیں۔ اسرائیلی جنرل موشی دایان نے اس موقع پر کہا تھا:
’’حسین نے گیارہ دنوں میں جتنے فلسطینیوں کو قتل کیا، اسرائیل وہ اتنے فلسطینی بیس سال میں بھی نہ مار سکتا۔‘‘
بعد ازاں، دسمبر ۱۹۷۹ء میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، تو جنرل ضیاءالحق کی سربراہی میں قائم پاکستانی فوجی حکومت نے اس جہاد سے بڑی اقتصادی، عسکری اور تجارتی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس دوران ’’ہزار زخموں کے ذریعے موت دینے کی حکمتِ عملی‘‘، ’’کابل کو جلنا چاہیے‘‘، اور ’’پانی کو مخصوص درجہ حرارت تک ابالا جائے‘‘ جیسی ظالمانہ حکمتِ عملیوں کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
جنرل ضیاءالحق ۱۷ اگست ۱۹۸۸ء کو ایک ۱۳۰ C-قسم کے ٹرانسپورٹ طیارہ حادثے کے نتیجے میں بہاولپور کے قریب ہلاک ہوگئے۔ اس طیارے میں امریکی سفیر، ملٹری اتاشی اور فوج کے تقریباً ۳۰ اعلیٰ افسران سوار تھے۔ ضیاءالحق اس وقت بہاولپور اس لیے گئے تھے کہ وہاں امریکی ابرہَم (Abrams) ٹینکوں کے معائنے اور تربیتی مظاہروں کا مشاہدہ کریں؛ یہ وہی ٹینک تھے جو اصل میں بین الاقوامی سطح پر مجاہدین کو دیے گئے تھے۔
پاکستانی فوجی جرنیلوں کا پورا طرزِ عمل ابتدا سے ہی لوٹ مار، ڈاکے، وحشت، مظالم، غلامی اور ملکی معاملات کے ساتھ سطحی سلوک پر مبنی رہا ہے۔ جب وہ اقتدار میں آتے ہیں تو قومی دولت یعنی عوام کی محنت کی کمائی (بیت المال) کو اپنی غنیمت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ حال ہی میں بین الاقوامی اور مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ جنرل پرویز کیانی اور جنرل پرویز مشرف کے نام بڑی بڑی جائیدادیں اور جزائر آسٹریلیا اور خلیجی ممالک میں موجود ہیں، جبکہ پاکستانی عوام شدید اور طویل مدتی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
بہرکیف، آج ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے جرنیل افغانستان اور اس فرضی سرحد کے پار بسنے والی قوموں کے خلاف کیوں دشمنی رکھتے ہیں۔ وہ کس چیز سے سخت متاثر ہیں؟ ان کی وہ تمنائیں اور خواہشیں خاک ہوچکی ہیں جو انہوں نے روس کے خلاف جہاد کے دوران حاصل کی تھیں اور آج وہی خواب وخواہشیں کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکہ و نیٹو کے فوجی سازوسامان کو کباڑ بنا کر پاکستان اسمگل کیا جائے؛ پوری نہیں ہورہیں۔
آخر میں ہم معروف اور ان کے ہاں مقبول امریکی مفکر جارج سانتایانا کا وہ مشہور قول یاد دلاتے ہیں:
“Those who cannot remember history are doomed to repeat it.”
ترجمہ: جو لوگ تاریخ کو یاد نہیں رکھتے، لازماً اسے باربار دہراتے رہیں گے۔

