Site icon المرصاد

پاکستانی رجیم: افغانستان کے خلاف اسرائیل کے نقشِ قدم پر

ایک بار پھر پاکستانی فوجی رجیم نے غصے اور ناکامی کی آگ میں بے گناہ افغانوں کو جھونک دیا ہے۔ چند دن پہلے اس ملک کے جنگی طیاروں نے ننگرہار اور پکتیکا کے کچھ علاقوں کو نشانہ بنایا، تاکہ ایک وحشیانہ عمل کے ذریعے اپنے داخلی سکیورٹی مسائل کی ناکامی کا بدلہ اس طرح لے سکیں۔ اسلام آباد دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، لیکن یہ دعویٰ بے گناہ خواتین اور بچوں کی شہادتوں کے سامنے صاف طور پر جھوٹا اور بے وقعت ثابت ہوتا ہے۔

وہ رجیم جو اپنے خونریز داخلی بحرانوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے اور ہر دن شہروں میں مہلک دھماکوں کی گواہ ہے، اب ان حملوں کے ذریعے عوامی رائے کو مسلسل شکستوں سے بٹانے کی کوشش کر رہی ہے اور اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا الزام پڑوسی ملک پر ڈال رہی ہے۔ یہ ایک تکراری اور پرانی کہانی ہے، دوسروں کی قومی خودمختاری پر تجاوز اور ان لوگوں کا خون بہا کر اپنی داخلی کمزوریوں کو چھپانا، جن کا واحد جرم ایک مصنوعی سرحد کے پار رہنا ہے۔

پاکستانی رجیم نے اس جرم میں، پہلے سے کہیں زیادہ اپنے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ جیسے صہیونی رجیم نے فلسطین میں ہسپتالوں اور سکولوں پر بمباری کر کے اپنا وحشیانہ چہرہ دکھایا، پاکستانی فوجی رجیم نے افغانستان میں رہائشی گھروں اور ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنا کر ظاہر کیا کہ بے گناہ بچوں اور مسلح جنگجو کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتا۔

افغان قوم ان مناظر کو کبھی نہیں بھولے گی، وہ بچوں کی بے جان لاشیں جنہیں بمباری کے ملبے میں سے نکالا گیا اور وہ مائیں جو ایک لمحے میں اپنے پیاروں کو کھو چکی تھیں، ان کی آہیں ہمیشہ کے لیے دلوں میں گونجیں گی۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں درجنوں شہری شہید ہوئے، جن میں ایک خاندان کے سترہ افراد بھی شامل ہیں، جن کی عمریں ایک سال سے لے کر اسی سال تک تھیں اور جو ملبے میں دفن ہو گئے۔ یہ دل دہلا دینے والی کہانیاں ہیں۔

ایک ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں موجودہ عدم استحکام اور جنگ اس کی اپنے غلط پالیسیوں اور دہشت گردوں اور مسلح گروپوں کی طویل مدتی حمایت کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ آفت ہے جسے خود اس نے پالی ہے اور آج اسے خود برداشت کر رہا ہے۔

افغانستان نہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرتا بلکہ خود بھی اپنی سرزمین پر کسی بھی بد امنی پھیلانے والے والے عناصر کو جگہ دینے کی اجازت نہیں دیتا اور ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتا ہے۔ بے گناہ افغانوں کا خون، پاکستان کے بے بنیاد دعووں کا جواب ہے اور اس فوجی رجیم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک دن اسے اس تجاوز اور ان تمام جرائم کا حساب دینا پڑے گا۔

Exit mobile version