Site icon المرصاد

پاکستانی رجیم: داخلی فساد سے علاقائی عدم استحکام تک!

پاکستانی نظامِ حکومت، جو کبھی "اسلام کا قلعہ” کے نعرے کے ساتھ قائم ہوا تھا، آج علاقے کی بدامنی اور عدم استحکام کے بنیادی اسباب میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام، جو پاکستانی عوام کے مفادات کا محافظ ہونا چاہیے تھا، عملی طور پر بدعنوان جرنیلوں اور اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کے ہاتھوں ایک آلہ بن چکا ہے، جو صرف اپنی طاقت اور دولت کے تحفظ کی کوشش کرتا ہے۔

پاکستانی فوج، جو ملک کی سرحدوں کی محافظ کہلاتی ہے، ایک ظالم گروہ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو بے گناہ بلوچوں، پختونوں اور کشمیریوں کے قتل عام پر ذرا نہیں چوکتی۔ اس فوج کے جرائم بلوچستان میں اس قدر وسیع ہیں کہ عالمی انسانی حقوق کے ادارے اسے "خاموش نسل کشی” قرار دیتے ہیں۔ ہر روز بلوچ نوجوانوں کی لاشیں صحراؤں میں ملتی ہیں، اور ہر ہفتے درجنوں افراد جبری طور پر لاپتہ ہو جاتے ہیں۔

کشمیر میں بھی پاکستانی فوج نے، خوارج کی حمایت کے ذریعے، نہ صرف علاقے کے عدم استحکام کو ہوا دی، بلکہ کشمیر کے بے گناہ عوام کو بھی مصائب اور عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ یہ رجیم دہشت گردی کے شعلوں کو ہوا دے کر کر پورے خطے کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال چکا ہے۔

پاکستان کی داخلی صورتحال اس کی خارجہ پالیسی سے بھی بدتر ہے۔ منظم بدعنوانی، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ، مہنگائی، اور بجلی و گیس کی مسلسل بندش نے عام لوگوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے، جبکہ جرنیل اور سیاستدان عالیشان محلات میں عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں اور عام پاکستانی اپنی روزمرہ کی روٹی کے حصول کے لیے شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

پاکستانی عوام کی بے چینی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ بلوچستان، سندھ، اور خیبر پختونخوا میں عوامی تحریکیں دن بدن مضبوط ہو رہی ہیں۔ لوگ اب بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ اصل مسئلہ اسلام آباد کی بدعنوان رجیم ہے۔ "غاصب حکومت، قاتل فوج” کے نعرے آج پاکستان کے ہر علاقے سے سنائی دیتے ہیں۔

یہ رجیم عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہمیشہ بیرونی دشمن بنانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہ پرانا حربہ اب اثر نہیں رکھتا۔ پاکستانی عوام سمجھ چکے ہیں کہ اصل دشمن ان کی سرحدوں کے اندر ہے: ایک بدعنوان نظام جو قومی دولت کو لوٹتا ہے اور ملک کے نوجوانوں کو پراکسی جنگوں میں قربان کرتا ہے۔

افغانستان نے پاکستانی رجیم کی ناپاک پالیسیوں سے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ یہ رجیم داعش جیسی انتہا پسند تنظیم کی حمایت کر کے کئی برسوں سے افغانستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ دوستی کے نام پر یہ رجیم برسوں سے منظم طریقے سے اپنے پڑوسیوں کو کمزور کر رہا ہے۔

داعش جیسی وحشی تنظیم کی حمایت اس رجیم کی سرکاری پالیسی بن چکی ہے، اور پاکستانی عوام سے جمع کردہ ٹیکسوں کا بجٹ داعش کی تنظیم کو لیس کرنے اور تربیت دینے میں خرچ کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی خفیہ ایجنسیاں خوارج کی تیاری اور تربیت کے مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں، اور پاکستانی جرنیل فخر سے ان اقدامات کو "خفیہ جہاد” کہتے ہیں۔

عالمی برادری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آج پاکستان ایک قانون کی پاسداری کرنے والی ریاست نہیں، بلکہ ایک فوجی-سیاسی مافیا ہے جو دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جب تک یہ رجیم اپنے جرائم جاری رکھے گی، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام ناممکن ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری ان جرائم کا خاتمہ کرے۔ پاکستانی عوام کو بھی بیدار ہو کر اس بدعنوان رجیم کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنا چاہیے۔ پاکستان کا مستقبل اس بدعنوان رجیم کے خلاف عوامی جدوجہد اور ایک عوام دوست نظام کے قیام سے وابستہ ہے، جو واقعی عوام کے مفادات کا تحفظ کرے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان خطے میں ایک محفوظ اور اسلامی ملک بن سکتا ہے۔

Exit mobile version