Site icon المرصاد

پاکستانی عوام پر مسلط کیا گیا سیاسی اور عسکری ہپناٹزم!

پاکستانی عوام کو ایک مخصوص ذہنی کیفیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے، جسے سادہ الفاظ میں ’’سیاسی اور عسکری ہپناٹزم‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جس میں انسان اپنے دکھ، نقصان اور استحصال کو تو دیکھتا ہے، مگر اس کے خلاف کھڑے ہونے کی فکری اور عملی جرأت کھو بیٹھتا ہے۔

موضوع کو مزید واضح کرنے کے لیے یوں کہا جا سکتا ہے کہ ملحدین عموماً یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’مذہب ایک نشہ ہے جو انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک مذہبی لوگ ایک خیالی سرشاری، فرضی جنت اور غیر حقیقی زندگی میں جیتے ہیں اور زمینی حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ بیانیہ دیگر مذاہب کے ساتھ ساتھ خصوصاً اسلام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ ایک مسلمان کے نقطۂ نظر سے یہ محض ایک فکری مغالطہ اور تعصب پر مبنی الزام ہے۔

لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج ’’نشے‘‘ کا یہی تصور مذہب کے بجائے ریاستی اور سیاسی نظام پر کہیں زیادہ صادق آتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ اٹھہتر برسوں سے ایک ایسا سیاسی و عسکری ڈھانچہ مسلط ہے جو مسلسل عوام سے قربانیاں لیتا آ رہا ہے، مگر اس کے بدلے انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی واضح مثال ملک کی معاشی صورتحال ہے۔

ریکارڈ مہنگائی، بنیادی ضروریات کی اشیا، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور بیرونی قرضوں میں بے تحاشا اضافہ—ان سب نے عوام، بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کو ایسے ناقابلِ برداشت دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے کہ بعض لوگ خودکشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ معاشی جمود اور کارخانوں و صنعتوں کی بندش کے باعث بے روزگاری اور غربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام حالات کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک باعزت زندگی گزارنا عام انسان کی پہنچ سے دن بہ دن دور ہوتا جا رہا ہے۔

اس معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مسلسل سیاسی کشمکش، انتخابی تنازعات، فوج کی جانب سے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنا، اعلانیہ اور غیر اعلانیہ مارشل لا، اور سنجیدہ و بامقصد مکالمے کا فقدان؛ ان سب نے ایک پائیدار اور عوام دوست حکمرانی کی کمر توڑ دی ہے۔ ریاستی توانائی عوامی مسائل کے حل کے بجائے اقتدار کی کشمکش میں ضائع ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔

امن و امان کی صورتِ حال بھی نہایت تشویشناک ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسلح تشدد کے واقعات مسلسل جاری ہیں، جبکہ بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم، باہمی دشمنیاں، چوریاں، ڈکیتیاں اور خواتین کے خلاف کھلی ہراسانی نے عام لوگوں سے تحفظ کا احساس بالکل چھین لیا ہے۔ وہ ریاست جو کبھی حفاظت کی علامت سمجھی جاتی تھی، آہستہ آہستہ عوام کے لیے ایک نامعلوم انجام کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

ایسے حالات میں انسانی حقوق کا مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ آزادیِ اظہار پر قدغنیں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیاں اور گرفتاریاں، اور میڈیا پر دباؤ، یہ وہ امور ہیں جن پر ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ اس فضا میں اختلافِ رائے کو غداری اور سوال اٹھانے کو بغاوت کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

ریاستی طرزِ عمل اور انسانی المیے اس بے اعتمادی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ مریدکے جیسے واقعات، تیراہ وادی اور دیگر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز، جانی نقصانات اور مسلسل بے گھری نے متاثرہ آبادیوں کو شدید نفسیاتی، معاشی اور سماجی صدمات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ تمام عوامل عوام، فوج اور ریاست کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

داخلی بحرانوں کے ساتھ ساتھ بیرونی اور عالمی دباؤ نے بھی صورتِ حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فوج کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات، جنگی ماحول کی تشکیل، اور عالمی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط نے نہ صرف قومی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس کا آخری بوجھ بھی عام شہری کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ یہ تمام حقائق ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ ’’پاکستان ایک ہمہ جہت معاشی، سماجی اور سیاسی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔‘‘

اس کے باوجود سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب حالات اس قدر سنگین ہیں تو عوام خاموش کیوں ہیں؟

وہ ان ظالم اداروں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟

ان کا گریبان کیوں نہیں پکڑتے؟

اور خود کو ان درندوں کا آسان شکار کیوں بنائے ہوئے ہیں؟

المیہ یہ ہے کہ ان سوالات کا جواب اسی دعوے میں ملتا ہے جس کا ذکر اوپر ملحدین کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یعنی وہی نفسیاتی پہلو یہاں دوبارہ سامنے آتا ہے، جس کا الزام وہ مذہب پر دھرتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو ظالم حکمرانوں اور عسکری اداروں کی جانب سے یہ باور کرایا گیا ہے کہ اگر یہی فوج، یہی سیاسی جماعتیں اور یہی موجودہ نظام برقرار نہ رہا تو ملک ٹکڑوں میں بٹ جائے گا؛ بیرونی طاقتیں حملہ آور ہو جائیں گی، ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا، اور ان کا حال لیبیا اور غزہ جیسا ہو جائے گا۔ حالانکہ تلخ اور دردناک حقیقت یہ ہے کہ یہی ادارے گزشتہ اٹھہتر برسوں سے اپنے ہی عوام پر معاشی، سیاسی، سفارتی اور حتیٰ کہ براہِ راست قتلِ عام مسلط کیے ہوئے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں، پاکستانی قوم پر یہ مسلط کر دیا گیا ہے کہ اس کی زندگی اسی پاکستانی قاتل فوج کے ساتھ وابستہ ہے؛ یعنی اسے ہر لمحہ یہ ایمان اور یقین رکھنا ہوگا کہ اس کا اصل محافظ یہی قاتل فوج ہے۔ یہی تو سیاسی اور عسکری ہپناٹزم ہے—ایک ایسی ذہنی نشہ آور کیفیت—جس میں مظلوم پاکستانی مسلمان اپنی فوج کے مظالم بھی دیکھتا ہے، مگر پھر بھی خاموش رہتا ہے؛ اسے یہ سوچنے نہیں دیا جاتا کہ حقیقی تحفظ طاقتور اداروں سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور عوامی شعور سے جنم لیتا ہے۔

جب تک مظلوم پاکستانی مسلمان اپنے فہم میں تبدیلی کی جرأت پیدا نہیں کرتا،

جب تک وہ یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ: ’’ہم یہ سب کیوں برداشت کر رہے ہیں؟‘‘
تب تک نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی جماعت اور نہ کوئی طاقت ان کی تقدیر بدل سکے گی۔

کیونکہ تاریخ کا اصول بالکل واضح ہے:
جو قومیں سوچنا اور عملی اقدام ترک کر دیتی ہیں، ان پر ظالم اور جابر مسلط ہو جاتے ہیں، جو رفتہ رفتہ انہیں نوچ کر کھا جاتے ہیں۔

Exit mobile version