اسلامی نقطۂ نظر سے کوئی بھی جائز سیاسی نظام تین بنیادی ستونوں پر قائم ہوتا ہے: عدل، شوریٰ اور الہی احکام کی مکمل پابندی۔ عوامی اعتبار سے بھی حکومت اسی وقت قائم ہوتی ہے جب وہ جوابدہ ہو، عوام کی خدمت کرے اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ جس نظام میں یہ صفات موجود نہ ہوں، وہ چاہے جبر کے بل بوتے پر قائم ہو یا دولت کے سہارے، حقیقت میں کوئی جواز نہیں رکھتی۔
انہی اصولوں کی روشنی میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کا موجودہ نظام قانونی قرار دیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس لیے کہ:
پاکستان کی حکمران قوت نے اپنے طرزِ عمل سے واضح کر دیا ہے کہ وہ ان اسلامی بنیادوں سے بہت دور ہے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا وہ خوں آشام سانحہ، جس میں درجنوں بے گناہ طالبات اور عام شہری شہید کیے گئے؛ کیا یہ نظام اسلامی عدل کے معیار پر پورا اترتا ہے؟ عافیہ صدیقی کا دل دہلا دینے والا المیہ، جو ایک ممتاز مسلمان خاتون عالمہ ہونے کے باوجود برسوں سے امریکی زندانوں میں بدترین حالات کا سامنا کر رہی ہیں؛ کیا اسے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کہا جا سکتا ہے؟
تحریکِ لبیک جیسی عوامی و مذہبی تحریکوں کو محض مقدس سرزمین کے دفاع کے جرم میں کچل دینا؛ یہ شوریٰ کے اصول کے کس مفہوم سے مطابقت رکھتا ہے؟ انتظامی بدعنوانی، رشوت، اور مسلمانوں کے بیت المال پر ڈاکے ڈالنا، کیا یہ عدل اور امانت داری کی علامتیں ہیں؟
بین الاقوامی میدان میں بھی پاکستان کے حکمران طبقے نے ایک دوغلا اور منافقانہ رویّہ اختیار کیا ہوا ہے۔ ایک طرف داخلی سطح پر مذہبی جذبات کو استعمال کرنے کے لیے اسلام کے دفاع کا نعرہ لگایا جاتا ہے، اور دوسری طرف اپنے سرپرستوں کی خوشنودی کے لئے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے قتلِ عام پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، بلکہ عملی طور پر صہیونی مفادات کی تکمیل میں مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔
کیا یہ طرزِ عمل امتِ مسلمہ کے مقابل ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں سے کسی طرح مطابقت رکھتا ہے؟
جب کوئی عالم ایسے حکومتی نظام کو جائز قرار دے، تو بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دینی مشروعیت افراد کی تائید سے قائم ہوتی ہے یا الٰہی احکام کے عملی نفاذ سے؟ جب کسی حکومت کے اقدامات کھلے طور پر اسلامی اصولوں سے متصادم ہوں، تو کیا علماء کی تائید اس کے گناہوں کو دھو سکتی ہے؟
آخر ہم کیسے اس نظام کو جائز وصحیح کہیں، جو عوام کے حقوق پامال کرتا ہے، مقدسات کی حرمت کی توہین کرتا ہے، دشمنانِ اسلام سے گٹھ جوڑ رکھتا ہے اور مسلمانوں کے وسائل کو بے دردی سے لوٹتا ہے؟ کیا الٰہی رضا کے بغیر دینی مشروعیت حاصل ہو سکتی ہے؟ اور کیا ایسے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث بن سکتے ہیں؟
کیا یہ حقیقت نہیں کہ اسلامی نظام میں حاکمیت بالآخر اللہ تعالیٰ کی ہے اور حکومت محض ایک امانت؟ جب امانت دار عوام کی خدمت کے بجائے مال سمیٹنے، طاقت بڑھانے اور ذاتی مفادات کے تعاقب میں لگ جائے، تو کیا وہ اب بھی اسلامی حکومت کہلانے کا مستحق رہتا ہے؟
ہر آزاد انسان سے سوال یہ ہے: کیا ظلم، ناانصافی اور بدعنوانی کے سامنے خاموش رہنا ظالموں کی حمایت نہیں؟ کیا پاکستان کے غیرت مند اور باحمیت عوام کے لیے یہ وقت نہیں آ پہنچا کہ وہ ان فسادات کے خلاف کھڑے ہوں اور ایک حقیقی اسلامی اور عوامی حکومت کا مطالبہ کریں؟
حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت اور کسی سیکولر حکومت کے مابین کیا فرق ہے؟ فرق صرف یہ ہے کہ ایک ظاہر ہے اور دوسری اسلامی نعروں کی آڑ میں اسلام کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ عقل و منطق یہی کہتی ہے کہ دوسرے قسم کا نظام اسلام کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ نہ صرف دین کو بدنام کرتا ہے بلکہ عوام کو بھی گمراہ کرتا ہے۔
پاکستانی نظام کی منفی، جبر پر مبنی اور ظالمانہ کارروائیوں کے پیش نظر اور مشروعیت کے بنیادی معیاروں کے مطابق، یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ حکومت نہ دینی جواز رکھتی ہے اور نہ ہی عوامی۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ جواز و مشروعیت افراد کی تائید سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ دینی اور انسانی اقدار کے عملی نفاذ سے حاصل ہوتی ہے، اور یہ حقیقت ہر باشعور مسلمان کے وجدان کے لیے بالکل واضح ہے۔

