Site icon المرصاد

پاکستانی فوجی رجیم اور شعائراللہ کی بے حرمتی

پاکستانی فوجی رجیم نے دیگر وحشیانہ اقدامات، جرائم اور بے دریغ مظالم کے علاوہ ایک اور سنگین جرم یہ کیا ہے کہ اس نے شعائراللہ کی بے حرمتی اور توہین کی ہے۔ شعائرِ الٰہی کا احترام ان بنیادی اور نہایت اہم امور میں سے ہے کہ جب بھی ان کی حرمت پامال کی جاتی، تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غضب اس وقت تک ٹھنڈا نہ ہوتا جب تک بے حرمتی کرنے والے کو سزا نہ دی جاتی۔

گزشتہ شب کے حملے میں پاکستانی دجالی فوج نے درجِ ذیل شعائر کی پامالی کی:
۱۔ مسلمانوں، بالخصوص معصوم بچوں کا خون بہایا۔ کفر کے بعد سب سے بڑی سنگین گناہ ایک مسلمان کا قتل ہے۔
۲۔ ماہِ رمضان المبارک میں، اسرائیل اور امریکہ کی طرح ایک اسلامی سرزمین پر یلغار کی۔
۳۔ ایک دینی مرکز کو منہدم کیا؛ سابقہ منافقین اور مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ دینی مراکز کو نشانہ بناتے تھے۔
۴۔ کلامِ الٰہی، قرآنِ عظیم الشان کو پارہ پارہ کیا؛ یہ وہ جسارت ہے، جس سے دنیا کے بڑے مستکبر بھی لرزاں رہتے ہیں۔
۵۔ احسان کے بدلے احسان فراموشی، اس حملے سے دو روز قبل امارتِ اسلامیہ نے پاکستانی فوج سے وابستہ چند قیدیوں کو رہا کیا تھا، مگر اس احسان کے جواب میں افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ وحشی درندے کی فطرت بھی یہی ہوتی ہے کہ جو اسے خوراک دے، وہ اسی پر جھپٹ پڑتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے شعائر اللہ کی بے حرمتی کی ہو؛ اس سے قبل بھی متعدد بار ایسے اقدامات کیے گئے ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ کے تقدس کو پامال کیا گیا، ’’امن بورڈ‘‘ کے نام پر امریکیوں سے اشتراک کیا گیا، اور حماس کی اسلامی تحریک کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی۔ یوں اسلام کی حرمت کو مجروح کیا گیا اور بے شمار شعائر کو پامال کیا گیا۔

برسوں پہلے ہی علماء نے ان کے ان اقدامات کے خلاف آواز بلند کی تھی، بلکہ بہت سے پاکستانی، مکی، مدنی، فلسطینی اور عرب علماء نے ان کے خلاف ہتھیار بھی اٹھائے۔

مفتی نظام الدین شامزی شہید رحمہ اللہ کراچی میں پاکستانی عوام کو شعائرِ الٰہی کی بے حرمتی کے ردِ عمل میں جہاد کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اسی طرح معروف فلسطینی عالم اور داعی عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ عربوں کو پاکستان کی فوج کی اصلاح کے حوالے سے پہلے نصیحت کرتے اور پھر انہیں جہاد پر آمادہ کرتے تھے۔

دو دہائیاں قبل امتِ مسلمہ کے معروف رہنما اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان صلیبی اتحاد کا ایک حصہ ہے، اور پاکستان میں ہمارے بھائیوں کی سرگرمیاں اس اتحاد کے لیے ایک بڑی ضرب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی امریکہ کا ساتھ دیتا ہے اور اس کی ضروریات پوری کرتا ہے، خواہ وہ طبی ہوں یا غیر طبی، وہ ایک ایسا کفرِ اکبر ہے جو انسان کو اسلام کے دائرے سے خارج کر دیتا ہے۔ لہٰذا پاکستان میں ہمارے بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی نصرت کے لیے سنجیدگی کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں۔

اسی طرح سینکڑوں علماء نے ان کے ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہے ہیں۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ قرآنِ عظیم الشان کی بے حرمتی، مسجدِ اقصیٰ کے معاملے میں کفار کے ساتھ تعاون، دینی مدارس کی تباہی، ماہِ رمضان کے تقدس کی پامالی، اور معصوم بچوں کے خون کے بہانے کے بدلے وہی معاملہ فرمائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دعا میں مانگا تھا جب کسری نے آپ صلی اللہ علیہ کا خط چاک کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ نے یہ بد دعا کی تھی:
’’اللَّهُمَّ مَزِّقْ مُلْكَهُ كُلَّ مُمَزَّقٍ‘‘

ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں:
اے قہار اور منتقم ذات!
ان کو اسی طرح پارہ پارہ کر دے جیسے انہوں نے تیرے کلام کو چاک کیا، آخرت میں انہیں ان لوگوں کے ساتھ ملا دے جو مسجدِ اقصیٰ کی تباہی کے منصوبوں میں شریک رہے، ان کے گھروں اور عمارتوں کو اسی طرح منہدم کر دے جیسے انہوں نے تیرے دین کے مراکز کو گرایا، اور ان کے خون کو اسی طرح بہا دے جیسے انہوں نے معصوم بچوں کا خون بہایا۔
اللهم آمین۔

Exit mobile version