Site icon المرصاد

پاکستانی فوجی رجیم کی حقیقت، تاریخ کے آئینے میں! پہلی قسط

تمہید
پاکستان میں ریاستی طاقت، مسلح تحریکیں اور داخلی تصادم
پاکستان کی داخلی سلامتی کی تاریخ محض ریاست اور غیرریاستی عناصر کے درمیان ایک سادہ تصادم کی داستان نہیں، بلکہ یہ پالیسی تضادات، علاقائی طاقت کی سیاست، عسکری بالادستی، اور طویل المدت سیاسی و سماجی محرومیوں کا ایک پیچیدہ اور مسلسل عمل ہے۔ پاکستان کی فوج اور خفیہ اداروں نے مختلف ادوار میں جن حکمتِ عملیوں کو اپنایا، ان کے نتیجے میں نہ صرف داخلی عدم استحکام نے جنم لیا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد بھی شدید طور پر مجروح ہوئی۔

ریاستی طاقت کے بےمحابا استعمال، آئینی حدود سے ماورا اقدامات، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور اجتماعی سزاؤں نے ایسے حالات پیدا کیے جن میں متعدد مسلح تحریکیں ابھریں۔ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) القاعدہ اور بلوچ مزاحمتی تنظیمیں اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ یہ مضمون انہی عوامل کے تناظر میں ریاستی طاقت کے استعمال، انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں، اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مسلح تحریکوں کا تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔

ریاستی پالیسیوں کا پس منظر اور عسکریت پسندی کا فروغ:
پاکستان میں مسلح تحریکیں کسی سماجی یا سیاسی خلا میں جنم نہیں لیں۔ سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد ریاستی اداروں نے اپنے علاقائی اور تزویراتی مفادات کے تناظر میں بعض مذہبی و مسلح گروہوں سے بالواسطہ طور پر فائدہ اٹھایا، اور انہیں ایک عرصے تک ’’اسٹریٹجک اثاثہ‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ تمام مسلح تنظیمیں براہِ راست ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھیں؛ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی تنظیمیں اپنے اپنے نظریاتی، قبائلی یا مقامی محرکات کے تحت آزادانہ طور پر سرگرمِ عمل تھیں، البتہ ان کی موجودگی اور سرگرمیوں سے ریاستی پالیسیوں کو وقتی طور پر فائدہ پہنچتا رہا۔

اسی دوران ریاستی اداروں کی جانب سے سیاسی عمل کو کمزور کرنے، نفاذِ شریعت سے پہلو تہی، اور طبقاتی و لسانی تقسیم و تعصبات کو ہوا دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہی مسلح عناصر، جن کی سرگرمیوں کو کبھی ریاستی مفادات کے لیے قابلِ قبول یا مفید سمجھا گیا تھا، خود ریاست کے لیے ایک سنگین داخلی خطرہ بن گئے اور رفتہ رفتہ اس کے گلے کا طوق ثابت ہوئے۔ اس کے باوجود پالیسیوں میں بنیادی اور فکری اصلاح کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں عام شہری اجتماعی سزا، وسیع پیمانے پر فوجی آپریشنز اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہوئے۔
یہی پالیسی تضاد — کہ ایک ہی ریاست کسی مرحلے پر بعض مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے بالواسطہ استفادہ کرے اور دوسرے مرحلے پر انہی کے خلاف بےرحمانہ فوجی کارروائیاں کرے — پاکستان میں مسلسل عدم استحکام اور تشدد کے بنیادی اسباب میں شمار ہوتا ہے۔

تحریکِ طالبان، القاعدہ و دیگر جہادی تنظیمیں: وجود اور ارتقاء:
تحریکِ طالبان پاکستان و دیگر جہادی تنظیموں کا ظہور قبائلی علاقوں، بالخصوص سابقہ فاٹا، میں اس وقت ہوا جب افغانستان کی جنگ کے اثرات براہِ راست پاکستان کے اندر منتقل ہونے لگے۔ ڈرون حملے، فوجی آپریشنز، وسیع پیمانے پر نقل مکانی، چیک پوسٹوں پر تضحیک آمیز رویّے، اور اجتماعی گرفتاریوں نے مقامی آبادی میں شدید غصہ اور بیگانگی کو جنم دیا۔

متعدد تحقیقی رپورٹس کے مطابق، روایتی قبائلی ڈھانچے کی تباہی اور ریاستی اداروں کی جانب سے انصاف کی عدم فراہمی نے ایسے حالات پیدا کیے جن میں ٹی ٹی پی (TTP) اور القاعدہ جیسی تنظیموں کو مقامی سطح پر حمایت اور جگہ ملی۔ یوں یہ تحریک محض ایک نظریاتی یا مذہبی ردِعمل نہیں تھی بلکہ ریاستی جبر، غیر شفاف حکمرانی، اور طویل عرصے تک سیاسی محرومی کا نتیجہ بھی تھی۔

اسلامی و جہادی تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشنز اور عوامی نقصان:
ریاستِ پاکستان نے اسلامی و جہادی تنظیموں کے خلاف مختلف ادوار میں بڑے فوجی آپریشنز کیے، جن میں:
• آپریشن راہِ نجات (جنوبی وزیرستان)
• آپریشن راہِ راست (سوات)
• آپریشن ضربِ عضب (شمالی وزیرستان)
• اور بعد ازاں ردّالفساد جیسے ملک گیر اقدامات
شامل ہیں۔
ریاستی مؤقف کے مطابق ان آپریشنز کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور ریاستی رِٹ کا قیام تھا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین کے مطابق ان کارروائیوں کا سب سے بڑا بوجھ عام شہریوں نے اٹھایا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، پورے کے پورے علاقے اجتماعی سزا کا نشانہ بنے، گھروں اور بازاروں کو تباہ کیا گیا، اور ہزاروں مسلمانانِ پاکستان آج تک غیر قانونی طور پر لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں اہلِ خانہ کی کسی سطح پر شنوائی نہیں ہورہی۔

پالیسی ناکامیاں اور مسلح تحریکوں کا تسلسل:
تجزیہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ محض فوجی طاقت کے استعمال سے عسکریت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں:
• سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کی سنجیدہ کوششوں کا فقدان
• پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی عدم موجودگی یا نمائشی نوعیت
• جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوج کے لیے عملی احتساب کا فقدان
• قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک نفاذ شریعت کے مطالبات کو مسترد کرنا
ان حالات میں ایک طرف تحریکِ طالبان جیسی تنظیمیں وجود میں آئیں یا مضبوط ہوئیں، تو دوسری طرف بلوچستان میں بلوچ مزاحمتی تحریکوں نے شدت اختیار کی، جو ریاستی جبر کا ردِعمل تھیں۔

بلوچستان، ریاستی جبر اور بلوچ مزاحمت
بلوچستان میں ریاستی طاقت کے استعمال کی تاریخ طویل اور خونچکاں ہے۔ فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے بلوچ عوام میں شدید بےاعتمادی اور محرومی کو جنم دیا۔ سیاسی آوازوں کو دبانے اور اختلاف کو غداری سے جوڑنے کی پالیسی نے مسئلے کو مزید گھمبیر کیا۔

اسی پس منظر میں بلوچ مزاحمتی کارروائیاں، بشمول آپریشن ہیروف ۱ اور ۲، سامنے آئیں۔ بلوچ حلقے ان کارروائیوں کو اپنے وجود اور حقوق کے دفاع کا ردِعمل قرار دیتے ہیں، جبکہ ریاست انہیں محض سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اصل اسباب سے توجہ ہٹا دیتی ہے۔
یہ بات تحقیقی طور پر نہایت اہم ہے کہ جہادی تنظیمیں اور بلوچ مزاحمت نظریاتی طور پر مختلف ہونے کے باوجود ایک مشترک نکتے پر جمع ہوتی ہیں: یعنی ریاستی پالیسیوں کی ناکامی اور طاقت پر حد سے زیادہ انحصار۔

نتیجہ
اس تحقیقی مطالعے سے واضح ہوگا کہ پاکستان میں تحریکِ طالبان اور دیگر مسلح تحریکیں محض ’’قانون و نظم‘‘ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ خود ریاستی پالیسیوں، عسکری بالادستی، عوام پر روا رکھے جانے والے مظالم، اور طویل سیاسی محرومیوں کا پیدا کردہ نتیجہ ہیں۔ جب ریاست طاقت کو واحد حل سمجھتی ہے، نفاذِ شریعت سے رو گردانی کرتی ہے اور احتساب سے گریز کرتی ہے تو اس کے ردِعمل میں تشدد، مزاحمت اور عدم استحکام ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اصحابِ علم و دانش اور تجزیہ نگار فوج کی جانب سے اہلِ پاکستان پر روا رکھے جانے والے مظالم اور دوغلی پالیسیوں پر یوں حیرت کا اظہار کرتے ہیں گویا یہ کوئی نیا یا انہونا امر ہو۔ حالانکہ اس خطے، بالخصوص پاکستانی فوج کی تاریخ سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی اس حیرت پر خود حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
آئندہ آنے والی قسطوں میں ہماری کوشش یہ ہوگی کہ تاریخی اور دستاویزی حقائق کی روشنی میں یہ واضح کیا جائے کہ آج کے مظالم اور مشکلات اچانک رونما ہونے والے حادثات نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی سلسلے کا منطقی نتیجہ ہیں، جس کی ذمہ داری براہِ راست پاکستانی فوج پر عائد ہوتی ہے۔ آنے والی قسطوں میں ہم فوج کی تاریخ کا جائزہ لیں گے، اور اس کی پالیسیوں اور فیصلوں کے ذریعے مسلمانانِ پاکستان اور مسلمانِ عالم سے کی گئی غداری کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔ اس طرح یہ سلسلہ قارئین کے سامنے یہ واضح کرے گا کہ موجودہ بحران کی جڑیں ماضی کی فوجی پالیسیوں اور اقدامات میں پوشیدہ ہیں۔

Exit mobile version