Site icon المرصاد

پاکستانی فوجی رجیم کی حقیقت، تاریخ کے آئینے میں! ساتویں قسط

فوجی رجیم کی بعد از قیامِ پاکستان تاریخ
پاکستانی فوج کی تاسیسِ ثانی
14 اگست 1947ء کو پاکستان نامی ریاست دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی۔ جو مغربی ہندوستان کے اُن علاقوں پر مشتمل تھی جہاں مسلمان اکثریت میں تھے، یعنی پنجاب، سندھ، سرحد (خیبر پختونخوا)، بلوچستان اور کشمیر، جبکہ مشرقی حصے میں بنگال بھی اس کا حصہ تھا۔ مسلمانوں نے اس ریاست کے قیام کے لیے عظیم قربانیاں دیں اور ان کے دلوں میں یہ امید تھی کہ یہاں ایک ایسا نظام قائم ہوگا جو اسلامی اصولوں، خصوصاً ”لا إله إلا الله“ کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
لیکن جب عملی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی ڈھانچے، بالخصوص فوج میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ تقسیمِ ہند کے نتیجے میں پاکستان کو جو فوج ملی، وہ دراصل برطانوی دور کی وہی ”شاہی ہندی فوج“ تھی، جو طویل عرصے تک برطانوی سامراج کے مفادات کی نگہبان رہی تھی۔ اس فوج کی تنظیم، تربیت، نظم و ضبط، حتیٰ کہ اس کی سوچ اور حکمتِ عملی بھی بڑی حد تک برطانوی طرز پر قائم تھی۔ تقسیم کے فارمولے کے تحت پاکستان کو اس فوج اور اس کے اثاثوں کا تقریباً چھتیس (۳۶) فیصد حصہ ملا، جس میں آٹھ (۸)پیادہ، آٹھ (۸) توپخانہ اور آٹھ (۸) بکتر بند رجمنٹس شامل تھیں۔ اس کے علاوہ چند اہم تربیتی مراکز اور کراچی و چٹاگانگ میں واقع بحری تنصیبات بھی پاکستان کے حصے میں آئیں۔(پاکستان آرمی، تاریخ و تنظیم از سٹیفن پی کوہن، ص ۳)
چنانچہ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کا سب سے بڑا منظم اور قومی ادارہ یہی فوج کا ادارہ تھا، ابتدائی دنوں میں شدید انتظامی، معاشی اور دفاعی چیلنجز کا سامنا تھا۔ ان معاملات سے نمٹنے کے لیے اس فوج نے کردار ادا کیا، جس کا منطقی نتیجہ یہی نکلا کہ آنے والے سالوں اور دہائیوں میں اسی ادارے نے اس ملک کی باگ دوڑ مکمل طور پر سنبھال لی اور ریاست کی اصلاح وترقی کی بجائے یہ فوج ہی ریاست پر حاوی ہو کر پھلنے پھولنے لگی اور یوں اس فوج نے قیامِ پاکستان سے قبل نافذ فرنگی نظام میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آنے دی۔
تاہم، ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا اس فوج کی فکری اور نظریاتی بنیادوں کو بھی تبدیل کیا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس سمت میں اقدامات نہیں کیے گئے۔
اگرچہ کچھ حد تک مقامی افسران کی تربیت اور تقرری کا عمل شروع ہوا، لیکن مجموعی ڈھانچہ، نصاب اور ادارہ جاتی سوچ بڑی حد تک وہی رہی جو برطانوی دور میں تھی۔ اگر اس موقع پر ایک ہمہ گیر اصلاحی عمل شروع کیا جاتا؛ جس میں فوج کے نظریاتی رخ کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالا جاتا، تربیتی نصاب میں تبدیلی لائی جاتی اور قیادت کے ڈھانچے کو مکمل طور پر مقامی تقاضوں کے مطابق تشکیل دیا جاتا تو ممکن تھا کہ ایک نئی نوعیت کی فوج وجود میں آتی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوج کا کردار مزید وسیع ہوتا گیا۔ سیاسی عدم استحکام، خانہ جنگیوں اور بار بار آنے والے بحرانوں نے فوج کو ریاستی معاملات میں زیادہ فعال بنا دیا۔ یوں یہ ادارہ صرف ایک دفاعی قوت نہ رہا بلکہ پالیسی سازی اور حکمرانی کے بعض پہلوؤں میں بھی اثرانداز ہوتا گیا۔
اگر قیامِ پاکستان کے بعد کچھ سنجیدہ اقدامات اٹھائےجاتے اور انگریز کی وفادار اس پوری فوج کو جڑ سے تبدیل کر دیا جاتا، اس کا تربیتی نصاب جید علمائے دین، سرحدی علاقہ جات میں موجود مجاہدین اور جدید عسکری ماہرین کی رہنمائی میں ازسرِنو ترتیب دیا جاتا، فوج کی مکمل تنظیمِ نو کی جاتی اور انگریز کے نمک خوار افسر طبقے کو نکال پھینکا جاتا تو شائد اس بات کا کوئی امکان ہوتا کہ یہ فوج ”اسلامی فوج” بن جائے، لیکن عملی حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہ ہو سکا اور نہ ہی شائد اس سمت کچھ زیادہ سوچا گیا۔نتیجتا قیامِ پاکستان کےبعد بھی شاہی ہندی فوج بلا ترمیم و تطہیر برقرار رہی، البتہ اب خونِ مسلم میں لتھڑے ہاتھوں والی اسی فوج کو "پاک فوج” کہا جانے لگا!

Exit mobile version