Site icon المرصاد

پاکستانی فوجی رجیم کی حقیقت، تاریخ کے آئینے میں! آٹھویں قسط

پاکستانی فوج کی اٹھان میں برطانیہ کا کردار
تقسیم ہند سے قبل انگریزوں کی فوجی قیادت مقامی فوجیوں کو بالعموم اعلیٰ عہدوں تک ترقی نہیں دیتی تھی،اس لئے پاکستانی فوج کو ابتدائی عرصے میں افسروں کی شدید کمی درپیش ہوئی۔ ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کی کمان سنبھالنے کے لئے صرف ڈھائی ہزار افسر میسر تھے، جبکہ ضرورت چار ہزار افسروں کی تھی۔ اس کمی کو برطانیہ، ہنگری اور پولینڈ کے افسروں نے پورا کیا، جن میں سے بعض 1950ء کی دہائی تک بھی موجود رہے۔ یہی نہیں بلکہ پہلے پانچ سال تو پاکستانی برّی افواج کی قیادتِ اعلیٰ بھی انگریز افسروں کے ہاتھ میں رہی۔
پاکستانی فوج کا پہلا سربراہ جنرل فرینک میسروی(Frank Messervy) تھاجو اگست 1947ء سے فروری 1948ء تک اپنے عہدے پر رہا، جبکہ دوسرا سربراہ جنرل ڈگلس ڈیوڈ گریسی(Douglas David Gracey) تھاجو فروری 1948ء سے جنوری 1951ء تک اس عہدے پر فائز رہا۔ (‘پاکستان آرمی،تاریخ و تنظیم’ از سٹیفن پی کو ہن، ص 3)
اسی طرح پاکستانی فوج کے نہایت اہم شعبے، ایس ایس جی(یا کمانڈو دستوں) کی ابتداء بھی 1950ء میں کوئٹہ کے ”Close Quarter Battle School” میں ایک برطانوی افسر کرنل گرانٹ ٹیلر کے ہاتھوں ہوئی۔ نیز فوجیوں کی تربیت کے لئے بھی انگریز کا بنایا ہوا ”رائل انڈین آرمی سروس کور سکول، کاکول” بدستور استعمال ہوتا رہا، البتہ اس کا نام بدل کر اسے ”پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول” کہا جانے لگا۔ اعلیٰ افسران کی تربیت بھی برطانوی تربیتی ادارے کیمبر لی کے طرز پر بنائے گئے ‘سٹاف کالج کوئٹہ ‘ میں جاری رہی۔ اس کالج کی بنیاد لارڈ کِچنر نے قبل از تقسیم ِہند ڈالی تھی اور تقسیم کے بعد بھی 1954ء تک اس کی کمان برطانوی افسروں کے ہاتھ میں رہی۔ اسی طرح توپ خانے کی تربیت کے لئے نوشہرہ میں جو آرٹلری سکول قائم کیا گیا، اس کے اساتذہ کی تربیت بھی 1952ء تک برطانیہ میں ہوتی رہی اور اس کے بعد وہ تربیت کے لئے امریکہ کے فوجی مراکز فورٹ سل، اوکلاہوما جانے لگے۔( پاکستان آرمی،تاریخ و تنظیم’ از سٹیفن پی کو ہن،ص 77 تا 88)
یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ پہلے دو انگریز فوجی قائدین کے جانے کے بعد بھی جن لوگوں نے اس فوج کی قیادت سنبھالی وہ اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے جو براہِ راست انگریز افسروں سے انہی کی اکیڈمیوں میں تربیت پاچکی تھی اور مختلف جنگوں میں انگریز سے وفاداری کا عملی ثبوت بھی دے چکی تھی۔ چنانچہ جنرل گریسی کے بعد فوج کی قیادت سنبھالنے والا پہلا پاکستانی جرنیل فیلڈ مارشل ایوب خان علی گڑھ سے پڑھنے کے بعد برطانیہ میں واقع مشہور فوجی اکیڈمی ‘رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ'(Royal Military College Sandhurst) میں داخل ہوا تھا۔ سینڈ ہرسٹ کی فوجی اکیڈمی میں کسی ہندوستانی کو داخلہ ملنا آسان کام نہ تھا۔ سٹیفن کوہن اسی بات کو واضح کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"انگریز سینڈ ہرسٹ بھیجے جانے والے افراد کا بے حد احتیاط سے چناؤ کرتے تھےاور وفادار ترین، معزز ترین اور سب سے زیادہ مغربی رنگ میں رنگے ہوئے ہندوستانی خاندانوں سے انتخاب کرتے تھے۔ پھر ان(خاندانوں)میں سے بھی، خصوصاً مسلمانوں میں سے، وہ ان وائسرائز کمیشنڈ افسروں (وی سی اوز) کے بیٹوں کو شامل کرنے کی کوشش کرتے تھے جنہوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہو”۔(پاکستان آرمی، تاریخ و تنظیم از سٹیفن پی کو ہن، ص57)
شاہی ہندی فوج میں شمولیت کے بعد ایوب خان نے جنگِ عظیم دوم میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور برما کے علاقے میانمارمیں تعینات رہا۔ ایوب کے بعد جنرل موسیٰ خان نے فوج کی قیادت سنبھالی۔ موسیٰ کا باپ افغانی تھا جو ترقی کرتاکرتا ”سینئر وی سی او” کے عہدے تک پہنچ گیاتھا۔باپ کی وفاداری کے صلے میں موسیٰ کو بھی رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ کے لئے چن لیا گیا، لیکن بعد میں بعض مسائل کی وجہ سے وہ وہاں نہ جاسکا او ر اس نے شمالی ہندوستان میں واقع ایک اور برطانوی ادارے ”انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون” سے تربیت حاصل کی۔ 1936ء میں جنرل موسیٰ خان بطور کپتان وزیرستان میں مجاہدین کے خلاف فوجی آپریشن میں شریک رہا۔
آج بھی شمالی وزیرستان کے علاقے ”بویا” کی پہاڑیوں پر واقع ایک فوجی چوکی کے ساتھ موسیٰ خان کا نام جلی حروف میں لکھا ہوا ہے۔ موسیٰ کے بعد 1966ء سے 1971ء تک جنرل یحییٰ خان نے فوج کی قیادت سنبھالی۔ اس نے بھی انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون سے تربیت حاصل کی اور جنگِ عظیم دوم کے دوران اٹلی اور مشرقِ وسطیٰ میں تعینات رہا۔ جنرل ضیاء الحق، جو 1976ء سے 1988ء تک اس ملک کے سیاہ و سپید کامالک رہا، بھی براہِ راست برطانوی افسروں سے تربیت یافتہ تھا۔ ضیاء نے ابتدائی فوجی تربیت دہرہ دون سے حاصل کی اور دوسری جنگِ عظیم کے اواخر میں جنوب مشرقی ایشیاء میں برطانوی کمان تلے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ اس کے بعد اعلیٰ تربیت کے لئے اس نے "امریکی کمانڈ اینڈ جنرل اسٹاف کالج فورٹ لیون ورتھ،کینسس” (امریکہ) کا رخ کیا۔ 60ء کی دہائی کے اواخر میں ضیاء کو اردنی فوج کی تربیت پر مامور کیا گیا۔ 1970ء میں جب اردنی فوج نے اردن میں پناہ لینے والے فلسطینی مہاجرین کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو یہی ضیاء الحق تھا جس نے بطور برگیڈ یئر اردن کی دوسری فوجی ڈویژن کی کمان سنبھالی اور ہزار ہا فلسطینی مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق اس کاروائی کے دوران 25،000 کے قریب بےگناہ فلسطینی مسلمان شہید کیے گئے۔ برطانوی اکیڈمیوں میں تربیت پانے والی اس نسل کا آخری اعلیٰ افسر جنرل آصف نواز جنجوعہ تھا۔ جنرل آصف نواز 1991ء سے 1993ء کے دوران پاکستانی بری فوج کا سربراہ رہا۔ اس نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی میں واقع سینٹ میری مشنری سکول سے حاصل کی اور ایک موقع پر خود اس بات کا اظہار کیا کہ اس کی پرورش میں سب سے اہم کردار اسکول کے دویورپی اساتذہ، پادری برنز اورمیڈم مے فلینگن کا تھا۔ آصف نواز نے بھی ابتدائی فوجی تربیت برطانیہ کے علاقے سینڈ ہرسٹ میں واقع فوجی اکیڈمی سے حاصل کی تھی۔ گویا پانچ سال برطانوی افسروں کی زیرِ کمان رہنے کے بعد تقریباً 42 سال یہ فوج برطانیہ کے منتخب کردہ اور برطانویوں سے تربیت یافتہ افسروں کے ہاتھ میں رہی۔
چنانچہ وہی فوجی طبقہ جس کی مدد سے برطانیہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک صدی سے زائد عرصہ غلام بنائے رکھا اور جس کے بل پر ہندوستان میں جڑ پکڑنے والی ہرجہادی تحریک کو کچلا گیا، ”آزادی” کے بعد بس وہی بدبخت طبقہ آزاد ہوا، جبکہ باقی سب مسلمان، خصوصاً علماء و مجاہدین ان غداروں کی غلامی تلے رہنے پر مجبور ہوئے۔ تحریکِ مجاہدین کے سرفروش تو پاکستان بننے کے بعد بھی ‘دشمن ‘ ہی سمجھے جاتے رہےاوراس فوج نے ان کا تعاقب اسی طرح جاری رکھا جیسے وہ قبل از قیامِ پاکستان کیا کرتی تھی۔ ایک طرف قبائلی علاقہ جا ت میں ایپی فقیرؒ اور دیگر جہادی قائدین کا پیچھا کیا گیا اور ان کے اجتماعات پر بمباری کی گئی، تو دوسری طرف پاکستان کے شہری علاقوں میں بھی تحریک سے منسلک افراد کا تعاقب جاری رہا۔
ڈاکٹر صادق حسین اسی نکتے کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"جو مجاہدین پاکستان واپس آگئے، وہ یا تو عسرت کی زندگی بسر کرتے ہوئے ولولہ جہاد کی سرگزشتوں کو سینوں میں دبائے ہوئے راہی ملکِ عدم ہوئے، یا حکومت ِ پاکستان کی پولیس کی نگرانی میں زندگی کے ایام گزارتے رہے۔ اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ وہ انگریزی حکومت سے بر سرِجنگ رہتے تھے، اس لئے اب بھی دشمن ہی سمجھے جاتے تھے”۔ (سیداحمد شہید اور ان کی تحریک مجاہدین، ص:۷۶۹)
پس چونکہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی اس فوج کا نصابِ تربیت تبدیل نہیں کیاگیا، لہٰذا فوج میں ‘دوست ‘ اور ‘دشمن’ کی تعریف بھی بنیادی طور پر وہی رہی جو اسے برطانیہ نے قبل از قیامِ پاکستان سکھلائی تھی۔

Exit mobile version