گزشتہ شب ایک بار پھر پاکستانی فوجی رجیم کی سیاہ سیاست کابل کے آسمان پر بارود کے دھوئیں میں ظاہر ہوئی۔ بموں کی وہ گونج جس نے شہر کو لرزا دیا، محض ایک حملے کی علامت نہ تھی؛ بلکہ یہ اس رجیم کی چیخ تھی جو اپنی بقا دوسروں کے خون میں تلاش کرتا ہے۔ نشہ کے عادی افراد کے علاج کے مرکز پر بمباری کوئی جنگی کارروائی نہ تھی، بلکہ انسانیت کے خلاف ایک کھلا جرم تھا۔ وہاں نہ کوئی مورچہ تھا، نہ فوج، اور نہ کوئی معرکہ برپا تھا۔ وہاں بے بس انسان پڑے تھے جو اپنی زندگی بچانے کے لیے علاج کروا رہے تھے، مگر پاکستان کے فوجی رجیم کے اندھے بموں نے انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
یہ درندگی محض ایک رات کا واقعہ نہیں، بلکہ اس خونچکاں سیاست کا تسلسل ہے جسے پاکستان کے فوجی رجیم کا ایک متکبر اور بے رحم حلقہ آگے بڑھا رہا ہے۔ اسی سیاست کے سرِخیل عاصم منیر اور اس رجیم کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف ہیں؛ ایسی شخصیات جو اپنے اقتدار کی بقا کے لیے جنگ کی آگ کو ہوا دیتی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کے دوام کو اپنی حکمتِ عملی سمجھتی ہیں۔ ان کی سیاست امن کی زبان سے ناواقف ہے؛ ان کی زبان بارود ہے اور ان کی منطق بمباری۔
فرضی سرحد پر بھی روزانہ کی بنیاد پر یہی خونی منظرنامہ دہرایا جاتا ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم کی توپیں افغانوں کے گھروں پر آگ برساتی ہیں، دیہات بارود کے دھوئیں میں گم ہو جاتے ہیں اور نہتے افغان مسلمان ان اندھا دھند حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ عورتیں، بچے، نوجوان اور بوڑھے؛ وہ لوگ جن کا جنگ سے کوئی واسطہ نہیں، ان وحشی گولوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہ جنگ نہیں، بلکہ بربریت کی وہ شکل ہے جس کا ارتکاب صرف وہی رجیم کرتے ہیں جو اخلاقی زوال اور ظالمانہ ذہنیت کا شکار ہوں۔
اس ظالم اور کٹھ پتلی رجیم نے اسلام، انسانیت اور مسلمانیت کی تمام حدیں پامال کر دی ہیں۔ وہ ہاتھ جو مسلمان کے خون کی حفاظت کے لیے اٹھنے چاہییں تھے، نہتے انسانوں کے قتل کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ جب ظلم اس حد کو پہنچ جائے کہ انسانیت کی تمام سرحدیں پار کرلی جائیں، تو تاریخ کا ردِعمل بھی نرم نہیں رہتا۔ اسی انداز سے ان کے مقابلے میں بھی تمام حدود کو پامال ہوں گے۔ ظلم کی بلند وبالا عمارتوں کے ستون لرزیں گے، متکبر حکمرانوں کی گردنیں مروڑی جائیں گیں اور غرور کے تاج اپنے ہی جرائم کے بوجھ تلے زمین پر آ گریں گے۔
تاریخ ہمیشہ ظالموں کے لیے ایک بے رحم قاضی رہی ہے۔ ایک ایسا قانون دنیا میں موجود ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا: وہ ریاستیں اور رجیم جو دوسروں کے امور میں دخل اندازی اور انہیں کمزور کرنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں، بہت جلد خود بھی اسی عدم استحکام کی لہروں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ جو شخص اپنے پڑوسی کے گھر میں آگ لگاتا ہے، وہ جلد ہی اسی آگ کے شعلے اس کے اپنی چھت تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ جو بارود دوسروں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، بالآخر اس کی لپٹ، خود بارود تیار کرنے والے کے دامن کو بھی جلا دیتی ہے۔
افغانستان وہ سرزمین ہے جس نے بڑی بڑی سلطنتوں کو شکست دی ہے۔ یہ قوم دکھوں میں پلی بڑھی ہے، مگر آج تک شکست نہیں کھائی۔ بمباریاں شہروں کو لرزا سکتی ہیں، مگر اس قوم کے عزم و حوصلے کو نہیں توڑ سکتیں؛ کیونکہ مظلوم کا خون محض خون نہیں ہوتا، وہ عدل و انصاف کی ایک پکار، تاریخ کی ایک صدا اور ایسی آگ ہوتی ہے جو انجام کار ظالم کے تخت کی بنیادوں کو جلا کر بھسم کردیتی ہے۔
آج اگر پاکستانی فوجی رجیم کا غرور بارود کے شور میں مست ہے، تو کل تاریخ کا سخت اور کڑا احتساب اسی غرور کے محل کو منہدم کر دے گا۔ وہ دن ضرور آئے گا جب ظالم و جابر حکمران اپنے ہی جرائم کے بوجھ تلے گر پڑیں گے، ان سے ذرے ذرے کا حساب لیا جائے گا اور نہتے و معصوم مسلمان افغانوں کا خون عدالتِ انصاف میں اپنی آخری گواہی دے گا۔

