Site icon المرصاد

پاکستانی فوجی رجیم کے جرائم!

پاکستان کے فوجی رجیم نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے سنگین جرائم، جارحیتوں اور مظالم کا ارتکاب کیا ہے، جو نہ صرف اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ انسانیت بھی ان پر شرم محسوس کرتی ہے۔ یہ جرائم، جو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک دونوں سطحوں پر کیے گئے، اکثر مسلمانوں اور اسلام کے سچے پیروکاروں کے خلاف تھے۔ خصوصاً فوجی رجیم کے اقدامات ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ رویّے کے طور پر معروف رہے ہیں، جن سے عالمی کفری طاقتوں نے سیاسی اور خفیہ مفادات حاصل کیے۔

پاکستانی فوجی رجیم کے مظالم بےشمار اور حد سے بڑھ کر ہیں؛ یہاں صرف چند نمایاں جرائم کی نشاندہی کی جاتی ہے:

۱۔ مسلمانوں کا قتلِ عام:
اس دجالی فوج کا مقصد ہمیشہ مسلمانوں کو قتل کرنا، اذیت دینا اور مختلف طریقوں سے انہیں عذاب میں مبتلا رکھنا رہا ہے۔ جیسے فرعون نے بنی‌اسرائیل کے بچوں کا قتلِ عام کیا تھا، اسی طرح اس فوج نے فرزندانِ اسلام کو خاک و خون میں نہلایا اور امت کی عصمتوں کو پامال کیا۔ سب سے نمایاں مثال ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے ایمان ‌دار مسلمانوں کے قتلِ عام کی ہے، جہاں تین ملین سے زائد افراد کو شہید کیا گیا اور ہزاروں خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں۔ علماء کی شہادتیں، مدارس کی تباہی، اور حفاظ و حافظات کے قتل جیسے واقعات آج بھی تاریخ کا سیاہ باب ہیں۔

۲۔ مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کرنا، املاک لوٹنا اور جبری بے‌دخلیاں:
اس ناپاک فوج کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو ان کے گھروں اور بستیوں سے جبراً بے‌دخل کیا، ان کے اموال لوٹے اور بے‌شمار خاندانوں کو بے‌سر و سامانی میں دھکیل دیا۔ ان کا طرزِ عمل ہٹلر، نمرود، ہلاکوخان اور پل‌ پوت جیسے جابروں سے مشابہ ہے، جنہوں نے لوگوں کی املاک اور مسکن برباد کیے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کے اُن مہاجرین کی ہے جنہیں جبراً نکالا گیا اور جن کے مال و اسباب لوٹ لیے گئے؛ صرف ۲۰۲۴ء میں جبری بے‌دخلی کے ۳۰۷ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

۳۔ قومی امتیاز، شہروں کی تباہی اور پشتون قوم کے خلاف اقدامات:
پاکستانی فوجی رجیم نے عرصہ دراز سے مسلسل پشتون قوم کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے خلاف فوجی کارروائیاں کی گئیں، انہیں بے‌گھر کیا گیا، اور ان کی روزمرہ زندگی کی تمام خوشیاں چھین لی گئیں۔ بلوچستان اور وزیرستان میں ضربِ عضب جیسے فوجی آپریشن اور بمباریاں اس کی واضح مثالیں ہیں، جنہوں نے پورے شہروں اور دیہاتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
۴۔ امت مسلمہ کے رہنماؤں اور مجاہدین کی شہادت، اور انہیں کفار کے حوالے کرنا**
اس دجالی فوج کا ایک اور سنگین جرم امتِ مسلمہ کے مخلص رہنماؤں کا قتل اور مجاہدینِ اسلام کو کفار کے سپرد کرنا ہے۔ یہ اکثر کفر کے ساتھ صف میں کھڑے نظر آتے ہیں اور خطے میں امریکہ کے نمائندے کے طور پر کردار ادا کرتے ہیں۔ شیخ اسامہ بن لادنؒ کی شہادت انہی کی جاسوسی کا نتیجہ تھی، جب کہ ابوزبیدہ، رمزی بن الشیبہ، خالد شیخ محمد، ابو الفرج اللیبی اور دیگر مجاہدین کو بھی انہوں نے امریکہ کے حوالے کیا، اور ان کے خاندانوں کو کافروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

۵۔ عصمت و ناموس فروشی:
پاکستان کی ظالم فوج کا ایک اورعظیم جرم امت کی عصمتوں کا سودا ہے۔ یہ ایسا گھناؤنا عمل ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ عافیہ صدیقی اور دیگر باایمان خواتین کا داغ آج بھی امت کے سینے پر ہرا ہے، اور یہ گھناؤنا عمل بھی اسی جعلی اور طاغوتی فوج کے ہاتھوں انجام پایا ہے۔

اس ناپاک فوج کے مزید ایسے بے‌شمار جرائم ہیں جنہیں قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان میں کفری قانون کا نفاذ بھی انہی کے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔ یہی مظالم اور جرائم وہ اسباب ہیں جنہوں نے مختلف علاقوں میں پاکستان کے خلاف مسلح مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ چونکہ یہ طاغوتی فوج ان مزاحمتی تحریکوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس لیے تمام تر ذمہ داری امارتِ اسلامی اٖفغانستان پر ڈال کر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتی ہے۔

Exit mobile version