Site icon المرصاد

پاکستانی فوجی نظام اور صہیونی کارروائیاں!

جیسے اسرائیل اور پاکستان ایک وقت میں ایک ہی مقصد کے لیے وجود میں آئے تھے، آج بھی یہ دونوں اپنے ماضی کی طرح اسی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں: مسلمانوں کا قتل، احکام اسلام کی روک تھام اور نسل کشی۔ یہ دونوں ’’برادر ممالک‘‘ امتِ مسلمہ کے مختلف خطوں میں ایک سرطان کی مانند پیدا ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کے لیے کسی بھی حد سے دریغ نہیں کرتے۔

رمضان کے آغاز سے دو دن قبل، امارتِ اسلامیہ کی افواج نے پاکستان کے دجالی و سفاک رجیم کے چند فوجیوں کو آزاد کیا۔ جس کے جواب میں، یہ ناشکر و احسان فراموش رجیم نے صہیونی رجیم کی تقلید کرتے ہوئے، آدھی رات کو عام عوام، معصوم بچوں اور خواتین پر حملہ کیا، قرآن کریم کے نسخے شہید کیے اور مدارس کو تباہ کر دیا۔

اسی دوران، اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور اسلامی ملک، ایران، پر حملے کیے اور وہاں بھی مسلمانوں کے قتل کی کوششیں کیں۔ دونوں اسرائیلی نظاموں نے مسلمانوں کے نزدیک ماہ مقدس رمضان المبارک کی حرمت کا لحاظ کیا، نہ بچوں اور معصوم لوگوں کی جانوں کی پرواہ کی، اسرائیلی رجیم جو خود کو یہودی سمجھتا ہے، نے ایران پر حملہ کیا، اور فوجی رجیم جو خود کو مسلمان کہتا ہے، نے انہی یہودیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان سے بڑھ کر شدید اور اندھا دھند بمباریوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

اب جبکہ عید قریب ہے، اس خونخوار رجیم نے ایک بار پھر اسرائیل رجیم کی پیروی کرتے ہوئے، جس میں ہر سال عید کے قریب مسجد الاقصیٰ میں مسلمان شہید کرتا، غزہ میں ہسپتال نشانہ بناتا اور دنیا بھر کے مؤمنوں کی عید کو غم میں بدل دیتا۔ اسی طرح یہ درندہ صفت فوج اور اس کے ظالم حکمرانوں نے کابل میں قائم ایک نشے کے عادی افراد کے لیے بنائے گئے ہسپتال کو نشانہ بنایا اور سینکڑوں بے گناہ مریضوں کو شہید اور زخمی کر دیا۔

جب اسرائیل نے غزہ میں کوئی بڑا ہسپتال جیسے الناصر ہسپتال، الشفاء ہسپتال یا شهداء الاقصیٰ ہسپتال کو نشانہ بنایا، تو فوراً میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال کے نیچے حماس کے جنگجو موجود تھے اور دیگر بہانے بنائے گئے، لیکن اسرائیل نے کبھی یہ جھوٹ نہیں بولا کہ ’’ہم نے ہسپتال پر حملہ نہیں کیا‘‘، اس اسرائیل کے برعکس مشرقی اسرائیل(پاکستان) نے جب ہسپتال پر بمباری کی، تو تمام صحافیوں اور میڈیا اداروں نے مریضوں، زخمیوں اور شہیدوں کی تصاویر اور مناظر دکھائے۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ وہاں مریض، جو ابھی صحتیاب نہیں ہوئے تھے، انہیں آگ و خون میں تڑپا دیا گیا۔ اس بمباری کے بعد پاکستان فوجی رجیم کے بے شرم ترجمان کہتے کہ’’ہم نے کابل میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔‘‘

یہ تمام مظالم اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور اسرائیل کا وجود ایک ہی مقصد کے لیے ہے: مسلمانوں کا قتل اور احکامِ اسلام کی روک تھام۔ لیکن پاکستان کے فوجی رجیم کو معلوم ہونا چاہیے کہ افغانوں نے اپنے خون اور شہداء کا انتقام ابھی تک کسی کو نہیں بخشا۔ ہر وہ شخص جس نے کابل کی عظمت، جلال اور غرور کو میلی آنکھ سے دیکھا اور اپنے ناپاک قدم اس مبارک سرزمین پر رکھے، ہم نے ایسے درندوں کو خون میں نہلایا، ان کی ماؤں کو رلایا اور ان کے باپ کو بے سہارا کیا اور نورِ ایمان سے منور کابل کا انتقام ہم نے کئی گنا بڑھا کر لیا ہے۔

یہ وہ محمد الفاتح کی اولاد ہیں جنہوں نے قسطنطنیہ کی دیواروں پر صلیبیوں کا گوشت اور پتھر منجنیقوں میں ڈالا، وہ غزنوی سلطان کے بیٹے ہیں جنہوں نے سندھ، پنجاب اور ہند میں یلغار کرنے والوں کے سینوں کو تیروں سے چھلنی کیا اور ان کے سروں کو نیزوں پر اٹھائے سومنات کے بت خانے لے جاکر انہیں سروں سے سومنات کو ٹکڑے ٹکرے کیا۔ یہ نسل ان آبا و اجداد کی تربیت کی ہوئی نسل ہے، جنہوں نے دو خونریز جنگوں میں انگریز استعماری افواج کے خون میوند کے دشتوں میں بہائے ہیں۔ اسی خون سے غازیوں کے باغات کو سیراب کیا، دشمن کو ناکوں چنے چبوائے، ہزاروں سرخ فوجیوں کو تہ تیغ کیا اور اس سرزمین کو ان کے وجود سے پاک کیا۔

یہ ملا صاحب(ملا محمد عمر مجاہدؒ) کے تربیت یافتہ سپاہی ہیں جنہوں نے امریکی طاغوت کو شدید عسکری نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصانات پہنچائے، ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے، انہیں قوت ذائقہ اور قوت شامہ(سونگھنے) سے محروم کرڈالا۔

یہ سب کچھ انہوں نے خالی ہاتھ اور معمولی وسائل کے ساتھ کیا، جب آپ کے آقاؤں کو ان وسائل کے ذریعے اس حال تک پہنچایا۔ یقین رکھیں! آپ بھی اپنے آقاؤں کی طرح اسی بدبخت انجام سے دوچار ہوں گے۔
شہداء کے خون کا انتقام شدید ہوگا، اس اسلامی خطے کا جغرافیہ وسیع ہوگا، دینِ اسلام کا مضبوطی سے دفاع کیا جائے گا، اور شیخ صاحب(امیرالمؤمنین) کے مبارک لشکروں کے سامنے کوئی سیکولر یا لارڈ میکالے کا تربیت یافتہ رکاوٹ نہیں بن سکتا، اور اس کے نتیجے میں مظلوم قومیں تمہارے ظلم و جبر سے آزاد ہو جائیں گی، ان شاء اللہ۔

Exit mobile version