Site icon المرصاد

پاکستان تباہی کے دہانے پر! آٹھویں قسط

آٹھواں سبب، جس سے پاکستان کے زوال کی پیشگوئی کی جاتی ہے، وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خراب تعلقات ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ فریب اور دھوکے پر مبنی رویہ اختیار کیا ہے۔ بھارت اور پاکستان کا تنازعہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔

تاریخ کا مطالعہ کریں تو بھارت اور پاکستان کے درمیان تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں، اور دونوں ممالک اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ایک کی موجودگی دوسرے کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان کا تنازعہ نہ تو محض مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کسی چیز کی قیمت ادا کر کے بھارت سے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے، کیونکہ بھارت پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ہی پر دعویٰ رکھتا ہے اور اس کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرتا۔

بیسویں صدی میں پاکستان اور بھارت تقریباً یکساں رفتارسے ترقی کر رہے تھے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت نے غیرمعمولی اقتصادی اور عسکری ترقی کی ہے، جبکہ پاکستان بے مثال زوال اور پسماندگی کا شکار ہے۔ خفیہ اداروں کی سطح پر بھی آج بھارت پاکستان سے کہیں آگے ہے، اور پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں سب سے بڑا دھچکا اپنے ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے کھایا ہے۔

بیس برس پہلے پاکستان کو بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں گہرا خفیہ اثرورسوخ حاصل تھا، اور وہاں کے مسلمان پاکستان کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ پاکستانی فوجی حکمران طبقہ اسلام اور جہاد کا سہارا لے کر ان پر اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے تھا۔

مگر جب بھارتی زیرِانتظام کشمیر کے مسلمانوں نے دیکھا کہ پاکستانی جرنیل ان کے خون سے تجارت کر رہے ہیں، ان پر ہندوؤں سے بھی زیادہ ظلم ڈھاتے ہیں، اور کشمیری مہاجرین کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، تو انہیں یقین ہو گیا کہ نام نہاد ’’غزوۂ ہند‘‘ اور اسلامی اخوت کا نعرہ دراصل پاکستانی جرنیلوں کے لیے صرف اپنے ظالمانہ نظام کے دوام اور ذاتی مفادات کا ذریعہ ہے۔

چنانچہ کشمیری عوام نے پاکستان کے فوجی رجیم سے منہ موڑ لیا اور بھارت کے قریب ہونا شروع ہوئے۔ یہی وجہ بنی کہ بھارت کے لیے اپنے زیرِانتظام خطے پر مکمل قبضہ کرنا آسان ہوگیا، اور اب وہ پاکستان کے زیرِکنٹرول کشمیر کی طرف بھی ہاتھ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اسلامی پالیسی اختیار نہ کی اور اسی طرح دین سے انحراف پر قائم رہی، تو بہت جلد وہ اپنے زیرِانتظام کشمیر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت صرف کشمیر پر اکتفا نہیں کرے گا؛ اس کا دعویٰ تو سندھ تک کا ہے۔ اگر صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی کمزور حالت اور بھارت کی تیزرفتار ترقی نے بھارت کے لیے پاکستان میں مداخلت کو مزید آسان بنا دیا ہے۔

اسی طرح پاکستان کا ایک اور پڑوسی ملک ایران ہے۔ کچھ عرصہ قبل دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اچانک حملے کیے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت ایران کے ساتھ بھی قابلِ اعتماد تعلقات برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ ایران بخوبی جانتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی مکمل تابع دار ہے، اور اگر امریکہ حکم دے تو پاکستان ایران کے خلاف کچھ بھی کر سکتا ہے۔ جس طرح پاکستان نے اپنے دوسرے مسلمان پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف امریکیوں کو اڈے دیئے تھے، اسی طرح ایران کے خلاف بھی دینے میں دیر نہیں لگائے گا۔ امریکہ کی اسی غلامانہ پالیسی نے پاکستان کے دوسرے پڑوسی چین کو بھی پاکستان سے بدگمان کر دیا ہے۔

پاکستان کا ایک اور ہمسایہ افغانستان ہے، جس کے ساتھ اس وقت اس کے تعلقات نہایت کشیدہ ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کے خلاف امریکہ کو اپنا فضائی راستہ فراہم کیا ہے، اور آج بھی امریکی ڈرون روزانہ پاکستانی فضاؤں سے گزر کر افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف کھلی جارحیت شروع کر رکھی ہے، جو اگر طویل مدت رہی تو یقینا یہ پاکستانی فوجی نظام کے لیے ذلت کا باعث بنے گی۔

مختصر یہ کہ پاکستان کے تمام پڑوسی ممالک پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ پاکستان ایک آزاد ریاست نہیں بلکہ امریکہ اور مغربی قوتوں کی ایک کرائے کی فوجی چوکی ہے۔ اگر پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہمسایہ ممالک کے بارے میں اپنا موجودہ رویہ نہ بدلا، تو اس کے پڑوسی بھی مجبور ہو جائیں گے کہ پاکستان کے خلاف متحد ہوں، اس کے مخالفین کو مضبوط کریں، یا پھر طاقت کے ذریعے پاکستانی فوجی نظام کو گرا دیں۔ حد تو یہ ہے کہ بھارت کا صبر بھی اب جواب دے چکا ہے، اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ پاکستان کے خلاف عسکری مداخلت کے سوا کوئی مفید راستہ باقی نہیں رہا۔

Exit mobile version