Site icon المرصاد

پاکستان تباہی کے دہانے پر! بارہویں قسط

جس طرح پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے، خطے کی موجودہ صورتِ حال پاکستان کے زوال کا ایک اور سبب بن رہی ہے۔ اگر فوجی جرنیل سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہیں تو بھی یہ ان کے لیے نقصان دہ ہے، اور اگر ساتھ نہیں دیتے تب بھی خسارے میں رہیں گے۔ اسی طرح موجودہ علاقائی حالات میں ایک اور اہم عامل جو پاکستان کے زوال کا باعث بن سکتا ہے، وہ افغانستان کے ساتھ اس کے فوجی جرنیلوں کی جنگ ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ افغانوں نے کبھی جنگ نہیں ہاری، اور پاکستانی جرنیلوں نے کبھی کوئی جنگ نہیں جیتی۔ یہی افغان قوم تھی جس نے برطانوی سلطنتِ عظمیٰ کو اس کی وسعت سے سمیٹ کر محض ایک چھوٹا سا برطانیہ بنا دیا۔ اسی طرح انہوں نے سوویت یونین کو توڑ کر روس تک محدود کر دیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے افغانوں کی تلوار میں ایک ایسا خاص کمال رکھا ہے کہ جس دشمن کو وہ شکست دیتے ہیں، وہ بالآخر ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔

پاکستانی جرنیل چونکہ ہمیشہ جنگ کو ایک منصوبے اور پروجیکٹ کے طور پر دیکھتے رہے ہیں، اس لیے انہوں نے افغانوں کے ساتھ جنگ کو بھی نہایت سطحی نگاہ سے پرکھا ہے۔ انہوں نے کبھی افغانوں کے ساتھ جنگ کے روحانی اور معنوی پہلو کا مطالعہ نہیں کیا۔ وہ اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکے کہ افغانوں کے ہاتھوں شکست کا مفہوم محض ہار نہیں بلکہ بسا اوقات تقسیم بھی ہوتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی اندرونی انتشار اور تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہے، اور جب وہ ایسے دشمن سے برسرِ پیکار ہو جو اپنے مخالفین کی تقسیم کی تاریخ رکھتا ہو تو پاکستان کی ممکنہ تقسیم گویا صرف وقت کی بات رہ جاتی ہے۔

پاکستانی جرنیل اس بار گویا الٹی سمت میں شراب کے نشے سے بیدار ہوئے ہیں۔ ماضی میں جب پاکستانی جرنیلوں کا جبر اپنے ہی عوام پر حد سے بڑھ جاتا تھا تو وہ بھارت کے ساتھ نمائشی جھڑپوں کا سہارا لیتے تھے اور اسلام و جہاد کے نام پر اپنی عوام کو وقتی طور پر مطمئن کر کے اتحاد کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ ان کی الجھن اس لیے بڑھ گئی ہے کہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ جنگ اسلام، شریعت اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے، اور اس کے لیے وہ کسی بھی طرح کوئی شرعی یا قانونی جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

بلکہ یہی جنگ پاکستان کے اسلام پسند نوجوانوں کے لیے ان کے خلاف جہاد کے فرض ہونے کی دلیل بن سکتی ہے۔ اسی جنگ میں انہوں نے کھلے عام اسلامی شعائر کو نشانہ بنایا: مدارس کو شہید کیا، قرآنِ کریم کے اوراق کو جلایا، اور مظلوم عورتوں اور بچوں کو شہید کیا۔ اس طرح انہوں نے عملاً ان اسلام پسند نوجوانوں کے اس دعوے کو سچ ثابت کر دیا کہ پاکستانی فوجی جرنیل قرآنِ کریم اور شعائرِ اسلام کے دشمن ہیں۔
شاید یہ پاکستانی جرنیلوں کی تاریخ کی پہلی جنگ ہو جسے عوامی حمایت حاصل نہیں، بلکہ اس کے برعکس پورا عوامی حلقہ ان کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم پوری دنیا میں ایک ہی قرآن ہے؛ اس میں افغانی، پاکستانی یا کسی اور قوم کی تفریق نہیں۔ دنیا کے جس بھی خطے میں کوئی قرآنِ کریم کی بے حرمتی کرے گا، امتِ مسلمہ کے نوجوان بلا استثنا اس کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ جب قرآنِ کریم کی حرمت کا معاملہ سامنے آتا ہے تو مسلمان نوجوان وطن، سرحد اور قومیت کی حدوں کو نہیں دیکھتے، بلکہ صرف انتقام اور دفاعِ حرمتِ قرآن کا جذبہ رکھتے ہیں۔

پاکستانی فوجی جرنیلوں نے افغانستان کے ساتھ جنگ کی پہلی ہی رات قرآنِ کریم اور شعائرِ اللہ سے دشمنی بھی مول لے لی، اور ممکن ہے یہ دشمنی انہیں بہت بھاری قیمت میں چکانی پڑے۔ بعید نہیں کہ پاکستان کی فوج میں نچلے درجے کے ایسے مسلمان نوجوان موجود ہوں جو قرآنِ کریم کے انتقام کی خاطر اپنے ہی جرنیلوں کی طرف بندوق کا رخ موڑ دیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی قرآنِ کریم سے دشمنی شروع کی، اسے کبھی کامیابی نصیب نہیں ہوئی؛ اس کا انجام ہمیشہ ذلت، رسوائی اور ندامت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

میں اس تحریر کے ذریعے پاکستانی فوجیوں کو، خصوصاً ان نچلے عہدوں پر موجود نوجوانوں کو جو اسلامی عقیدہ رکھتے ہیں اور مسلمان ہیں، یہ پیغام دینا چاہتا ہوں:
اے نوجوان! اللہ تعالیٰ نے تمہیں مضبوط بازو عطا کیے ہیں اور تمہارے ہاتھ میں ہتھیار ہے۔ اگر تم آج قرآنِ کریم کا انتقام نہیں لیتے تو پھر کب لو گے؟
کیا زندگی میں قرآنِ کریم سے بڑھ کر بھی کوئی چیز اہم ہو سکتی ہے؟

جو مسلمان قرآنِ کریم سے بڑھ کر اپنے ماں باپ کو اہمیت دے، اس کے ایمان پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے؛ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان قرآن سے بڑھ کر کسی فوجی جرنیل کو اہمیت دے۔
آج اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک سنہری موقع دیا ہے کہ تم قرآنِ کریم کے انتقام کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔ وہ فوجی جرنیل جس نے اللہ کے کلام پر بمباری کی، مدرسے کو شہید کیا اور مظلوم مسلمان عورتوں اور بچوں کو قتل کیا، وہ تمہارے بالکل قریب کھڑا ہے۔
ہاں، اے نوجوان! اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ موقع عطا کیا ہے تو دوسری طرف تمہیں ایک بڑے امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔

اگر تم اسی فوجی جرنیل پر اپنی بندوق کا میگزین خالی کر دو تو یقیناً تم اللہ کے اس امتحان میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھا لو گے۔
اور اگر تم خاموش کھڑے رہو اور اس کا ساتھ دو تو یقیناً تم قرآنِ کریم کی دشمنی میں شریک ہو جاؤ گے اور تمہارا حصہ ابدی ذلت اور رسوائی ہو گا۔
وما علینا إلا البلاغ

Exit mobile version