Site icon المرصاد

پاکستان تباہی کے دہانے پر! دسویں قسط

دسواں سبب جس کی بنا پر پاکستانی حکومت کے سقوط کا امکان ہے، پاکستانی فوجی رجیم کی وسیع مالی اور انتظامی کرپشن ہے۔

پاکستان میں کرپشن کے بارے میں ایک قومی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً ۴۶ فیصد لوگ قانونی کاموں تک کے لیے بھی سرکاری افسران کو رشوت دینے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (Transparency International) کی فہرست میں پاکستان اب بھی ۱۳۵ویں نمبر پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید واضح ہو گیا جب پاکستانی فوجی رجیم کا ایک نمایاں اور طاقتور رکن، فیض حمید، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں قید کی سزا کا مستحق ٹھہرا۔ فیض حمید پاکستانی فوجی رجیم کے خفیہ ادارے کا سربراہ رہ چکا تھا۔ اس کیس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم اوپر سے نیچے تک کرپشن میں ملوث ہے۔

اسی طرح گزشتہ تین یا چار برسوں میں سب سے زیادہ پاکستانی جرنیلوں اور افسران کو کرپشن کے الزامات پر یا تو ریٹائر کیا گیا یا برطرف کیا گیا۔ پاکستان کے آڈیٹر جنرل (AGP) کی رپورٹ کے مطابق فوج کے شعبے میں قلیل مدت کے اندر تقریباً ۲۵ ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ رقم ضائع اور خردبرد ہوئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) بھی مسلسل رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم بڑے پیمانے پر مالی کرپشن میں ملوث ہے۔ اگرچہ ماضی میں پاکستان کی سول حکومت، خصوصاً پولیس کے شعبے میں، وسیع پیمانے پر کرپشن موجود تھی اور فوج کے کچھ درمیانی درجے کے جرنیل بھی کرپشن میں ملوث تھے، مگر فیض حمید کے مقدمے نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستانی فوجی رجیم کے اعلیٰ حکام بھی کرپشن میں شامل ہیں۔

پاکستانی فوجی رجیم کی کرپشن اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی ان کی وسیع کرپشن سے تنگ آ چکی ہیں۔ انتظامی کرپشن اس نہج تک پہنچ گئی کہ عمران خان کو ناجائز جیل میں ڈالا گیا اور شہباز شریف کو وزیرِاعظم کی مسند پر لا بٹھایا گیا۔

اسی طرح تمام پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ عاصم منیر اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے غیر قانونی طور پر اپنی حکمرانی کی مدت بڑھا رہا ہے اور سپریم کورٹ کے اختیارات کو بھی غیر قانونی طور پر محدود کر رہا ہے۔

پاکستان میں کرپشن اس قدر خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب فوج اور سول حکومت مل کر کرپشن کر رہے ہیں، اور مالی و انتظامی کرپشن کے لیے فوج اور سول حکومت ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔

تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی حکومت ظلم اور کرپشن کے ساتھ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی؛ اس کا انجام لازماً سقوط ہوتا ہے۔

اس کی بہترین مثال افغانستان کی سقوط شدہ جمہوری حکومت ہے، جسے بچانے کے لیے دنیا کی ۴۲ سپر پاورز نے اپنی تمام مالی اور عسکری کوششیں کیں، مگر ناکام رہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم، جس میں کرپشن اب عادت اور ثقافت بن چکی ہے، لازماً سقوط کا شکار ہوگی۔

Exit mobile version