ہر ملک اور حکومت کی بقا اور مستقبل اس ملک کی سیاسی پالیسیوں، حکمت عملیوں اور سٹریٹجیوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ دنیا میں ممالک ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ ممالک مذہبی، قومی اور فکری حکمت عملیوں پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ کچھ دیگر بڑی طاقتوں کی مفادات اور مقاصد کے لیے اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ عوام کے لیے فطری طور پر کوئی محرک نہیں ہوتا، بلکہ بڑی طاقتوں کی جانب سے پروپیگنڈے کے ذریعے ایک محرک ان کے ذہن میں پیوست کر دیا جاتا ہے۔
پاکستانی موجودہ نظام کے خاتمے کے لیے واضح آثار موجود ہیں، جن میں سے کچھ کو تفصیل سے ذیل میں ذکر کرتا ہوں:
اول: پاکستان کی سیاسی عدم استحکام
اگر پاکستان کے موجودہ حالات پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور سیاسی جماعتیں اب پہلے کی طرح اتحاد کی مشترکہ بنیاد نہیں رکھتیں۔ بیس سال پہلے، پاکستان میں تقریباً ہر شہری دو نعرے لگاتا تھا:
ایک "سب سے پہلے پاکستان” اور دوسرا "پاک فوج زندہ باد”۔
اس وقت کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ فوج پر معمولی تنقید بھی کرے۔ موجودہ دور میں پاکستانی فوج عوام اور لوگوں کے ذہنوں میں پہلے کی طرح تقدس نہیں رکھتی، بلکہ لاکھوں افراد نے اس کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور تقریباً ہر دوسرے پاکستانی کی رائے یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے کرپٹ اور مفاد پرست ٹولہ موجودہ فوجی جرنیل ہیں۔
اب ہر پاکستانی جانتا ہے کہ مغرب میں سب سے مہنگے جزیرے اور مہنگے ہوٹل فوجی جرنیلوں کی ذاتی ملکیت ہیں اور اکثریت عوام فوج کے ذاتی مفادات کے لیے قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہتی۔ قوم کا شعور جاگ چکا ہے، وہ جانتی ہے کہ "سب سے پہلے پاکستان” کا نعرہ صرف پاکستانی جرنیلوں کے ذاتی کاروبار کی بقا کے لیے لگایا جاتا ہے۔
اسی طرح، پاکستانی سیاسی جماعتیں اب پہلے کی طرح فوج کے اثر و رسوخ میں نہیں ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اب سوچتی ہے کہ اسے ایک آزاد سیاسی لائن اپنانا چاہیے، اور فوجی جرنیل بھی قوم کو ہر غیر قانونی عمل کے مقابلے میں جواب دہ ہوں۔
پاکستانی عوام اتنا بیدار ہو چکے ہیں کہ نہ پروپیگنڈے کے نعروں سے دھوکہ کھاتے ہیں اور نہ اب پاکستانی فوج کے خوف، استبداد اور ظلم کی پالیسیوں کے زیر اثر آتے ہیں۔ صرف پاکستانی فوج نے لاکھوں نوجوان خیبر پختونخوا سے، اور اسی طرح لاکھوں عوام بلوچستان سے جیلوں میں رکھے ہوئے ہیں، مگر اس کے بجائے کہ لوگ خوفزدہ ہوں، مزید مزاحمت کر رہے ہیں اور روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کی اصلیت قوم پر اس وقت مزید واضح ہوئی جب اس نے عمران خان کی حکومت کو امریکہ کے اشارے پر گرا دیا۔ لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ فوج قوم کی بجائے امریکہ کے مفادات کی محافظ ہے۔ فی الحال پاکستانی فوج نے عمران خان کی جماعت، جس کے کروڑوں حامی ہیں، ختم کر دی ہے اور جماعت کے زیادہ تر قائدین کو قید کر رکھا ہے۔ اسی طرح پنجاب کی سب سے طاقتور جماعت "تحریک لبیک پاکستان” کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
بلوچستان صوبے میں، جہاں پہلے سے فوج کی گہری جڑیں نہ تھیں اور اکثریت عوام فوج کے ارادوں پر شک کرتی تھی، اب آزادی کا خیال اور عزم بہت مضبوط نظر آتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ پاکستانی نظام جسے فوجی ادارے کے ذریعے برقرار رکھا جا رہا تھا، تین صوبوں ــ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں عوام کی فوج کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ چکی ہے اور ان صوبوں کے لوگ فوج کے فکری استعمار سے آزاد ہو چکے ہیں۔ ایک نظام کا زوال اس وقت ناگزیر ہو جاتا ہے جب اس کے لوگ فکری استعمار سے نجات پا لیں اور سمجھیں کہ نظام کے نعرے محض پروپیگنڈہ اور چند محدود افراد کے ذاتی مفادات کے لیے ہیں۔

