پاکستانی فوجی نظام کے سقوط کا چوتھا سبب یہ ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے بنیادی نظریے سے منحرف ہوچکا ہے۔
علماء دین کو پاکستان کے قیام کی جو واحد دلیل قائل کر سکی، وہ یہ تھی کہ اس سرزمین پر اسلامی قانون اور اسلامی ریاست قائم ہوگی۔ لیکن انگریز، جو اسلام کے دیرینہ مخالف سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے پاکستانی عوام کی اس امید کو ناکام بنا دیا کہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے وجود میں آنے والے اس جغرافیہ میں اسلامی نظام نافذ ہوگا۔
پاکستان میں لارڈ میکالے کے قانون کو محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اسلامی نام دیا گیا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے شراب پر نعوذ باللہ ’’اسلامی شراب‘‘ لکھ دی جائے۔ پاکستانی عوام اور علمائے کرام نے طویل عرصہ صبر سے کام لیا کہ شاید یہ قوانین تبدیل ہوجائیں، لیکن اب مجموعی طور پر دیندار طبقے کا صبر ختم ہوچکا ہے، اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی قانون صرف جہاد کے ذریعے ہی نافذ ہوسکتا ہے۔ اور وہ پورے یقین کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا۔
تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خالص اسلامی عقیدے پر مبنی جدوجہد ناکام ہوئی ہو۔ خصوصاً جب مقابلہ فاسد اور شراب نوش جنرلوں سے ہو، تو دیندار طبقے کی جدوجہد بالکل واضح اور روزِ روشن کی طرح نمایاں دکھائی دیتی ہے، اور اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فوجی نظام کا خاتمہ یقینی ہے۔
بے شک، یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ کچھ عرصے کے لیے پاکستان کے فوجی جرنیل، مغرب اور اسرائیل کی طاقت کے سہارے عوام کو خاموش رکھنے کے لیے ہر طرح کے ظلم کر سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں ذلت اور ناکامی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام بحیثیت مجموعی مسلمان ہیں اور ان کے نزدیک اسلامی نظام اور اسلامی قانون کا مطالبہ برحق ہے۔
پاکستان میں عسکری نظام کے خلاف مسلح مزاحمت کا بیانیہ اسی لیے مضبوط ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسلامی ریاست اور اسلامی قانون کے نام پر رکھی گئی تھی۔ اگر اسلامی نظام کا یہ تصور موجود نہ ہوتا تو پاکستان اپنے قیام کے وقت ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا۔ حتیٰ کہ پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتیں بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پاکستان میں لارڈ میکالے کے وضع کردہ قوانین کو چلائے رکھنا اب ممکن نہیں۔
مختصراً یہ کہ پاکستان کے سقوط کا چوتھا سبب یہ ہے کہ پاکستانی مسلمان عوام کے ذہن میں فوجی نظام کے خلاف مسلح جہاد کا تصور موجود ہے۔ اور تجربات سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جس کے خلاف مسلمانوں کے اندر اس نوعیت کا جذبہ پیدا ہوا ہو، وہ شکست سے دوچار ہوا ہے۔
اس کی مثال روس، برطانیہ اور امریکہ جیسی بڑی طاقتیں ہیں، جنہیں اسی مزاحمت کے نتیجے میں نقصان اٹھانا پڑا۔ جب یہ عظیم ریاستیں خود کو اس مزاحمت کے سامنے محفوظ نہ رکھ سکیں، تو پاکستان جیسے کمزور، بدعنوان اور غیر مستحکم عسکری نظام کے لیے یہ مقابلہ کس قدر مشکل ہوگا؟
’’حی علی الجہاد‘‘ وہ نعرہ ہے جس سے بڑی عالمی طاقتیں اور نظام خوف محسوس کرتے ہیں اور جس کے خلاف بھی یہ نعرہ بلند ہوا، اسے دنیا میں ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ نہ ملا۔

