اسلام کی زرّیں تاریخ میں بعض علاقے مخصوص گروہوں اور فکری تحریکوں کے ابھرنے کے مراکز رہے ہیں۔ یہی گروہ اپنے خاص مراکز سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں کو منظم کرتے تھے۔ دنیا کی طاقتیں ان گروہوں کو اسلامی حکومتوں کے خلاف ایک آلے کے طور پر استعمال کرتی رہیں، علاقوں کے امن کو تہہ و بالا کرتی رہیں، اور اپنے مذموم سیاسی و اسٹریٹجک مقاصد انہی گروہوں کے ذریعے حاصل کرتی رہیں۔
جب قدیم خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی تو انہوں نے آپؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہؓ پر کفر کے فتوے لگائے، اپنے لیے خلافت کا اعلان کیا، اپنا خلیفہ مقرر کیا اور مسلمانوں کے قتل پر اتر آئے۔ ان کی خلافت کے دعوے کا مقصد اسلام کی حفاظت نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کا قتل اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جائز حکومت کا تختہ الٹنا تھا؛ یہی وہ صورت ہے جس سے آج کے خوارج بھی پہچانے جاتے ہیں۔
یہ تمام سرگرمیاں ایک مخصوص علاقے سے منظم کی جاتی تھیں جسے حروراء کہا جاتا تھا۔ حروراء خوارج کا فکری، عسکری اور تنظیمی مرکز تھا، اسی وجہ سے بہت سی احادیث میں خوارج کو حروریہ بھی کہا گیا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خوارج کو حروریہ کہتے تھے، کیونکہ وہ حروراء میں رہتے تھے اور وہیں سے فساد کو منظم کرتے تھے۔
وہ احادیث جن میں خوارج کو حروریہ کہا گیا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:
1- حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ…
روایت: بخاری، حدیث 1211
2- أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ: أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا طَهُرَتْ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟…
روایت: بخاری، حدیث 321
3- عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا أَتَيَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلَاهُ عَنِ الْحَرُورِيَّةِ…
روایت: بخاری، حدیث 6931
یہ اور اس جیسی دیگر احادیث اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ خوارج کی شناخت حروراء سے جڑی ہوئی تھی، وہ وہیں سے اسلامی حکومت کے خلاف فساد برپا کرتے تھے۔ خوارج نے اسلامی خلافت کی افواج کو اندرونی جنگوں میں الجھا دیا اور اس طرح کفار کو عملی فائدہ پہنچایا۔ اسی حقیقت کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یوں واضح کیا ہے:
«وكانوا أعظمَ الناس إعانةً للكفار على المسلمين»
(مجموع الفتاویٰ، 7/284)
یعنی خوارج مسلمانوں کے خلاف کفار کے سب سے بڑے مددگار تھے۔ سیاسی اصطلاح میں اس کیفیت کو غیر مستقیم اتحاد (De facto alliance) کہا جاتا ہے۔
بات کو طول نہ دیتے ہوئے مقصد یہ ہے کہ قدیم خوارج کا ایک مخصوص مرکز تھا جسے حروراء کہا جاتا تھا۔ آج کے خوارج بھی اپنے مذموم منصوبوں اور اہداف کو ایک خاص علاقے سے منظم کرتے ہیں۔ متعدد رپورٹس کی بنیاد پر یہ علاقہ پاکستان بتایا جاتا ہے۔ پاکستان کی فوجی حکومت ان گروہوں کے ساتھ مالی، عسکری، انٹیلی جنس اور پروپیگنڈہ تعاون کرتی ہے۔ المرصاد کی تازہ رپورٹ، جس میں پاکستان میں 11 داعشی عناصر کے مارے جانے کا ذکر ہے، ایک بار پھر اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ پاکستان داعشی خوارج کے لیے پناہ گاہ اور موجودہ دور کا حروراء بن چکا ہے۔
اس سے قبل بھی متعدد ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ:
علاقے کا امن انہی خوارج کے ذریعے درہم برہم کیا جاتا ہے، ان گروہوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، اور اسلام کے حقیقی فرزندوں کو کفار کی اصل دشمنی سے الجھائے رکھا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی ایسی رپورٹس موجود ہیں جن کے مطابق حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان سے کی گئی اور یہ ملک ان گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا رہا ہے۔
ان شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان موجودہ زمانے کا نیا حروراء ہے۔ ایک بار پھر اسی علاقے سے انسانیت کے لیے، اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے، ایک بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے۔ اگر بروقت اس کا سدباب نہ کیا گیا، اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح ان حروریوں کے ساتھ فیصلہ کن رویہ اختیار نہ کیا گیا، تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔

