جب کوئی شخص دوسروں کے حقوق پامال کرے اور اپنی ذاتی مفاد کی خاطر دوسروں کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہ کرے، تو وہ قدرتی طور پر اپنے دوستوں سے محروم ہو جاتا ہے، دشمن بنالیتا ہے، اپنی عزت و وقار کھو بیٹھتا ہے اور خطّے میں نفرت کا نشانہ بن جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومت بھی اپنی گزشتہ اور حالیہ پالیسیوں کی بنا پر بالکل ایسے ہی تلخ انجام سے دوچار نظر آتی ہے۔
پاکستان نے اپنے ہی ملک کے پشتون اور بلوچ عوام پر ایسے مظالم ڈھائے ہیں کہ قلم بھی ان کے بیان سے قاصر ہے۔ بلوچوں کی ذاتی ملکیتیں غصب کی گئیں، انہیں پرسکون اور باعزت زندگی سے محروم کیا گیا، اور اپنے ہی وطن میں بے دخلی او ہجرت پر مجبور کیا گیا، بے شمار بااثر شخصیات لاپتہ یا قید کر دی گئیں؛ نتیجتاً بعض بلوچ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوگئے۔
اسی طرح وہ افغان بھی جنہوں نے انتہائی کڑے اور اضطراری حالات میں پاکستان کو ایک مسلمان ہمسائے کی حیثیت سے پناہ گاہ بنایا، وہاں زندگی کی نئی شروعات کی اور دہائیاں گزرنے پر وہاں سرمایہ کاری کی اور کاروبار کو فروغ دیا۔ انہوں نے تجارت کے لیے ایسے بے مثال مواقع فراہم کیے کہ پاکستان کی سرکاری آمدنی کا بڑا حصہ انہی مہاجرین کی محنت اور کمائی سے پورا ہوتا رہا اور ملک کی مجموعی ترقی میں بھی انہی افغانوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ مگر جب پاکستان نے کچھ حد تک خود کو مستحکم محسوس کیا، تو اسی مظلوم قافلے کے خلاف اس نے سخت رویہ اختیار کیا، او بغیر کسی جواز کے انہیں اپنے اپنی ملکیت اور گھروں سے خالی ہاتھ پاکستان سے روانہ کردیا گیا۔
پاکستان کا ایک اور بڑا جرم یہ ہے کہ اپنی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس کی ناکامیوں اور کمزوریوں کو چھپانے کے لیے، جب وہ اپنے مخالفین کو گرفتار کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اپنے ہی بے گناہ شہریوں کو پکڑ لیتا ہے اور برسوں تک ان کی زندگی یا موت کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اس رویے نے عوام کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔
تازہ ترین اور سب سے دردناک واقعہ افغانستان کی سرحدوں کی بار بار خلاف ورزی اور وہاں شہری اداروں اور عام لوگوں کو نشانہ بنانا ہے۔ طویل جنگوں سے تھکے ہوئے افغان، جنہیں ابھی آرام نہیں ملا تھا، بڑی بے رحمی سے شہید کیے گئے۔ اس جارحیت نے اتنا منفی اثر پیدا کیا کہ پاکستان نہ صرف خطے کے لوگوں کے لیے قابلِ نفرت بن گیا، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ظالم ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا، کیونکہ لوگ اب پاکستان کو بیرونی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کا ایک آلہ سمجھتے ہیں جو غیر مستقیم طور پر افغانستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ جب اعتماد ختم ہو جاتا ہے تو نفرت اور دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی حکومت مضبوط فوجی اور قانونی نظام رکھتی ہو، تب بھی وہ اچانک زوال کا شکار ہو سکتی ہے اور اپنا اقتدار و جواز کھو سکتی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغان قوم نے کبھی بھی جارح طاقتوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے ہمیشہ مضبوط اور دوٹوک انداز میں ردعمل دیا ہے، کیونکہ افغان عوام کے لیے اپنی زمین، قومی وقار اور دینی اقدار بہت قیمتی ہیں، اور ان کی حفاظت کے لیے جان اور مال کی قربانی دینا ان کا فرض ہے۔
لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ اپنی ظالمانہ پالیسیوں سے باز آئے، اپنے داخلی مسائل خود حل کرے، اور افغانستان کو ایک باعزت اور اسلامی ہمسائے کے طور پر دیکھے۔

