Site icon المرصاد

پاکستان: داعش خراسان شاخ کے لیے محفوظ پناہ گاہ

المرصاد کو اپنے معتبر ذرائع سے یہ معلومات موصول ہوئی ہیں کہ خراسان شاخ داعشی قیادت کے اہم افراد نے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں پناہ لے رکھی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، داعش خراسان کے بیشتر اہم اراکین اور جنگجو سنہ 2023ء میں پاکستان منتقل ہونے کے بعد بلوچستان میں مقیم تھے، تاہم جب 2025ء کے فروری کے اواخر میں وہاں ان کے مراکز کو تباہ کر دیا گیا تو یہ عناصر پہلے شہری علاقوں میں پھیل گئے اور بعد ازاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خیبر پختونخوا منتقل ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش خراسان کی شوریٰ کے ارکان اور اہم آپریشنل کمانڈرز اس وقت خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں روپوش ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق، داعش کے اہم مراکز خیبر پختونخوا کے اضلاع خیبر، اورکزئی اور باجوڑ کے علاقوں شنکو کمر، جبارمیلہ، غلجو، تورسمت، ڈبوری، کیمور پہاڑ اور ڈمہ ڈولہ میں فعال ہیں، اور درج ذیل اہم افراد انہی مراکز یا قریبی شہروں میں رہائش پذیر ہیں:

الف: مراکز میں مقیم افغان داعشی افراد:
• ضیاءالدین زرخریدی، شعبۂ قضاء کا ذمہ دار
• عبدالحکیم توحیدی، سابق امیرِ جنگ
• مولوی گل نظیم (تسل ملا)، رکنِ شوریٰ
• شیخ ادریس، شعبۂ دعوت کا ذمہ دار
• عباس ابرار (عادل پنجشیری کا بھائی)، شعبۂ سیکیورٹی کا مرکزی رابطہ کار
• حامد، شرعی کورسز کے عمومی ذمہ دار
• استاد عکرمہ، اہم عملیاتی ذمہ دار
• رستم، اہم عملیاتی ذمہ دار
• مولوی صبغت، اہم عملیاتی ذمہ دار

ب: مراکز میں مقیم پاکستانی داعشی افراد:
• اسد حمزہ، باجوڑ کا ذمہ دار
• معاویہ، اورکزئی کا ذمہ دار
• ادریس ملا (بلوچستان کا رہائشی)، بلوچستان کا ذمہ دار
• حمزہ بلوچ، بلوچستان میں مراکز کا عمومی نگران اور موجودہ اہم آپریشنل رکن
• اختر نبی صدیق یار، قبائلی علاقوں میں ایک آپریشنل گروپ کا ذمہ دار
• حذیفہ (المعروف قعقاع، قمبرخیل کا رہائشی)، قبائل خیبر کا ذمہ دار
• ملا فاروق، شوریٰ کا اہم رکن
• عبدالحکیم سجاد، اہم عسکری رکن
• ملا وقاص استاد (اورکزئی کا رہائشی)

ان مراکز سے متعلق درج ذیل کمانڈروں اور ذمہ داران کو گزشتہ چند ماہ کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ہلاک کیا گیا ہے:
• عدنان (ابوالحرب)، خیبر قبائل کا ذمہ دار: 2 فروری کو باڑہ کے علاقے قمبرخیل میں ایک حملے کے دوران 10 دیگر داعشیوں (جن میں غیر ملکی بھی شامل تھے) کے ساتھ مارا گیا۔
• حاجی رحمن (ابو ناصر)، خیبر میں ایک مرکز کا ذمہ دار: 28 فروری کو اورکزئی کے علاقے تورکانی نریک میں 8 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا۔
• ملا فاروقی، حاجی رحمن کا ساتھی: اغوا برائے تاوان کے ذریعے مالی وسائل اکٹھا کرنے میں ملوث تھا، اسی حملے میں مارا گیا۔
• حمزہ اور عابد، اہم عملیاتی ذمہ داران: دونوں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسی واقعے میں ہلاک ہوئے۔
• عبدالمالک، خیبر کا ذمہ دار: اگست 2025ء میں سورغر کے علاقے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا گیا۔
• ادریس (المعروف یوسف)، باجوڑ کا سابق ذمہ دار: حالیہ فروری میں نو شہر کے حکیم آباد میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ابو بکر (عمران) باجوڑی کے ساتھ مارا گیا، جب انہوں نے اسلام آباد میں اہلِ تشیع کی ایک مسجد پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں 31 افراد جاں بحق اور 160 زخمی ہوئے۔
• زلمی (سلمان)، قندوز شہر میں کابل بینک پر 2025ء کے حملے کا منصوبہ ساز: یہ مذکورہ حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، اکتوبر 2025 ء میں خیبر پختونخوا فرار ہوا اور گزشتہ مارچ میں ہلاک کر دیا گیا۔
• عبدالمتین ابو بکر، اہم منصوبہ ساز: کابل اور دیگر بڑے شہروں میں خودکش حملوں کی کئی کوششیں کیں، جنہیں امارتِ اسلامیہ کی طرف سے ناکام بنادیا گیا؛ بالآخر افغانستان سے فرار ہو کر خیبر پختونخوا پہنچا جہاں گذشتہ مارچ کے مہینے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا گیا۔

ذرائع کے مطابق، داعش کی آپریشنل سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس کی پروپیگنڈا مشینری بھی مکمل طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے کنٹرول کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات کے شواہد کے طور پر اعلامی شعبے کے ذمہ دار سلطان عزیز عزام کی موجودگی کو بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

Exit mobile version