Site icon المرصاد

پاکستان میں جاری تنازعات کے اسباب | دوسری اور آخری قسط

آئیے اس طرف آتے ہیں کہ پاکستان کا فوجی رجیم کس طرح اپنی ناکامیوں کا بوجھ افغانستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کے قیام کے بعد، پاکستان کے فوجی حکام اُن مظلوم مہاجرین کے بارے میں فکرمند تھے جو پاکستانی فوج کے مظالم کے باعث افغانستان منتقل ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فوجی نظام کو بخوبی علم تھا کہ اس نے ان بے بس مسلمانوں پر کس قدر ظلم کیے ہیں، اور وہ اپنے اعمال کے ردِعمل سے خوفزدہ تھا۔

امارتِ اسلامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور اس بات کو اس نے عملی طور پر دنیا کے سامنے ثابت بھی کیا ہے۔ اسی بنیاد پر علماء کی ایک کونسل بلائی گئی اور ان مہاجر بھائیوں کو یہ باور کرایا گیا کہ اب وہ یہاں امن و سکون کے ساتھ زندگی گزاریں گے، اور امارتِ اسلامیہ ہر طرح سے ان کی خدمت کرے گی۔ پاکستان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ان مہاجرین کو سرحدی علاقوں سے ملک کے مرکزی علاقوں میں عزت و احترام کے ساتھ منتقل کیا گیا۔

حالانکہ یہ پاکستان کے فوجی رجیم کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے عوام کو مطمئن کرتا اور انہیں باعزت طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لے جاتا، مگر ڈالر کے عادی پاکستانی جرنیلوں نے نہ صرف اپنے عوام کی پرواہ نہیں کی بلکہ انہیں واپس لینے سے بھی انکار کر دیا۔

امارتِ اسلامیہ نے اسلامی اخوت کی بنیاد پر ان افراد کو دیگر علاقوں میں منتقل کیا اور ان کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کیا۔ پاکستان کے فوجی رجیم کے پاس کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں کہ ان مہاجرین نے گزشتہ پانچ برسوں میں ایک دن کے لیے بھی پاکستان میں بدامنی پیدا کی ہو، کیونکہ امارتِ اسلامی نے ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ پُرامن زندگی گزاریں گے اور ان پر کچھ پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔

مزید برآں، ثالث ممالک بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان کا فوجی رجیم ابتدا میں مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتا، اور اگر بیٹھ بھی جائے تو غیر معقول اور غیر منطقی مطالبات پیش کرتا ہے۔ امارتِ اسلامیہ نے پہلے دن سے ہی مسائل کے پُرامن حل کو ترجیح دی ہے اور نہ ہی وہ کسی ملک کے ساتھ جنگ میں الجھنا چاہتی ہے اور نہ یہ چاہتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے لیے مسئلہ بنے۔

لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فوجی نظام پر امن کے باعث ڈالر کی تھیلیاں بند ہو چکی ہیں۔ اب وہ دانستہ طور پر جنگ اور خطے میں مشکلات پیدا کر رہا ہے، تاکہ ماضی کی طرح دوبارہ جنگ کے ذریعے مالی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ اسلامی امارت نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ خطے میں امن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ مسائل سے بچنے کے لیے پاکستان کے فوجی نظام نے مسلسل دو برس تک روزانہ ڈیورنڈ لائن کی خلاف ورزی کی کوشش کی، مگر اسلامی امارت نے اس کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں کوئی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ امارت کی جانب سے اس نام نہاد ڈیورنڈ لائن پر کوئی بدامنی پیدا کی گئی ہو۔

انہی چند مہینوں میں پاکستان کے فوجی رجیم نے ایک مرتبہ افغانستان پر حملہ کیا، لیکن پہلی ہی بار امارت نے ایسا جوابی اقدام کیا جس میں ایک بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے بعد پاکستانی فوجی رجیم نے مزید دو مرتبہ کھلم کھلا افغانستان پر حملہ کیا۔ حالانکہ اپنے دفاع کا حق امارت کو شرعاً اور قانوناً حاصل تھا، اس کے باوجود اس نے شہری آبادی اور خطے کے امن کے پیش نظر جوابی یا دفاعی کارروائی سے گریز کیا۔

تاہم چند روز قبل ایک بار پھر پاکستانی رجیم نے افغان سرزمین پر ناجائز حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مدارس، قرآنِ کریم کے نسخے، عام شہری، خواتین اور بچے نشانہ بنے اور شہید ہوئے۔ اب افغان عوام کا صبر بھی لبریز ہو چکا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے دشمن سے بدلہ لیے بغیر نہیں چھوڑا۔ امارتِ اسلامیہ کو یہ مشروع اور مسلم حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اسلامی شعائر اور اپنے عوام کا دفاع کرے اور جواب دے۔ لہٰذا آئندہ پیدا ہونے والے تمام مسائل کی ذمہ داری پاکستان کے فوجی رجیم کے ان مخصوص حلقوں پر عائد ہوگی، جو اپنے اقتدار کی بقا کو مسلمانوں کے خون بہانے میں دیکھتے ہیں۔

مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
۱۔ پاکستانی فوج کے اندر ایک مخصوص حلقہ ایسا ہے جس کی طاقت کی بقا اور ذاتی مفادات جنگ سے وابستہ ہیں؛ وہ دانستہ طور پر نہیں چاہتا کہ خطے میں امن قائم ہو۔
۲۔ پاکستان کے فوجی رجیم اور سیاسی قیادت کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں۔
۳۔ خود پاکستانی جرنیلوں کے درمیان بھی فوج کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
۴۔ پاکستانی جرنیل یہ سمجھتے ہیں کہ ایک بار پھر مغربی قوتیں خطے میں آئیں گی، ان پر ڈالر کی بارش ہوگی، اور وہ دہشت گردی کے نام پر مراعات حاصل کرکے مغربی ممالک میں جائیدادیں اور عیش و عشرت کی چیزیں خریدیں گے۔
۵۔ پاکستان کا فوجی رجیم اس لیے کہ وہ کسی نہ کسی بیرونی محاذ پر الجھا رہے، اپنے عوام کو مطمئن رکھتا ہے اور سیاسی مخالفین کو خاموش کرتا ہے۔
۶۔ مذاکرات کے لیے ایسے افراد بھیجے جاتے ہیں جو نہ مہارت رکھتے ہیں اور نہ ہی گفت و شنید کی صلاحیت۔

اگر غور کیا جائے تو پاکستان کا یہ دعویٰ بے بنیاد معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان سے اس کے مخالفین آکر حملے کرتے ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کی بڑی فوج ہونے کا دعویٰ کیا جائے، مگر اپنی ہی سرحدوں کی حفاظت نہ کی جا سکے؟

پاکستانی فوجی رجیم دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس لاکھوں فوجی، طیارے اور جدید وسائل موجود ہیں، مگر اس کے باوجود وہ امارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک نام نہاد سرحد کی حفاظت کرے تو پھر اتنی بڑی فوج کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں مبینہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔ حالانکہ دنیا نے دیکھا کہ ان کارروائیوں میں خواتین اور بچوں کے سوا کوئی اور متاثر نہیں ہوا۔ اگر بالفرض یہ دعویٰ درست بھی مان لیا جائے، تو یہ کیسی انٹیلی جنس ہے کہ اپنے ملک میں روزانہ حملے ہوتے ہیں، دارالحکومت کے قلب میں دھماکے ہو جاتے ہیں، اور انہیں اس کی خبر نہیں ہوتی، مگر ملک سے باہر کی معلومات کا دعویٰ کیا جاتا ہے؟ اگر واقعی افغانستان میں کسی خطرے کی اطلاع ہے، تو اس کا تعاقب کر کے سرحد کے اُس پار کارروائی کی جائے؛ افغانستان پر حملہ کیوں؟

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستانی جرنیل اس آگ سے کھیل رہے ہیں جس نے ان کے آقاؤں، امریکی جرنیلوں کو بھی جھلسا دیا تھا۔ اگر امارت نے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا، تو پھر وہ بھی سکون کی نیند نہیں سو سکیں گے، اور یہ آگ اسلام آباد کے دل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری پاکستان کے فوجی رجیم کے اسی مخصوص حلقے پر عائد ہوگی، جو نہ مذاکرات چاہتا ہے اور نہ ہی امن چاہتا ہے۔

Exit mobile version