Site icon المرصاد

پاکستان میں جاری تنازعات کے اسباب! پہلی قسط

پاکستان میں جاری بدامنی کوئی نئی چیز نہیں ہے، یہ تقریباً پرویز مشرف کے دور سے شروع ہوئی تھی۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان جو کبھی "اسلام کا قلعہ” کہلاتا تھا، آج کیسے مسلمان نوجوان وہاں جہاد اور غزوہ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ جنگیں تقریباً پچیس سالوں سے جاری ہیں۔ تیس سال پہلے کیوں پاکستان کی فوج کے خلاف جہاد کا نعرہ نہیں لگایا گیا؟

تیس سال پہلے بھی افغانستان پاکستان کا پڑوسی تھا، تو پھر اس وقت مداخلت کیوں نہیں کی گئی؟
اگر واقعی یہ افغانستان کی مداخلت کا معاملہ ہے، تو تیس سال پہلے یہ کیوں ناممکن تھا؟ آئیے ذرا حقیقت کی طرف توجہ دیں۔

پاکستان کی غلط پالیسیوں نے عوام کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ انہوں نے عقیدے کے اعتبار سے پاکستانی فوج کے خلاف جہاد شروع کر دیا، جس کی ابتدا پرویز مشرف نے کی۔ وہ پاکستان جو "اسلام کا قلعہ” کہلاتا تھا، عرب ممالک اس پر اسلام کے نام پر فخر کرتے تھے، لیکن اس ملک کے فوجی سربراہ پرویز مشرف نے چند ڈالرز کے بدلے مسلمان اور مجاہد ملک افغانستان کے خلاف صلیبیوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اور امریکیوں کو فوجی اڈے فراہم کر دیے۔

تو پھر کس قانون کے تحت پاکستان کو یہ حق تھا کہ وہ ڈالرز کے بدلے اپنے ہمسایہ مسلمان ملک کے خلاف دشمنوں کو جگہ دے؟ کیا یہ مسلمان کا کام ہے کہ پیسوں کے لیے مسلمان کے خلاف کفار کا ساتھ دے؟

پاکستانی علما کو اس کا جواب دینا چاہیے: کیا شریعت میں کسی مسلمان کو یہ اجازت ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کے خلاف حربی کافر کا ساتھ دے؟

دنیا کے کسی مسلمان یا کافر ملک میں آج تک ایسا ہوا کہ ایک ملک کا سفیر ہاتھ باندھ کر اس کے دشمنوں کے حوالے کر دیا جائے؟ کیا یہ اسلام یا کفر میں جائز ہے؟

عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان صرف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان کے دشمن افغانستان میں ہیں، حالانکہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں، پھر بھی اس بے بنیاد دعوے کی بنیاد پر افغانستان پر حملے جائز سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس، افغانستان کے دشمن اور کفار ٹینکوں اور طیاروں کے ساتھ پاکستان میں موجود تھے، اور وہاں سے ہر روز افغانستان میں آ کر حملے کرتے تھے۔ بیس سال تک پاکستان نے ڈالرز کے بدلے ان کفار کو افغانستان کے خلاف راستہ دیا، لیکن پھر بھی وہ خود کو مورد الزام نہیں سمجھتا۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ آج بھی پاکستان امریکیوں اور کفار کو اپنی فضاء افغانستان کے خلاف کرائے پر دے رہا ہے، ہر روز امریکی طیارے ان کے آسمان سے افغانستان جاتے ہیں۔

پرویز مشرف نے اور کیا کیا؟ پرویز مشرف نے ایسے اقدامات کیے کہ پاکستان کے لاعلم عوام بھی سمجھ گئے کہ پاکستان کی فوج کے خلاف جہاد فرض ہے۔ پرویز مشرف اور پاکستانی فوجی رجیم نے اپنی بیٹی اور عزت، عافیہ صدیقی، چند ڈالرز کے بدلے کفار کے حوالے کر دی۔ یہ خود ان کے خلاف جہاد فرض ہونے کی وجہ بن گیا۔ ہاں، پاکستان میں انگلیوں پر گنے جانے والے چند لوگ اپنی عزت بیچنے میں عار نہیں سمجھتے، لیکن پاکستان کی اکثریتی مسلمان عوام کے لیے عزت پیسوں سے، بلکہ اپنے جان سے بھی زیادہ اہم ہے۔

پرویز مشرف نے اسی فوج کے ذریعے، جو خود کو مسلمان کہتی ہے، لال مسجد اور جامعہحفصہ کو شہید کر دیا، اور سینکڑوں نہتے حافظوں اور حافظات کو شہید کر دیا۔

ایک بات جو امریکی غلاموں نے نہیں سمجھی، وہ یہ تھی کہ امت مسلمہ کبھی کفار کے قبضے کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہ غلط فہمی افغانستان کی جمہوریہ کو بھی تھی، انہوں نے کفار کو اجازت دی تھی کہ وہ قوم کے خلاف بمباری کریں۔ جب مسلمانوں نے مزاحمت کی تو وہ کہتے تھے کہ یہ پاکستان کی مداخلت ہے، یہی کام پرویز مشرف اور پاکستانی جنرلوں نے بھی کیا۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں ڈالرز کے بدلے امریکہ کو بمباری کی اجازت دی۔ ہزاروں قبائلی عوام کو شہید کیا، پاکستانی فوج نے خیبر پختونخواہ میں بمباری کی، گھروں کو تباہ کیا، بازاروں کے بازار جلا ڈالے۔
۔
پاکستانی فوج نے لاکھوں قبائلی افراد کو مہاجر بنایا۔ اب جب وہ ردعمل دکھاتے ہیں، پاکستان انہیں دوسرے ممالک کی مداخلت کہتا ہے۔ پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں میں لاکھوں لوگوں کی جانیں لیں، ہزاروں مساجد اور مدارس کو تباہ کیا۔ پاکستانی جرنیلوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے نہ صرف اسلام اور اسلامی شعائر کو بیچا بلکہ ہر وہ چیز بیچ ڈالی جس سے ان کی جیبیں بھریں۔ امریکہ کے ڈالرز میں اس حد تک مدہوش ہوئے کہ اب اپنے ہی کھیتوں میں کیڑے ڈالنے لگے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے عمران خان کو جیل میں ڈال دیا ہے، جو سیاسی عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے۔ پاکستانی حکومت نے ہزاروں بلوچوں کو زندہ لاپتہ کر دیا۔ بلوچ پہلے پرامن احتجاج کر رہے تھے، مگر فوج نے ڈالرز کی نشہ میں آ کر ان کو ذلیل کیا، تو بلوچوں کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔ خیبر پختونخواہ کے لوگ بھی پہلے مظاہرے کر رہے تھے، لیکن فوج نے انہیں عسکری مزاحمت پر مجبور کیا۔

خلاصہ

پاکستانی فوج نے درج ذیل جرائم کے ذریعے عوام کو اپنے خلاف جنگ پر اُکسایا:
1. فوج اور جرنیلوں نے خود کو مغرب اور امریکہ کے ہاتھوں اپنے مسلمان عوام اور ہمسایہ ممالک کے خلاف کرائے پر دے دیا۔
2. فوج نے اپنی فضاء، فوجی مراکز اور دین کفار کو بیچ دیے۔
3. مغرب کے اشارے پر اپنی عوام کو قتل کیا، انہیں مہاجر بنایا اور عزتیں نیلام کیں۔
4. سیاسی جماعتوں کو کچلا، علما اور سیاست دانوں کو قتل کیا۔
5. کفار کے ساتھ تجارت اور عوام کے ساتھ کرپشن، رشوت، ظلم، اغوا اور قتل کیے۔

پاکستانی فوج ابھی بھی ان تنازعات سے خوش ہے کیونکہ اس کے ذاتی مفادات اس میں محفوظ ہیں۔

پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں کیوں ملزم ہے، اس کی تفصیل اگلی قسط میں بیان کی جائے گی۔

Exit mobile version