گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں جاری حملے اور بدامنی دراصل ایک طویل اور پیچیدہ سیاسی بحران اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جن کی جڑیں جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار تک پہنچتی ہیں۔ مشرف نے افغانستان پر امریکہ کے ناجائز حملے کی حمایت کی، جس کے باعث پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدید مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ ان علاقوں میں ڈرون حملوں، بمباریوں اور فوجی آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں قبائلی نوجوان لاپتہ ہوئے، شہید ہوئے، اور لوگوں کو زبردستی اپنے گھروں، دیہاتوں اور وطن سے بے دخل ہونا پڑا۔
پاکستان نے امریکہ کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی خطے کے استحکام کو قربان کیا۔ ان پالیسیوں نے نہ صرف خطے کے امن کو نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان نے ڈالرز کے عوض اپنی سرزمین میں بدامنی کی بنیاد رکھ دی۔ یہی غلط پالیسیاں آج پاکستان میں جاری بدامنی کی بنیادی وجہ سمجھی جاتی ہیں۔ ۲۰۲۵ء-۲۰۲۶ء کے دوران پاکستان کی داخلی صورتحال کافی حد تک خراب ہو چکی ہے، جس کی واضح مثال خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے حالیہ حملے ہیں، جن میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
دوسری جانب، اگرچہ پاکستان کا فوجی نظام یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کے آپریشنز میں درجنوں عسکریت پسند مارے گئے ہیں، لیکن یہ حملے درحقیقت داخلی کمزوریوں اور سیاسی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت، جو ان بدامنیوں کے تسلسل میں اپنا مفاد دیکھتی ہے، افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل کے حل کے لیے معقول اور منطقی راستے اختیار نہیں کرتی۔ اس کے برعکس، وہ اپنے داخلی مسائل —جیسے سیاسی جماعتوں سے کشیدگی، اقتدار پر قبضہ، بعض سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری، معاشی بحران اور بدامنی کے تسلسل— کو چھپانے کے لیے بیرونی عوامل کا سہارا لیتی ہے۔ اسی لیے پاکستانی فوج مذاکرات کے بجائے جنگ اور دباؤ کی پالیسی کو ترجیح دیتی ہے۔
اس کے برعکس، امارتِ اسلامیہ (افغانستان-پاکستان تعلقات اور مذاکراتی صورتحال کے تناظر میں) ہمیشہ اس بات کی کوشش کرتا رہا ہے کہ مسائل کا حل پُرامن مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔ مفروضہ سرحد (ڈیورنڈ لائن) کے ساتھ امارتِ اسلامیہ کی جانب سے کسی قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، بلکہ اس نے علاقے کو محفوظ رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ مثلاً علماء کی کونسل کا انعقاد، جس کا مقصد علماء کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کرنا تھا، اسی طرح قبائلی مہاجرین کو کنٹرول کرنے کے لیے ان پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، جیسے انہیں سرحدی علاقوں سے دور کرنا اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان مسائل کے مستقل حل کے لیے امارتِ اسلامیہ ہمیشہ پُرامن راستے پر آمادہ رہی ہے، لیکن پاکستانی فریق نے ان کوششوں کو نظر انداز کیا ہے۔ ماضی میں جب بھی پاکستانی جانب سے حملے ہوئے، امارتِ اسلامیہ نے ایک بار جواباً کارروائی کی، مگر کئی مواقع پر مذاکرات کی خاطر جوابی اقدام سے گریز کیا۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں پاکستانی حملوں کے بعد قطر، ترکی اور سعودی عرب کی ثالثی سے ایک عارضی جنگ بندی قائم ہوئی، جو خاصی حد تک برقرار رہی، مگر باہمی مذاکرات پاکستانی فریق کی ہٹ دھرمی کے باعث استنبول اور دوحہ میں ناکام ہو گئے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امارتِ اسلامیہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو مکمل طور پر اپنی سرزمین سے نکال دے، جبکہ امارتِ اسلامیہ اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتی کہ وہ ٹی ٹی پی کو پناہ دی ہوئی ہے، اور بارہا سرکاری سطح پر یہ معاملہ واضح کیا جاچکا ہے کہ وہ کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اب جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، تو افغانستان اور اس کے باسیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ افغانوں نے کبھی بھی اپنے اوپر ہونے والے حملوں کا بدلہ نہیں چھوڑا، اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستانی عسکری قیادت کو ایک سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے داخلی مسائل کو حل کرے اور مذاکرات کی میز پر آئے۔ دونوں ممالک کے درمیان پُرامن تعلقات کا قیام نہ صرف خطے کے استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے بلکہ معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے بھی راہیں ہموار کرے گا۔
امارتِ اسلامیہ نے ہمیشہ ہمسائیگی اور امن کے پیشِ نظر مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے، جو ایک ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم مسلسل حملے اور الزامات ان کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ جنگ کا فائدہ صرف شرپسند عناصر کو ہوتا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ماضی کی غلط پالیسیوں کے اثرات کس طرح موجودہ نسلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ عوام کے مفادات کو ترجیح دیں اور پُرامن حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، تاکہ خطے کا مستقبل روشن اور مستحکم ہو سکے۔

