Site icon المرصاد

پاکستان پر داعش کا منحوس سایہ!

داعش کے چند مشہور کمانڈروں اور ارکان کی حالیہ ہلاکتیں ایک بار پھر پاکستانی رجیم کی پوشیدہ چہرہ کو بے نقاب کر گئیں، یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف داعش کے خلاف جنگ میں مخلص نہیں، بلکہ خود اس گروہ کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور حقیقی معاون بن چکا ہے۔

ایسے حالات میں کہ داعش کو افغانستان میں امارت اسلامیہ کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ختم کر دیا گیا ہے اور اس کے زیادہ تر لیڈر ہلاک ہو چکے ہیں، رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس گروہ کے باقی ماندہ ارکان اب پاکستان میں پناہ لے چکے ہیں۔ وہ وزیرستان، بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں محفوظ اڈوں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حتیٰ کہ افغانستان کے خلاف پر تشدد کاروائیوں کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

پاکستانی رجیم کافی عرصے سے داعش جیسے وحشیانہ گروہ کے حوالے سے دو رخی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، ایک طرف عالمی سطح پر خود کو دہشت گردی کا مخالف ملک کے طور پر متعارف کراتا ہے، مگر دوسری طرف عملی میدان میں اس گروہ کی سرگرمیوں کے لیے ماحول سازگار بھی بناتا ہے اور اس کے ارکان کو پناہ دیتا ہے۔ متعدد انٹیلی جنس اور فیلڈ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے لیے مالی، اسلحہ اور انٹیلی جنس سپورٹ پاکستان کی سرزمین پر انجام دی جاتی ہے، جبکہ اس ملک کی سرکاری ادارے اس حوالے سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

اسلام آباد اس دھوکہ باز حکمت عملی کے ساتھ کوشش کرتا ہے کہ داعش سے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک آلے کے طور پر فائدہ اٹھائے، خاص طور پر افغانستان کے خلاف۔ مگر یہ خطرناک کھیل آگ کی لپٹوں کے ساتھ دوستی ہے جو جلد یا بدیر پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ کوئی ملک داعش کی پرورش اور پناہ دینے سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ وہ گروہ جو آج دوسروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، کل اپنے میزبان کو نشانہ بنائے گا۔

اس کے مقابلے میں،امارت اسلامیہ افغانستان نے قاطع اور دانشمندانہ موقف کی بدولت داعش کی جڑیں مکمل طور پر اپنی سرزمین سے اکھاڑ پھینکیں۔ امارت کی سیکیورٹی فورسز نے پورے ملک میں درست اور تیر بہدف آپریشنز کے نتیجے میں اس گروہ کے مراکز کو ختم کرنے کی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کامیاب تجربہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک عملی ماڈل ہو سکتا ہے۔

پاکستانی رجیم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ داعش کے ساتھ تعاون اور اس کی حفاظت صرف داخلی عدم استحکام، انتشار اور علاقائی عدم اعتماد کا سبب بنے گی۔ عالمی برادری کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ داعش کی سرگرمیوں کی جڑ افغانستان میں نہیں، بلکہ پاکستان کی سرزمین میں ہے۔

اگر اسلام آباد واقعی امن اور استحکام کا خواہشمند ہے، تو ضروری ہے کہ اپنی دو رخی پالیسی چھوڑ دے اور خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر داعش کی مکمل تباہی کے لیے قدم اٹھائے۔ داعش کی حمایت کرنا اس آگ کا ایندھن اکٹھا کرنے کے مترادف ہے جس کی لپٹیں، دیر یا سویر، پاکستان کے اندر تک بھی پہنچ جائیں گی۔

Exit mobile version