Site icon المرصاد

پاکستان کا داعش کی سرپرستی میں کردار اور خطے کے امن و استحکام کو درپیش خطرات

گزشتہ روز داعشی فتنوں کو بے نقاب کرنے کے سلسلے میں تحقیقاتی مرکز ”المرصاد“ نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ایک داعشی کی زبانی داعش اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) کے درمیان گہرے اور خفیہ روابط کی ایک لرزہ خیز داستان سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو ان دعوؤں کے لیے ایک مضبوط ثبوت ہے کہ داعش کا پروپیگنڈا اور آپریشنل مشینری اب بڑی حد تک پاکستان کی سرزمین سے ہی چلائی جا رہی ہے۔

اس ویڈیو میں ایک گرفتار داعشی، محمد اقبال ولد شامدار، جو کرم ایجنسی کا رہائشی ہے، ایک ایسے کھیل کے حقائق سامنے لاتا ہے جو اسلام اور جہاد کے نام پر خطے میں تباہی پھیلانے کے لیے جاری ہے۔ اس نے ویڈیو میں اعتراف کیا کہ اس نے اپنے ایک قریبی ساتھی کو آئی ایس آئی کے ایک اعلیٰ افسر سے ملوایا، جس نے اسے پر اعتماد انداز میں کہا کہ”خلافت“(داعش) کی قیادت، مالی معاونت اور تمام انتظامی امور اسی کے ذمے ہیں، جبکہ اسے صرف عملی کارروائیوں پر توجہ دینی ہے۔

یہ بیان محض اقبال کا ذاتی اعتراف نہیں، بلکہ ایک ایسی حکمتِ عملی کا انکشاف ہے جس کے مطابق داعش خطے میں کوئی آزاد حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ اسے راولپنڈی کی ملٹری بیسز سے تربیت دے کر آئی ایس آئی کی براہ راست نگرانی میں افغانستان اور دیگر علاقوں میں تخریبی سرگرمیوں کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ محمد اقبال کے انکشافات کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ اسے ایک پاکستانی جنرل کی جانب سے “کلیئرنس سرٹیفیکیٹ بھی دیا گیا، جس کے ذریعے اسے پاکستان بھر میں بلا خوف و خطر آمد و رفت، تنظیم سازی اور رسد کی فراہمی کی آزادی اور تحفظ حاصل ہو گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی حدود میں داعشی خوارج نہ صرف دباؤ سے آزاد ہیں فوجی رجیم کے مہمانوں اور ہتھیاروں کی طرح خصوصی توجہ اور تحفظ میں رکھے جا رہے ہیں۔۔ داعش اور پاکستانی خفیہ اداروں کے درمیان یہ گہرہ تعلق ثابت کرتا ہے کہ یہ دونوں عناصر خطے میں عدم استحکام اور فکری انتشار پیدا کرنے کے لیے ایک مشترکہ اور منظم حکمتِ عملی پر عمل کر رہے ہیں۔

انہی روابط اور خفیہ ہدایات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس جیسے جید اور باخبر اور اہل حق علماء کی شہادت اسی خونریز منصوبے کا بنیادی حصہ ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حق گوئی اور علم کا نور ان کے خفیہ منصوبوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لیے انہوں نے خطے کو مفلوج کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت جھونک دی ہے۔۔

یہ اور اس جیسے بے شمار دیگر شواہد، جنہیں وقتاً فوقتاً المرصاد کی جانب سے منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیتے ہیں کہ داعش ایک بے بنیاد، بے فکر اور مسلط کردہ گروہ ہے۔ نہ اس کے پاس فکری آزادی ہے اور نہ ہی فیصلہ سازی کا کوئی اختیار، بلکہ یہ گروہ پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں میں محض ایک پراکسی ہتھیار ہے، جسے پاکستانی جرنیل خطے اور دنیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاکہ مشرقِ وسطیٰ اور گرد و نواح کے دیگر ممالک میں مضبوط اور مستحکم نظاموں کے قیام کی راہ روکی جا سکے۔

اس فائدے کے ساتھ ساتھ، وہ اسے عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ خطہ انتہاپسندی کی آگ میں جل رہا ہے اور پاکستان ہی اس آگ کو بجھانے والا واحد فریق ہے۔

المرصاد کی حالیہ ویڈیو نے داعش کی جعلی “خلافت” کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ یہ بات ثابت ہو گئی کہ داعش کے نام پر ہونے والے ہر حملے کے پیچھے راولپنڈی کے جرنیلوں کا ہاتھ اور آئی ایس آئی کی ہدایات شامل ہوتی ہیں۔

خطے کے استحکام اور عوام کے امن و سکون کے لیے ضروری ہے کہ اس انٹیلی جنس منصوبے کو فکری اور عسکری دونوں محاذوں پر مکمل طور پر کچل دیا جائے۔

Exit mobile version