پاکستان کا عسکری رجیم اسلام کے نام سے استفادہ کرتے ہوئے اُمتِ مسلمہ کے زخموں پر نمک چھڑک رہا ہے۔ اسلام کے نام پر جو مفادات حاصل کیے گئے، انہی کو اسلام کی جڑیں کاٹنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے عام مسلمان، سیاست دان اور پورے عالمِ اسلام کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کا موجودہ حاکم طبقہ (عسکری رجیم اور آئی ایس آئی) مختلف ناموں اور بہانوں کے ذریعے اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس بار انہوں نے اسلام، عالمِ اسلام، قبلۂ اول اور غزہ کے مظلوم و زخمی مسلمانوں کے دشمنوں یعنی صہیونی اسرائیلی حکومت سے ملاقاتیں کی ہیں اور وزیرِاعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کا دورہ کیا ہے۔
یہ سفر مسلمانوں، عالمِ اسلام، پاکستان کی عام عوام، اور غزہ کے شہیدوں، عورتوں اور معصوم بچوں سے کھلی غداری کے مترادف ہے۔
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، جیسے الجزیرہ اور انڈیپنڈنٹ اردو، نے ۱۹ مارچ ۲۰۲۵ء کو ’’اسرائیل ہایوم‘‘ کے حوالے سے یہ خبر شائع کی کہ پاکستانی حکومت کے تحقیقاتی نمائندوں نے خفیہ طور پر صہیونی اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی اور غاصب حکومت کے دیگر اداروں سے ملاقاتیں کیں، اور اُن مقبوضہ علاقوں کا معائنہ کیا جنہیں اسرائیل نے مسلمانوں سے ظلم و جبر کے ذریعے چھینا ہے۔
ان علاقوں میں قبلۂ اول مسجد اقصیٰ، ’’نووا فیسٹیول‘‘ کے حملے کی جگہ، یَد و شِم (ہولوکاسٹ میوزیم)، اسرائیلی پارلیمنٹ کنیست، دیوارِ بُراق، تل ابیب اور سدیروت کے اہم مقامات شامل ہیں۔
الجزیرہ نے پاکستانی محققین کے دورے کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ سفر خفیہ طور پر انجام دیا گیا اور اسی سفر کا سارا انتظام اسرائیلی ادارے ’’شارکا‘‘ نے کیا، جو اسرائیل اور ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ وفد کا مقصد دراصل ’’صہیونی غاصب اسرائیلی یہودیوں اور ان کی تاریخ‘‘ اور پاکستان کے فوجی رجیم کے درمیان اچھے اور مضبوط تعلقات دکھانا اور قائم کرنا تھا۔
وہ عسکری حاکم طبقہ جو اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، صہیونی اسرائیل کے ساتھ کئی حوالوں سے باقی غیر مسلم دنیا سے بھی آگے کھڑا ہے۔ یہ خفیہ دورہ جو دونوں ظالم حکومتوں نے باہمی طور پر ترتیب دیا تھا، پاکستان کے فوجی نظام نے انتہائی رازدارانہ طور پر اسے عملی جامہ پہنایا۔
کچھ تفصیلات میڈیا تک پہنچیں جن سے واضح ہے کہ پاکستان کی مجاہد عوام اس پر سخت ردِ عمل دیں گے۔ چونکہ اس وقت ملک میں صحافت اور اظہارِ رائے کو فوجی دباؤ کے نتیجے میں سخت خطرات درپیش ہیں، اس لیے یہ موضوع وسیع پیمانے پر پھیلا نہیں۔ ہم یہاں کوشش کر رہے ہیں کہ پردہ فاش کریں اور پاکستان کے عام مسلمانوں اور مجاہدین کو اس فوجی نظام کی حقیقت و رذالت سے آگاہ کریں۔
صہیونی اسرائیل اور پاکستان کے فوجی رجیم کے مشترکہ مقاصد:
۱۔ اسرائیل اس کوشش میں ہے کہ گریٹر اسرائیل یا اپنی طاقت و تسلط کے دائرے کو پھیلا کر خطے میں رسمی حیثیت حاصل کرے، اور اس کے لیے اپنے حامی بڑھائے۔ اپنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسے ایسے تابع نمودار، ظالم اور فرعونی فوجی ساتھی درکار ہیں جیسے پاکستان؛ اسی خواہش میں وہ پاکستانی انتظامیہ کو ہر ممکن طریقے سے اپنا تابع بنانا چاہتا ہے اور اس کو ایک سنہری موقع سمجھتا ہے جس سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ دونوں حکومتیں ایک ہی مقصد کے لیے وجود میں آئی محسوس ہوتی ہیں اور ان کی پالیسیاں بنیادی طور پر ایک جیسی ہی ہیں۔
۲۔ صہیونی حکومت اس کوشش میں ہے کہ صہیونیت کے نظریے کو ایشیائی ممالک تک پھیلائے۔ وہ پاکستان جیسے ممالک جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، میں یہ سوچ عام کرنا چاہتا ہے کہ اسرائیلی ریاست کا قیام دراصل اسرائیل کا حق ہے، اور اس بات پر پاکستان کے معزز عوام کی طرف سے کوئی سنجیدہ ردِ عمل سامنے نہ آئے۔
۳۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ پاکستان کے فوجی رجیم کی طرح دیگر نام نہاد اسلامی ممالک کی حمایت بھی حاصل کرے، تاکہ غزہ میں جاری ظلم و بربریت کے بارے میں اپنے لیے ایسے جواز تراش سکے کہ گویا وہ حق پر ہے، اور یہ کہ فلاں فلاں مسلم ملک بھی ہمارے مؤقف سے متفق ہیں۔
۴۔ پاکستان کا فوجی رجیم اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، سخت دباؤ اور بے یقینی کی فضا میں گھرا ہوا ہے۔ کہاوت ہے کہ ’’ ڈوبتا شخص تنکے کا سہارا لیتا ہے‘‘ اسی طرح یہ رجیم و نظام بھی دباؤ سے نکلنے کے لیے وحشی اسرائیلی حکومت جیسے اتحادی تلاش کر رہا ہے، تاکہ مالی اور سیاسی سہارا حاصل کر سکے۔
۵۔ پاکستان کا فوجی رجیم ہر ممکن راستے سے اپنے ظلم اور جبر کو دوام دینے کے لیے ایسے ہی ظالم اور درندہ صفت غاصب ملک کے ساتھ تکنیکی و مالی تعاون چاہتا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو کی قیادت میں صہیونی قابض حکومت، جس کے ظلم و شر نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جو آج بھی ایک غاصب اور قابض ریاست کے نام سے جانی جاتی ہے۔
۶۔ پاکستانی انتظامیہ (فوج اور آئی ایس آئی) شدید اقتصادی مشکلات کی شکار ہے۔ اسرائیل کی مدد کے ذریعے وہ امریکہ کے قریب ہونے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ اپنے عوام کے خلاف قتل و غارت کے لیے اُس سے پیسے، ٹینک، بم اور اسلحہ حاصل کرے۔
۷۔ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ علاقے میں اسرائیل اور صہیونی حکومت کے خلاف افراد کو نشانہ بنا کر ختم کر دے۔ بعض ذرائع نے ایسے خبریں بھی جاری کی ہیں جن سے اشارہ ملتا ہے کہ پاکستانی انتظامیہ اسرائیل مخالف شخصیتوں کو ختم وقتل کرنے کے ارادے رکھتی ہے۔
مندرجہ بالا مقاصد سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی عسکری انتظامیہ خطے میں اسلام کی جڑیں اکھاڑنے کی نیت رکھتی ہے اور عام مسلمانوں کے خلاف وحشت و جبر کے ذریعے کام لینا چاہتی ہے۔ پاکستان کے عام مسلمان اس بات کو سمجھ لیں کہ پاکستانی فوجی رجیم مکمل طور پر بکا ہوا ہے اور خطے میں کرائے پر دستیاب فوجی کا کردار ادا کر رہا ہے؛ پاکستان بیرونی ممالک کے احکامات پر عمل کرنے والا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور اس کو رسمی طور پر تسلیم کرنے کے معاملات جاننے کے بعد سے وہ تمام جھوٹ، فریب اور منافقت جن کے ذریعے سات دہائیوں سے پاکستانی شریف عوام کو گمراہ کیا جارہا تھا، بے نقاب ہو چکی ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم، صہیونی اسرائیلی کی جانب سے غزہ میں بموں سے جلائے گئے اور قتل کیے گیے تقریباً ایک لاکھ معصوم بچوں اور خواتین، ایک لاکھ سے زائد زخمی افراد، اور پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو جواب دے گا۔ جبکہ اسی فوجی رجیم کے ساتھ اسرائیل کا میل جول، گھٹنے ٹیک کر دوستی، اور صہیونی ریاست کا سرکاری طور پر اعتراف اس کے کردار کا حصہ بن چکا ہے؟
اے پاکستانی مجاہد قوم! پسِ پردہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھو، ہم پاکستانی اداروں کے فوجی اور خفیہ اہلکاروں و عہدیداروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ آپ فروخت ہو چکے ہیں، آپ بیچ دیے گئے ہیں، آپ کے بارے میں سودے ہو چکے ہیں؛ ہوش کے ناخن لو، اس گمراہ اور باطل صف سے الگ ہو جاؤ، حق کی راہ اختیار کرو اور حق کے پیروکار بنو۔

