Site icon المرصاد

پاکستان کی جنگ؛ ایمان اور تقدیر کے سائے تلے!

پاکستان کی جانب سے جاری جنگ محض کوئی اتفاقی یا معمولی سیاسی کشمکش نہیں ہے، بلکہ بظاہر یہ عقائد اور نظریات کے درمیان ایک گہرے ٹکراؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر خطے کے تاریخی پس منظر اور موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ تنازع صرف جغرافیہ، سیاست یا طاقت کے حصول تک محدود نہیں، بلکہ عقیدے، شناخت اور اقدار کے مابین ایک تقابل کی صورت بھی اختیار کر چکا ہے۔

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں ظاہری انسانی تدبیروں سے بڑھ کر تقدیرِ الٰہی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ اسی نقطۂ نظر کے تحت موجودہ علاقائی صورتحال کو بھی محض عام سیاسی تبدیلیوں کے دائرے میں نہیں سمویا جا سکتا، بلکہ اسے ایک بڑے فکری اور اعتقادی تغیر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ تاریخ کا پہیہ ایک بار پھر اسلامی شناخت اور نظام کے استحکام کی طرف گردش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، بڑے تغیرات اکثر سخت آزمائشوں، جنگوں اور مشکلات کے ذریعے ظاہر ہوتے ہیں، جن میں اہلِ ایمان صبر، استقامت اور وفاداری کے امتحان سے گزرتے ہیں، جبکہ دوغلے یا متزلزل موقف رکھنے والے افراد بتدریج نمایاں ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے عسکری رجیم کی موجودہ صورتحال ایک عام جنگ نہیں، بلکہ اسلامی افکار، اقدار اور سیاسی نظریات کے باہمی تصادم کی ایک مثال ہے۔ آنے والا وقت واضح کرے گا کہ یہ تبدیلیاں خطے کے لیے کون سا نیا باب رقم کریں گی، تاہم ایک حقیقت مسلم ہے کہ تاریخ ہمیشہ انہی اقوام کے ہاتھوں لکھی جاتی ہے جو مشکل حالات میں بصیرت، اتحاد اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

اب جبکہ پاکستان کے عسکری رجیم نے جنگ کی آگ بھڑکا کر ایک نئی کشمکش کا آغاز کر دیا ہے، تو یہ بات واضح ہے کہ اس جنگ کے انجام کا فیصلہ بھی افغانوں کے عزم، صبر اور مزاحمت ہی کے ذریعے ہوگا۔ تاریخ بارہا اس حقیقت کی گواہی دے چکی ہے کہ جب بھی اس سرزمین پر جنگ مسلط کی گئی، افغان عوام نے سرینڈر ہونے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور بالآخر حالات کا رخ بدل دیا۔

افغان قوم ایک طویل جدوجہد اور ناقابلِ تسخیر مزاحمت کی حامل رہی ہے۔ حق، آزادی اور عزت کا دفاع ان کے اُن بنیادی اقدار میں شامل ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتے آئے ہیں۔ یہی جذبہ انہیں مشکلات، دباؤ اور طویل تنازعات کے باوجود ٹوٹنے نہیں دیتا بلکہ مزید مضبوط بناتا ہے۔ تاریخ کے اوراق افغانوں کے عزم، برداشت اور استقامت کی مثالوں سے بھرے ہوئے ہیں؛ ایسے کئی ادوار گزرے ہیں جب نسلیں جنگ کے ماحول میں پیدا ہوئیں، اسی فضا میں پروان چڑھیں اور اپنی زندگیاں بھی اسی جدوجہد کے سائے میں گزاریں۔ یہی خصوصیت افغانوں کو مستقل مزاحمت کی ایک نمایاں مثال بناتی ہے۔

اسی بنا پر افغان یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر مسلط کردہ جنگ، خواہ کتنی ہی طویل اور کٹھن کیوں نہ ہو، بالآخر حق، عزت اور ثابت قدمی کے حق میں ہی انجام پذیر ہوتی ہے، اور تاریخ ایک بار پھر اس سرزمین کے لوگوں کے صبر و استقامت اور ناقابلِ شکست ارادے کی گواہی دے گی۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ مؤمن اور مسلمان قوتیں ہی جیتیں گی، اور یہاں سے ایک ایسی پیش رفت کا آغاز ہوگا جس کے نتیجے میں پاکستان ان مجاہدین کے زیرِ اثر آ جائیں گے۔ ہم ایک باوقار تاریخی پس منظر اور دینِ اسلام کے لیے عظیم قربانیاں دینے والی قوم کی حیثیت سے ایک نئے اور مضبوط سنہرے دور کی طرف بڑھیں گے، ان شاء اللہ۔

Exit mobile version