پاکستان خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صفِ اوّل میں قربانی دینے والا ظاہر کرتا ہے، لیکن جمع کیے گیے اعداد وشمار اور شواہد اس دعوے کے برخلاف ایک متضاد، پیچیدہ اور تشویشناک حقیقت پیش کرتے ہیں۔ داعش خراسان شاخ (ISIS-K) کی سرگرمیاں، خاص طور پر افغانستان سے اس گروہ کی شکست اور پسپائی کے بعد اور پاکستان میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں بلکہ پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیوں کی دوغلی نوعیت کے حوالے سے بھی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری، جو پاکستانی فوج کی جانب سے امریکہ کے ساتھ نئے سیکیورٹی مفاہمتوں کے اعلان کے ساتھ ہوئی، ان شبہات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان اب بھی ’’منتخب دہشت گردی کے خلاف پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد زیادہ تر نعروں کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اصل توجہ تجارتی نوعیت کی سلامتی، حکمت عملی کے تحت دباؤ ڈالنے اور عالمی نظروں میں اپنے آپ کو درست ثابت کرنے پر مرکوز ہے۔ پاکستان میں داعش خراسان کی بڑھتی موجودگی، ان کے خفیہ ٹھکانوں کا وجود اور وقتاً فوقتاً کیے جانے والے سیاسی اعلانات، سب واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی خفیہ حلقے اب بھی ’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ دہشت گرد کی سوچ سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئے۔
ان تمام پیچیدہ حقائق کے پیش نظر، عالمی برادری اور خطّے کے ممالک کو بھی افغان حکومت کی طرح پاکستان کی دوغلی سیکیورٹی پالیسیوں کے خلاف ایک واضح، غیرجانبدار اور اصولی موقف اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ جب تک دہشت گردی کے خلاف جدوجہد حقیقی، شفاف اور غیر منتخب نہیں ہوگی، خطہ ہمیشہ یونہی عدم تحفظ، مداخلت اور خونریزی کا شکار رہے گا۔
داعش خراسان (ISIS-K) ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۵ء کے درمیان خطے میں باقاعدہ طور پر ظاہر ہوئی اور خود کو داعش کے مرکزی ڈھانچے (جو عراق اور شام میں فعال تھا) کی ایک علاقائی شاخ کے طور پر متعارف کرایا۔ اس گروہ کے اثر و رسوخ اور سرگرمیوں کا دائرہ افغانستان، پاکستان، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے بعض حصوں تک پھیلا، اور بہت جلد اس نے انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور پروپیگنڈے کے ذریعے علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے۔
داعش خراسان شاخ نے ایک سخت گیر، فرقہ پرست اور پرتشدد نظریہ اپنایا، جس کا مقصد مذہبی اور نسلی اختلافات کو گہرا کرنا، عام مسلمانوں کے درمیان خوف و ہراس پھیلانا اور دیگر جہادی تحریکوں کو غیر معتبر بنانا تھا۔ اس گروہ نے عام شہریوں، مذہبی مقامات، مذہبی اقلیتوں اور عوامی اداروں کے خلاف مہلک حملے کیے، جن میں ہزاروں بے گناہ افراد اپنی جانوں سے محروم ہوئے۔
امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد، داعش خراسان (ISIS-K) افغانستان کے لیے سب سے بڑا داخلی سلامتی خطرہ بن گئی۔ یہ گروہ، جس نے پہلے ہی عام لوگوں، مذہبی اقلیتوں اور بنیادی اقدار کے خلاف شدید حملے کیے تھے، نے نئے نظام کے خلاف اپنے اقدامات کو وسیع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن امارتِ اسلامیہ نے وقت ضائع کیے بغیر، اس گروہ کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر اور عسکری کارروائیاں شروع کر دیں۔
ان وسیع کارروائیوں کے نتائج قابلِ ذکر رہے:
۱: داعش خراسان کے اعلیٰ سطحی رہنماؤں کو گرفتار یا ہلاک کرنا۔
۲: بھرتی، تربیت اور لاجسٹک نیٹ ورکس کا خاتمہ۔
۳: مالی وسائل، معاونین اور بیرونی تعلقات کا کٹ جانا۔
۴: پروپیگنڈا اور میڈیا کے ڈھانچے کا تباہ ہونا، جو گروہ کے اثر و نفوذ کے لیے کام آتا تھا۔
۵: گروہ کے اندر مورال کی کمزوری اور جنگجوؤں کا فرار یا ہتھیار ڈال دینا۔
ان اقدامات کی بدولت، نہ صرف داعش خراسان نے اپنی ہم آہنگی اور حملے کرنے کی صلاحیت کھو دی، بلکہ اس کے تنظیمی ڈھانچے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی تصدیق شدہ ہے، جو کہتے ہیں کہ داعش خراسان اب ایک منظم اور معتبر باغی قوت نہیں رہی اور صرف انفرادی یا کمزور حملوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
داعش خراسان شکست کے بعد اس کے عناصر کا پاکستان کی طرف منتقل ہونا:
افغانستان میں شدید سیکیورٹی آپریشنز کے بعد، جنہوں نے داعش خراسان کو زبردست دھچکے پہنچائے، ایک اہم سوال یہ پیدا ہوا: اس گروہ کے باقی ماندہ جنگجو، رہنما اور نیٹ ورکس کہاں گئے؟ متعدد علاقائی سیکیورٹی رپورٹس، تحقیقات اور شواہد کے مطابق، پاکستان داعش خراسان کے باقی عناصر کا مرکزی ٹھکانہ بن گیا۔ یہ منتقلی محض ایک اتفاقی اقدام نہیں تھی، بلکہ ایک منظم، آسان بنایا ہوا اور ممکنہ طور پر اسٹریٹجک تبادلہ تھا۔
اہم نکات یہ حقیقت واضح کرتے ہیں:
۱: داعش کے ارکان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور حتیٰ کہ پنجاب کے بعض شہروں میں منتقل کیا گیا۔
۲: وہاں انہیں محفوظ ٹھکانے، طبی سہولیات، دستاویزات اور رابطے کے ذرائع فراہم کیے گئے۔
۳: آمدورفت، سرحد پار جانے اور بھرتی و تربیت کے اسباب فراہم کیے گئے۔
۴: ان کی دوبارہ تنظیم، تربیت اور وسعت کے لیے تیز رفتار اقدامات کیے گئے۔
ایسے حالات میں یہ سرگرمیاں بغیر حکومتی چشم پوشی، اسٹریٹجک مفاہمت یا بالواسطہ حمایت کے ممکن نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے یہ خدشہ مزید مضبوط ہوا کہ پاکستانی انتظامیہ یا تو داعش خراسان کے لیے اسٹریٹجک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے یا عملی طور پر اس کی حمایت کرتی ہے، تاکہ اس گروہ کو اپنے علاقائی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا داعش کے ساتھ دوغلا رویہ:
پاکستان کے فوجی اور خفیہ ادارے طویل عرصے سے ایک اہم الزام کا سامنا کررہے ہیں کہ: وہ مسلح گروہوں کے ساتھ ’’انتخابی رویہ‘‘۔ یعنی، ان کے نزدیک مسلح گروہ دو اقسام کے ہوتے ہیں ’’دوست‘‘ اور ’’دشمن‘‘۔
دوست گروہ وہ ہیں جو پاکستان کے اسٹریٹجک مقاصد (جیسے بھارت کے خلاف دباؤ، افغانستان میں اثر و رسوخ، یا داخلی سیاست) کے ساتھ ہم آہنگ ہوں؛ ایسے گروہ اکثر پاکستان کی جانب سے:
• یا تو محفوظ رکھے جاتے ہیں،
• یا منظم کیے جاتے ہیں،
• یا ضرورت پڑنے پر قربان کیے جاتے ہیں، لیکن تب تک ان سے فائدہ اٹھایا جاچکا ہوتا ہے۔
داعش خراسان کا معاملہ بھی اسی پالیسی کی واضح مثال ہے۔ اگرچہ داعش خراسان ایک دہشت گرد گروہ ہے، لیکن:
• اس کے بعض عناصر پاکستانی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں رکھے گئے،
• بظاہر ’’سیاسی قیدیوں‘‘ کے طور پر حراست میں لیے گئے،
• اور کبھی کبھار امریکہ یا دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کے دوران ’’دہشت گردی کے خلاف کامیابی‘‘ کے طور پر پیش کیے گئے۔
سلطان عزیز عزام کی گرفتاری، جو داعش خراسان کا ترجمان تھا، بھی اس دوغلے رویے کی نمایاں مثال ہے۔ اس کی گرفتاری اس وقت ظاہر کی گئی جب پاکستانی فوج نے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات شروع کیے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی ادارے مسلح گروہوں کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ سیاسی آلات کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو بھی مشکوک ٹھہراتا ہے۔
المرصاد کی رپورٹ اور عملی شواہد – داعش خراسان اور پاکستان کے تعلقات دستاویزی شواہد کی روشنی میں:
المرصاد نشریاتی ادارہ، جو علاقائی سکیورٹی، خفیہ نیٹ ورکس اور دہشت گردانہ سرگرمیوں پر فوکس رکھتا ہے، نے اپنی تازہ رپورٹس میں داعش خراسان اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون کے گہرے اور مستند پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ رپورٹس محض الزامات نہیں، بلکہ دستاویزی شواہد فراہم کرتی ہیں، جو عالمی محققین، علاقائی ذرائع اور استخباراتی تجزیہ کاروں کی تحقیقات پر مبنی ہیں۔
ان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
۱: عبوری راستہ:
داعش خراسان کے گرفتار شدہ ارکان نے واضح اعترافات کیے ہیں کہ انہیں پاکستان سے منظم منصوبے کے تحت افغانستان منتقل کیا گیا، جس میں پاکستانی فوجی انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مدد شامل تھی، تاکہ وہاں تخریبی سرگرمیاں انجام دی جائیں۔
۲: پاکستان سے کارروائی کے منصوبے:
افغانستان، چین اور وسطی ایشیا کے اہداف پر داعش کے حالیہ حملے ان منصوبوں کے مطابق ہیں جو پاکستان کی سرزمین سے تیار کیے گئے، اور ان کی لاجسٹک، مواصلاتی اور انٹیلی جنس معاونت کے شواہد بھی پاکستان سے ملے ہیں۔ علاوہ ازیں، گرفتار شدہ داعشی اراکین کے اعترافات بھی اس سلسلے میں قابل غور ہیں۔
۳: آزادانہ آمد و رفت:
داعشی افراد اور رہنماؤں کو قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور حتیٰ کہ پنجاب کے بعض حصوں میں اس قدر آزادی فراہم کی گئی کہ یہ ایک ’’بے نظم اور خفیہ نیٹ ورک‘‘ نہیں، بلکہ ایک معاہدے کی شکل میں انہیں بسایا گیا ہے۔
۴: انٹیلی جنس نگرانی کے باوجود محفوظ سرگرمیاں:
المرصاد کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش خراسان کے ارکان نہ صرف پاکستانی خفیہ اداروں سے پوشیدہ نہیں ہیں، بلکہ انہی اداروں کے منظم کنٹرول اور نگرانی میں، فراہم کردہ منصوبے کے مطابق سرگرم عمل ہیں۔
۵: عالمی پہلو:
حالیہ شواہد، جو تاجکستان کی سرحد کے قریب چینی شہریوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق ہیں، اور ان افراد کے پاکستانی نیٹ ورکس سے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، اس بات کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ داعش خراسان پاکستان کی مدد سے دوبارہ تباہ کارانہ سرگرمیوں کے لیے عالمی خطرہ ہے۔
یہ دستاویزی شواہد واضح کرتے ہیں کہ پاکستانی انتظامیہ صرف ایک ’’تماشائی‘‘ نہیں، بلکہ ایک شریک کار، منصوبہ ساز اور مستفید کھلاڑی کے طور پر سامنے آئی ہے۔
افغانستان کا باضابطہ موقف اور انٹیلی جنس دعوے:
امارتِ اسلامیہ افغانستان نے داعش خراسان کے بارے میں ایک واضح، مستند اور شواہد پر مبنی موقف اختیار کیا ہے۔ امارتِ اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے متعدد مواقع پر واضح کیا کہ داعش خراسان کے رہنما، خاص طور پر سلطان عزیز عزام، اس وقت پاکستان میں مقیم ہیں اور وہاں سے اپنی سرگرمیاں منظم وجاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے پاکستان سے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا واضح مطالبہ کیا اور کہا کہ افغانستان اپنی سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
امارتِ اسلامیہ کا یہ موقف محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ حساس دستاویزات، مشاہدات اور علاقائی رپورٹس پر مبنی ہے۔ یہ بیانات تحقیقاتی اور صحافتی شواہد کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں، جو داعش خراسان کی سرگرمیوں کو پاکستان کی سرزمین سے جوڑتے ہیں۔
یہ موقف ایک طرف افغانستان کے قانونی حاکمیت کے دفاع کو ظاہر کرتا ہے، اور دوسری طرف علاقائی ریاستوں، بین الاقوامی اداروں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری سے توقع رکھتا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے، معاون ادارے اور حمایتی چاہے جہاں بھی ہوں، غیر جانبدارانہ طور پر شناخت کیے جائیں اور ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
گرفتاری کی کہانی: وقت، تضادات اور اعتماد کا خلاء:
پاکستانی خفیہ پالیسیوں کے تناظر میں، داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری ایک ایسی واقعہ ہے جس کے پیچھے متعدد تضادات، مبہم تفصیلات اور اعتماد کی گہری خلائیں پوشیدہ ہیں۔ اگرچہ پاکستانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ انہیں ننګرهار اور خیبر کے درمیان سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا، لیکن:
• گرفتاری کی صحیح جگہ ظاہر نہیں کی گئی،
• کارروائی کی نوعیت، شامل افواج اور شواہد چھپائے گئے،
• کوئی آزاد علاقائی یا بین الاقوامی ذریعہ اس خبر کی تصدیق نہیں کرتا۔
اس کے برعکس، پاکستان کے سابق فوجی افسر اور صحافی عادل راجہ نے پہلے ہی کہا تھا کہ داعش خراسان کے اعلیٰ رہنما کافی عرصے سے پاکستانی فوج کے کنٹرول میں ہیں اور انہیں سیاسی اور سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کچھ دیگر معتبر ذرائع کے مطابق، سلطان عزیز عزام چند ماہ پہلے گرفتار ہوئے، لیکن گرفتاری کا اعلان اس وقت کیا گیا جب پاکستان کے فوجی سربراہ کی امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی۔ اس تسلسل اور ہم آہنگی کی بنیاد پر یہ خدشہ مزید مضبوط ہوتا ہے کہ یہ اعلان دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ سیاسی وقت سازی، اعتماد سازی کی جھوٹی کوشش اور عالمی دباؤ کو کم کرنے کی حکمت عملی تھی۔
پاکستان کا دوہرا ریاستی – سکیورٹی ڈھانچہ:
شواہد کے مطابق خطے میں دہشت گردی، شدت پسندی اور سیاسی عدم استحکام کے پائیدار ہونے کی سب سے بڑی وجہ، پاکستان کی ریاست اور سیکیورٹی اداروں کا دوہرا اور انتخابی رویہ ہے۔ یہ ایک دیرینہ حکمت عملی ہے جس میں پاکستان نہ صرف خود کو دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا شریک ظاہر کرتا ہے، بلکہ مسلح گروہوں کو منتخب کرنے، کنٹرول کرنے اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھتا ہے۔ اس فریم ورک میں مسلح گروہ اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت، مفاد اور وقت کے حساب سے تعریف کیے جاتے ہیں۔
داعش خراسان صرف اس وقت ’’مسئلے‘‘ کے طور پر ابھرتا ہے جب وہ پاکستان کے جیوپولیٹیکل یا سفارتی مفاد کھو دیتا ہے یا عالمی دباؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ ظاہری کارروائی ضروری ہو۔ اس پالیسی کی تازہ مثال پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا امریکہ کا دورہ اور اسی وقت داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری کا اعلان ہے۔ یہ ہم آہنگی اتفاقی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند انٹیلی جنس کھیل کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی اعتماد جیتنا، دباؤ کم کرنا اور مراعات و فوائد حاصل کرنا ہے۔
تاریخی طور پر، پاکستان نے ایسے مفاہمتی اقدامات کو مسلسل استعمال کیا ہے۔ عافیہ صدیقی کیس اسی پالیسی کی مثال ہے؛ ایک انسانی اور قانونی مسئلہ جسے خفیہ معاملات اور عالمی سمجھوتوں کے حصہ کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ اقدامات صرف سیکیورٹی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایک منظم مفاہمتی ماڈل کے اجزاء تھے: افراد کی حفاظت، مناسب وقت تک انتظار، اور پھر انہیں عالمی طاقتوں کے سامنے ’’دہشت گردی کے خلاف کامیابی‘‘ کے طور پر پیش کرنا۔ اس کے بدلے میں پاکستان نہ صرف عالمی سیاسی اعتماد حاصل کرتا رہا بلکہ لاکھوں ڈالر کی مالی امداد، فوجی سازوسامان اور اسٹریٹجک نرم رویہ بھی حاصل ہوا۔
یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا ریاستی – سیکیورٹی ڈھانچہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو اصولی سیکیورٹی پالیسی کے طور پر نہیں بلکہ دباؤ، مفاہمت اور فوائد حاصل کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہ دوہرا رویہ نہ صرف خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کے جواز کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور سوال پیدا کرتا ہے کہ کسی ایسے شریک پر کتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے جو دہشت گردی کو روکنے اور فائدہ اٹھانے دونوں کے لیے استعمال کرتا ہو۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جب تک عالمی برادری پاکستان کے ’’دوہرے معیار‘‘ پر گہرائی سے توجہ نہیں دے گی اور سطحی بیانیے سے آگے جا کر اس کے خفیہ اداروں کی پالیسیوں کا تجزیاتی جائزہ نہیں لے گی، دہشت گردی کا دوبارہ استعمال جنوبی ایشیا کی سلامتی کا ایک مستقل مسئلہ بنا رہے گا۔
تاریخی مشاہدہ ہے کہ وہ ریاستیں جو اپنی سیکیورٹی پالیسی تضاد، دوغلے رویے اور وقتی مفاد پر استوار کرتی ہیں، آخرکار انہی تضادات کے آگ میں خود بھی جل جاتی ہیں۔

