Site icon المرصاد

پاکستان کی عسکری رجیم آخر کیا چاہتی ہے؟

افغانستان نے ایک خودمختار اور آزاد وطن کے طور پر نئی روح پائی ہے۔ اس کی سیاست معیشت کے توازن پر استوار ہے، اور وہ اب کسی طاقت کے طناب سے بندھا نہیں، بلکہ اپنے فیصلوں میں خودمختار اور آزاد ہے۔

افغانستان اپنی اسلامی اور قومی مفادات کی بنیاد پر ایک غیرجانبدار اور واضح پالیسی رکھتا ہے، تاریخی لحاظ سے غیرجانبداری کا مطلب یہ ہے کہ وہ بین‌ الاقوامی فوجی اتحادوں اور رقابتی بلاکوں میں شامل نہیں ہوتا، اور ایسی پالیسی اختیار کرنا افغانستان کو بہت سے عسکری خطرات اور ذمہ داریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

تاہم اس پالیسی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ افغانستان بین‌ الاقوامی اہم معاملات سے لاتعلق رہے، یا عالمی مسائل پر اپنا موقف ظاہر نہ کرے، بلکہ ایک خودمختار ریاست ہونے کے ناطے افغانستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے علاقائی اور عالمی ممالک کے ساتھ وسیع سیاسی و عسکری معاہدے کرے اور یہ اس کا مسلم اور جائز حق ہے۔

ایسے معاہدوں کی کئی مثالیں موجود ہیں، جیسے:
۱۔ ۸ ستمبر ۱۹۵۴ء کو منیلا میں جنوب مشرقی ایشیا کے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے، جو آسٹریلیا، فرانس، نیوزی لینڈ، پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان طے پایا۔
اس معاہدے نے ۱۹ فروری ۱۹۵۵ء کو ’’سیٹو‘‘ (Southeast Asia Treaty Organization – SEATO) کی قانونی حیثیت اختیار کی، جو ۳۰ جون ۱۹۷۷ء تک قائم رہا۔
۲۔ اسی طرح ۲۴ فروری ۱۹۵۵ء کو ایران، عراق، پاکستان، ترکی اور برطانیہ کے مابین سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن(CENTO) Central Treaty Organization کا معاہدہ بھی طے پایا، جو ۱۶ مارچ ۱۹۷۹ء تک برقرار رہا۔
۳۔ ۱۹۹۲ء میں ایک مشترکہ سلامتی کا معاہدہ آرمینیا، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، روس اور تاجکستان کے مابین ہوا۔
۴۔ ۲۰۲۳ء میں بورکینا فاسو، مالی اور نائجر کے درمیان ساحلی ممالک کا اتحاد قائم ہوا اور اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
جب ایسے معاہدے کسی قوم کا واضح اور جائز حق ہیں، تو پھر کیوں افغانستان کے ساتھ صرف اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو ہی کچھ حلقوں میں منفی رنگ دیا جاتا ہے؟ یہ بد نیتی بسا اوقات پاکستان کے مخصوص حلقوں کی طرف سے ہوتی ہے، جو افغانستان کو براہِ راست یا بلاواسطہ اپنے زیرِ اثر رکھنا چاہتے ہیں۔ وہی حلقے مختلف ناپاک حرکات میں ملوث رہتے ہیں؛ اور یہ ان کی دہائیوں پر محیط قدیم حکمتِ عملی رہی ہے۔
یہی پالیسی پاکستان کے معروف تصورِ ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ کی عکاس ہے، جو ۱۹۹۰ء کے عشرے سے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سیکورٹی تعلقات کا محور رہی۔ اس تصور کی بنیاد یہ تھی کہ کابل کو اسلام آباد کے براہِ راست یا بالواسطہ نفوذ میں لایا جائے، تاکہ افغانستان کے قدرتی ذخائر تک آسانی سے رسائی ممکن ہو اور تمام دیگر قوتوں کے اثر و رسوخ کو روکا جا سکے جن کے رجحانات پاکستان کے مفاد میں نہ ہوں۔ دہائیوں سے پاکستان نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے افغانستان میں تخریبی، مافیا نوعیت کے گروہوں اور مالی و انٹیلی جنس معاونت کے ذریعے رویہ اپنایا ہوا ہے۔

مگر اگست ۲۰۲۱ء میں جب افغانستان میں امارتِ اسلامیہ دوبارہ اقتدار میں آئی، تو اس نے پاکستان کی اس غلط حکمتِ عملی کو چیلنج کیا۔ خودمختاری اور علاقائی طاقت کے طور پر اپنا مقام ثابت کرنے کی کوششوں کے تناظر میں امارتِ اسلامیہ نے ہندوستان، روس اور چین سمیت متعدد علاقائی قوتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دی۔

اس پیش رفت نے نہ صرف پاکستان کے بعض بدقماش حلقوں کی ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ پالیسی کو بےمعنی بنادیا، بلکہ وہی حلقے اب اسے پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھنے لگے۔
یہ حلقے اب پریشان اور خوفزدہ ہیں، اور اپنی قدیم حکمت عملی کو برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف پاکستان میں بلکہ افغانستان کے اندر بھی چند غلط منصوبے اور ناپاک حرکات انجام دینے کی نیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے اندر ان منصوبوں کی چند مثالیں یہ ہیں:
۱۔ عوام اور سول حکومت کے درمیان خلل پیدا کرنا، تاکہ حالات کو تہہ و بالا کرکے مارشل لاء جیسی صورتحال کے امکانات کو پروان چڑھایا جا سکے۔

۲۔ پورے ملک خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں وہ افراد جو ان کے نظریات کے حامی نہیں اور جنہوں نے ان کے خلاف آواز اٹھائی، انہیں ہدف بنا کر اغوا یا لاپتہ کروا دیا جائے؛ تاکہ اندرونی مخالفت کو ختم کیا جا سکے۔ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

۳۔ محروم قوموں، فعال احتجاجی تحریکوں اور اپنے انسانی حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو مزید کچل دیا جائے گا، اور ان کے رہنماؤں کو آپس میں تقسیم یا ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا جائے گا۔

۴۔ بعد ازاں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قیمتی معدنیات کو کسی بیرونی طاقت کے حوالے کرکے استخراج کے معاہدے کر دیے جائیں گے، اور پروسیسنگ کے لیے کارخانے پنجاب میں قائم کیے جائیں گے۔

۵۔ یہ دونوں(پاکستان اور عالمی قوت) دوبارہ کوشش کریں گے کہ افغانستان، ایران اور خطے کے دیگر قیمتی ذخائر کی اسمگلنگ کے راستے ہموار کریں؛ اور اگر بین الاقوامی بازار اس پر رضامند نہ ہوں تو استخراج اور پروسیسنگ کے لیے پنجاب کے کارخانوں میں منتقل کریں گے۔

افغانستان میں ان کے کچھ مقاصد اور منصوبے یہ ہیں:
۱۔ عام افغانوں اور بین الاقوامی برادری میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کے خلاف بے اعتمادی پیدا کرنا؛ یہ تاثر پھیلانا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے ذریعے وہ داخلی طور پر حکومت کو کمزور کرنا اور بیرونی ممالک کے ساتھ اس کے روابط و استحکام کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔

۲۔ داعش کے انتہا پسندوں، شر انگیز گروہوں کو مالی معاونت، سہولت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا، اور پھر انہیں افغانستان کے خلاف استعمال کرنا؛ تاکہ یہاں افراتفری پیدا ہو اور اپنے سیاسی و جغرافیائی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

۳۔ طالبان کے خلاف مسلح تصادم اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنا دانشمندانہ پالیسی نہیں؛ اصل ٹھوس حکمتِ عملی تو افغانستان کے ساتھ خوشگوار اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات استوار کرنا ہے، کیونکہ ہمارے باہمی مشترک مفادات موجود ہیں۔ یہ دعوے اکثر افغان عوام اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے ٹیبل ٹاک پر کیے جاتے ہیں۔

۴۔ بعض حلقے طالبان کے خلاف جنگ کی حمایت تو کرتے ہیں، مگر ایسی جنگ جو پاکستان کے مفاد میں ہو؛ کیونکہ ایک مضبوط، مرکزی اور خودمختار افغانستان کو وہ اپنے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ یہ بیانیہ اپنے سول حکمرانوں کو مطمئن کرنے اور نچلے درجے کے فوجی افسروں کو قائل کرنے کے لیے گھڑا جاتا ہے۔

۵۔ پاکستان کے مطابق افغانستان کے ساتھ ایک بفر زون ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے افغانستان کے اندر فرضی سرحد (فرضی لائن) کے قریب ایسے علاقے قائم کیے جائیں؛ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس مفروضی لائن کے اطراف کو بطور بفر زون برقرار رکھا جائے؛ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو مفروضی سرحد کے مقابل پاکستانی جانب کے علاقوں کو بفر زون کی حیثیت دی جائے۔ یہی ان کی موجودہ حکمتِ عملی ہے، جسے وہ اپنی ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ پالیسی کے تحت متواتر اہداف کے حصول کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور سرحدی علاقے میں جو موجودہ جھڑپیں ہو رہی ہیں وہ اسی منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنازعات اسی طرح جاری رہے تو یہ پورے خطے میں پھیل جائیں گے، کیونکہ تنازع کے دائرے اور محوری جہتیں بڑھ جاتی ہیں، اور اس سے طاقت کے توازن میں انتشار پیدا ہوگا؛ نتیجتاً ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی مثبت کردار ادا کرنے والا موجود نہ رہے گا۔ لہٰذا خطے میں موجود قوتیں اس تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ذمہ داری نبھائیں۔ نیز پاکستان کے عوام اور مذہبی قیادت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان شرپسند حلقوں کے سامنے کھڑے ہوں؛ مگر بدقسمتی سے وہ نہ تو ان مسائل کی سنگینی سے آگاہ ہیں اور نہ ہی اس کی اہمیت محسوس کرتے ہیں۔

ان کی پوری جدوجہد محض عوامی جذبات بھڑکانے، شدید نعروں، جلسوں اور جارحانہ بیانیے تک محدود ہے، زیادہ سے زیادہ وہ اپنے قیمتی کارکنان کو قربان کر دیتے ہیں؛ یہی ان کی کامیابی اور نجات سمجھ لی جاتی ہے۔
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے سنجیدہ فکر، مسائل کا درست ادراک، تدبر، حکمت، تحمل اور طاقت کے مناسب استعمال کی پالیسی اپنانا ضروری ہے، لیکن انہوں نے یہ خوبیاں کسی اور کے سپرد کر رکھی ہیں۔

میں ان سے التجا کرتا ہوں کہ اپنے نظریہ سازوں کو ساتھ بٹھائیں، مخصوص حلقوں کے موجودہ طرزِ عمل کا دوبارہ جائزہ لیں، خطے کے تمام حالات کو بغور دیکھیں، بیرونی ممالک کے علمی، سیاسی اور فکری حلقوں سے مشاورت کریں، اور یہ واضح سمجھیں کہ مخصوص حلقے جاری تنازعات اور وہاں جاری ظلم و ستم کس طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہیں سطحی اور جذباتی روش کو ترک کر کے ایک مضبوط علمی، فکری اور سیاسی بنیاد پر نئی حکمتِ عمل وضع کرنا چاہیے، مگر یہ تبھی ممکن ہے جب ان پر عائد کی گئی یا ان کے لیے طے کی گئی پالیسیاں آگے بڑھنے کے لیے رکاوٹ نہ ہوں، اور جب وہ اسے اپنا دینی، قومی اور تاریخی فریضہ سمجھ کر انجام دیں۔

Exit mobile version