پاکستانی فوجی رجیم ہمیشہ سے اپنی تمام تر داخلی، معاشی، سیاسی اور قومی مسائل کو افغانستان کی طرف موڑ دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتیہے اور اس کا اصل مقصد کیا ہے؟
اس مختصر مگر جامع تحریر میں ہم کوشش کریں گے کہ قارئین کے سامنے تاریخی پس منظر، اسٹریٹجک اشارات، انٹیلی جنس مواد اور تجزیاتی ڈھانچے کے ساتھ ایک مکمل، تجزیاتی، خفیہ معلومات پر مبنی اور علمی رپورٹ پیش کریں ۔
پہلے ہم پاکستان کے اندرونی بحرانوں کا جائزہ لیں گے، پھر اس بنیادی سوال کا منطقی اور قابل قبول جواب تلاش کریں گے کہ پاکستانی رجیم اپنی ناکامیاں اور مسائل آخر کار افغانستان پر کیوں تھوپتا ہے؟
۱۔ پیش لفظ
پاکستان اپنی ناکام ریاست سازی (failed state-building) کے پہلے دن سے لے کر آج تک کئی دائمی، انفرا سٹرکچرل اور سکیورٹی مسائل کا شکار ہے۔ ان مسائل کے صحیح انتظام کی بجائے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے “مسائل باہر کی جانب منسوب کرنے کی حکمت عملی” (Externalization Strategy) اپنائی ہے جس کا بنیادی مقصد اپنے اندرونی بحرانوں کا بوجھ افغانستان پر ڈالنا، علاقائی اسٹریٹجک توازن خراب کرنا اور عالمی برادری سے ہمدردی اور امداد حاصل کرنا ہے۔
پاکستانی فوجی ریجیم نے منظم طور پر کوشش کی ہے کہ اپنی تمام ناکامیوں کی سیاسی اور سکیورٹی ڈھال (scapegoat) افغانستان کو بنائے اور اس طرح اپنی شکست کو چھپانے کی ناکام کوشش کرے۔
۲۔ پاکستان کا تاریخی ڈھانچہ اور سیاسی میکینزم
پاکستان شروع دن سے وجودی بحران (existential crisis) کا شکار رہا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک اسے درج ذیل مسائل درپیش ہیں:
– متحد قوم کی تشکیل (nation-building) میں ناکامی
– قومی شناختوں کا تصادم (پشتون، بلوچ، بنگالی، سندھی، مہاجر، سرائیکی وغیرہ)
– فوج کا سول اداروں پر ظالمانہ تسلط
– معاشی خودانحصاری کا فقدان
ان تباہ کن بحرانوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر فوجی آمریت نےیکے بعد دیگرے وہی پالیسیاں دہرائیں اور افغانستان پاکستان کی سکیورٹی ذہنیت کا مستقل حصہ بن گیا۔
۳۔ “اسٹریٹجک ڈیپتھ” کا فلسفہ
پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی ۱۹۷۰ء کی دہائی سے اس پالیسی پر مختلف شکلوں میں عمل پیرا ہے:
– افغانستان کبھی آزاد، مضبوط اور متحد نہیں ہونا چاہیے
– کابل ہمیشہ اسلام آباد کے اثر و رسوخ کے تحت رہے
– جو بھی حکومت پاکستان کی فوجی ایجنڈے کے خلاف ہو، اسے غیر مستحکم کیا جائے
یہ پالیسی صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ اسے بھارت کے خلاف “دفاعی گہرائی” کے نام پر بھی بطورِ جواز پیش کیا جاتا ہے۔
۴۔ مسائل کی “برآمد” کا میکینزم
جیسا کہ پہلے کہا جا چکا، پاکستان کے اندرونی مسائل کے درست حل کی بجائے فوج نے انہیں برآمد کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ وہ کن کن طریقوں سے اپنے مسائل افغانستان پر ڈالتا ہے؟
1. اندرونی سیکورٹی دباؤ کا رخ موڑنا (Deflection)
جب پاکستان میں:
– تحریک طالبان پاکستان (TTP) مضبوط ہوتی ہے
– فرقہ وارانہ لڑائیاں بڑھتی ہیں
– فوج کی کمزوری عیاں ہوتی ہے
– سیاسی نظام بحران کا شکار ہوتا ہے
تو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی فوراً “کراس بارڈر بلیم ڈاکٹرائن” فعال کر دیتے ہیں یعنی تمام خطرات افغانستان سے آ رہے ہیں کا بیانیہ چلا دیتے ہیں۔
2. عالمی طاقتوں کو ڈھال بنانے کی چال
– امریکہ کو پیغام: دہشت گردی افغانستان سے آ رہی ہے
– چین کو پیغام: CPEC کو افغانستان سے خطرہ ہے
– آئی ایم ایف/ورلڈ بینک کو پیغام: اگر امداد نہ دی تو افغانستان کا بحران پھیل جائے گا
یہ جیو پولیٹیکل بلیک میلنگ کا کلاسیکل طریقہ ہے۔
3. معاشی ناکامیوں کو چھپانا
۱۲۶ ارب ڈالر قرضہ، روپیہ کی گرتی قدر، غربت میں اضافہ، صنعتی تعطل، سیاسی افراتفری، ان سب کو “External Blame Architecture” کے ذریعے افغانستان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
4. مہاجرین کا مسئلہ بطورِ دباؤ کا ہتھیار
جب بھی سیاسی یا معاشی دباؤ بڑھتا ہے:
– افغان مہاجرین نکالنے کا اعلان
– ان پر ظلم بڑھانا
– پروپیگنڈا مہم چلانا
تاکہ افغانستان کو اندرونی طور پر دباؤ میں لایا جائے اور عالمی برادری کے سامنے خود کو مظلوم دکھایا جائے۔
5. سرحدی جھڑپوں کا مستقل انتظام
ڈیورنڈ لائن پاکستانی رجیم کے لیے اسٹریٹجک ہتھیار ہے۔ جب اندرونی دباؤ بڑھتا ہے تو سرحد پر جان بوجھ کر جھڑپیں کروائی جاتی ہیں تاکہ:
– فوج کا بجٹ بڑھانے کے لیے “افغان خطرہ” دکھایا جائے
– پشتونوں کی قومی یکجہتی روکی جائے
یہ “منظم انتشار کی حکمت عملی” (Controlled Chaos Doctrine) کی ایک سوچی سمجھی شکل ہے۔
6. آئی ایس آئی کا کردار
پاکستانی انٹیلی جنس کے تین بنیادی مقاصد افغانستان میں:
1. بھارت ka مقابلہ
2. افغانستان میں تابع دار حکومت قائم کرنا
3. علاقے میں اسلامی گروہوں کے نفوذ کا انتظام
اس نے ماضی میں مجاہدین کی انجینئرنگ، ڈبل گیم، TTP کو کبھی استعمال اور کبھی دبانے کی پالیسی اپنائی۔ آج صورتحال بدل گئی ہے۔ اگر پاکستان اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ لائے تو علاقے میں اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
7. پراکسی گروہوں کا نظام
پاکستان اپنے مسائل برآمد کرنے کے لیے افغانستان میں پراکسی/نمائشی گروہوں سے فائدہ اٹھاتا ہے تاکہ:
– اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے
– عالمی برادری کو دھوکہ دے
– فوج کی اندرونی سیاست کو جواز دے
8. افغانستان کی کمزوریوں سے فائدہ
پاکستان ہمیشہ تین کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتا ہے:
1. معاشی کمزوری (تجارتی اور ٹرانزٹ دباؤ)
2. سیاسی کمزوری (افغان حکومت کو عالمی طور پر تسلیم کیے جانے میں رکاوٹیں)
3. سیکورٹی کمزوری (تمام خطرات افغانستان سے جوڑنا)
خلاصۂ کلام
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست سازی، تباہ حال معیشت، تقسیم شدہ قومی ڈھانچہ اور بیمار سکیورٹی ذہنیت رکھنے والا دائمی بحران زدہ ملک ہے۔ اس بحران کو سنبھالنے کے لیے وہ “Externalization Doctrine” استعمال کرتا ہے اور اس کا سب سے بڑا شکار افغانستان ہے۔
وہ تین بنیادی طریقوں سے اپنے مسائل افغانستان پر ڈالتا ہے:
1. افغانستان کے سیاسی استحکام کو تباہ کرنا
2. عالمی برادری کے سامنے خود کو مظلوم دکھانا
3. بحران کی جڑ خود سے ہٹا کر افغانستان پر ڈالنا
آج افغانستان کی انٹیلی جنس پالیسی، دفاعی اسٹریٹجی، سرحدی نظم و نسق، سفارتی دباؤ مخالف حکمت عملی اور میڈیا وار کا نظریاتی فریم ورک خودمختار اور منظم ہو چکا ہے۔ اب پاکستانی رجیم کو چاہیے کہ اپنی ناپختہ پالیسیاں ترک کر دے ورنہ وہ دن دور نہیں جب خود اسی گڑھے میں گرے گا جو اس نے افغانستان کے لیے کھودا ہے۔

