Site icon المرصاد

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

پاکستان کا فوجی رجیم اُن نظاموں میں شمار ہوتا ہے جو ہمیشہ دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دوہری پالیسی اختیار کرتے رہے ہیں۔ ایک طرف یہ جان بوجھ کر اپنی پراکسی جماعتوں کے ذریعے ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے جن کے ذریعے مذہبی گروہوں اور اقلیتوں کو فوجی رجیم کے خوف اور مسلسل دباؤ میں رکھا جائے، اور دوسری طرف ان تمام کارروائیوں سے انکار کرتا ہے تاکہ دنیا کے سامنے یہ تاثر دیا جا سکے کہ گویا پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ماہِ شعبان کی ۱۸ تاریخ (بمطابق ماہ دلو ۱۷ تاریخ) اہلِ تشیع کی ایک مسجد پر داعشی خوارج کی جانب سے کیا گیا خونی حملہ ہے، جس کے نتیجے میں دو سو سے زائد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

یہ حملہ درحقیقت پاکستان کے فوجی رجیم کی پشت پناہی سے انجام دیا گیا تھا، کیونکہ رجیم کی معاونت کے بغیر داعش کے پاس اس نوعیت کے بڑے حملے کرنے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی وسائل۔ اسی لیے وہ عام طور پر مذہبی یا غیر جانبدار لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ فوجی اہلکاروں اور فوجی رجیم کے ملازمین کو اس طرح کے خونی حملوں میں ہدف نہیں بنایا جاتا۔

اسی دجالی اور دوغلی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان ہمیشہ خطرناک لہروں اور تباہ کن بحرانوں کا مرکز بنتا رہا ہے۔ اگر ایک طرف پاکستان کے بڑے شہروں میں پھیلی ہوئی خاموشی کو دیکھا جائے اور دوسری طرف فوجی جرنیلوں کے درمیان گہرے اختلافات کو، تو صاف طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب اسی دوہرے طرزِ سیاست اور سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ مزید برآں پاکستان کے بڑے شہروں، جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں حکومت کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے وسیع مظاہرے بھی سیاسی پابندیوں کے ردِعمل میں سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے پسِ پشت ایک مخصوص حلقہ سرگرم ہے جو چاہتا ہے کہ یہ کشمکش اسی طرح مسلسل جاری رہے، تاکہ جرنیلوں کے ایک خاص طبقے کے سیاسی اور معاشی مفادات محفوظ اور برقرار رہیں۔

نہ صرف مذکورہ بالا بحران، بلکہ بلوچوں کا مسلسل مسئلہ اور گزشتہ چند دنوں کے دوران پاکستان کے فوجی رژیم کی جارحیت کے جواب میں افغان افواج کے بے مثال جوابی آپریشن، اسی طرح افغان ڈرونز کی بمباری، ٹی ٹی پی کی تیز رفتار سرگرمیاں اور حملے، نیز پاکستان کی تاریخ کی بدترین معاشی صورتحال؛ یہ سب ایسے عوامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے زوال کے امکانات کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔

ایسے حساس اور آزمائشی لمحات میں ہم پاکستان کے مسلمان عوام، بااثر رہنماؤں اور بالخصوص علماء سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ فوجی رجیم نے آپ کے ملک کو نجات کے بجائے تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ان فوجی جرنیلوں کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ پچیس کروڑ سے زائد انسانوں کی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے؛ آپ اپنے ذمہ دارانہ موقف کے مطابق اس بات کے مکلف ہیں کہ اپنے اپنے علاقوں میں فوجی رجیم کے خلاف آواز بلند کریں اور داعشی خوارج کی سرپرستی، جنگ کے لیے فضا سازی اور دوہرے سیاسی کھیل کا راستہ روکیں۔

امتِ مسلمہ کو آپ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کہ پاکستان کے مسلمان عوام، معزز علماء اور بااثر رہنما ذاتی اور گروہی مفادات کے بجائے امت اور تمام مسلمانوں کے عظیم تر مفاد کو پیشِ نظر رکھیں گے، مسلمان کشی، نفرت اور عدم استحکام کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے اور خطے میں ایک واحد اسلامی نظام کے استحکام اور بقا کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔

Exit mobile version