چند روز قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سربرآوردہ علماء کرام کا ایک اجتماع منعقد ہوا جس میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں علمائے کرام نے ملک کے طول وعرض سے شرکت کی تھی، اجتماع کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ علماء، دین وشریعت کی روشنی میں افغانستان کے مسائل کو حل کرنے کی تجاویز پیش کرسکیں، چنانچہ اس بنیاد پر علماء نے تفصیلی غور وخوض اور باہمی طویل مشاورت کے بعد متفقہ فیصلہ یا اعلامیہ کے عنوان سے دو صفحات پر مشتمل تحریر نشر کی، جس کا ایک ایک حرف اور ایک ایک جملہ جہاں شریعت کی روح کو آشکارا کررہا تھا وہیں بالکل آزادانہ اور خود مختار طور پر علماء کرام کی جانب سے حکومت کو تجاویز بھی پیش کی گئی تھیں، جس سے علماء کی پر وقار حیثیت بھی خود بخود چھلک رہی تھی۔
اس شاندار اسلامی اخوت پر مبنی اور ہر قسم کے سیاسی دباو اور تملق سے دور اجتماع پر کراچی کے ایک معروف سیاسی بلکہ عسکری البتہ مذہبی نسبت کے دعویدار ادارے کے سربراہ نے تبصرہ کیا اور تبصرے کے لئے باقاعدہ چند سیاہ پوش لوگوں کو بیٹھا کر اپنے دئیے سوالات ان کی زبان سے دہرائے گئے اور پھر منصوبہ بندی کے مطابق اس کے جوابات دئیے گئے، اس سیشن میں اس ادارے کے سربراہ جناب عبدالرحیم صاحب نے دیگر بہت ساری لایعنی باتوں سمیت ایک بہت ہی چھبتا ہوا جملہ بھی صادر فرمایا، جس کا ذکر آگے آئے گا۔
انہوں نے فرمایا: جو اعلامیہ جاری ہوا ہے یہ کسی کام کا نہیں اور اس کا فائدہ کوئی نہیں، جناب عبدالرحیم صاحب نے کہا کہ ایک ہزار علماء کرام اکھٹا کرنا کون سا مشکل کام ہے، یہ تو افغانستان کے ہر سرکاری ادارے میں علماء ہی کام کرتے ہیں، تو ان کی اکٹھ کونسی بڑی بات ہے؟
اب اس جملے پر ذرا رکتے ہیں اور اس کا تجزیہ کرتے ہیں، اگر واقعی افغانستان کے ہر ادارے اور محکمے میں جناب عبدالرحیم صاحب کے بقول علماء کرام ہی کام کرتے ہیں اور سرکاری عہدوں پر وہی براجمان ہیں، تو پھر تو یہ لوگ شریعت کے نشیب وفراز سے آگاہ بھی ضرور ہوں گے اور دین کی تمام باریکیوں کا بھی جائزہ وقتا فوقتا لیتے ہوں گے، اور فیصلہ کرتے وقت وہ آسمانی ہدایت اور قرآنی ونبوی احکام کی پاسداری کا خیال بھی رکھتے ہوں گے، پھر ان پر جناب عبدالرحیم صاحب کی پھبتیاں کسنا اور ان سب کو اسرائیلی ایجنٹ کہنا یا ان کے فیصلے پر منہ بسور کر ہچکولے لینا کس دین ومذہب کی رہنمائی ہے؟
خود عبدالرحیم صاحب دین وشریعت کی بڑی اہمیت بیان کرتے ہیں، بدگمانی، جھوٹ اور تہمت سے بڑی بیزاری کی تلقین دیتے رہتے ہیں تو پھر خود کیوں تہمت اور بہتان پر اتر آتے ہیں، بہ یک جنبش قلم ہزاروں علماء کرام کے فیصلے کو کیوں بے سود اور بے فائدہ کہتے ہیں؟ باوجودیکہ خود حکومت پاکستان نے سرکاری سطح پر اسے ایک اچھی پیش رفت سے تعبیر کیا ہے، پاکستان کی دیگر سیاسی ومذہبی شخصیات نے اسے خوش آئند قرار دیا ہےـ
حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بظاہر لگتا یہ ہے کہ جناب عبدالرحیم صاحب یہ سب کچھ شاہ سے شاہ کا وفادار بننے کے تناظر میں کررہے ہیں، یوں تو انہوں نے شروع سے ہی پاکستان اور افغانستان کی جنگ کی ٹھان لی تھی مگر اب جب جنگ میں پاکستان کو منہ کی کھانی پڑی، تجارتی منڈیاں ماند پڑیں، انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور جنگ نہیں ایک اجتماعی بحران سے دوچار ہونا پڑا تو مقتدرہ کو عبدالرحیم صاحب جیسے لوگوں سے بھی گھن آئی، اور خود اس کا احساس موصوف کو بھی ہوا، تب اس نے اپنی چاہت کے مطابق اداروں کو حالات کی سنگینی کا ذکر شروع کردیا تاکہ کسی نہ کسی طرح وہ ان کی آنکھوں میں بھاجائےـ
اس کی دلیل یہ ہے، کہ جس روز افغانستان میں ہزاروں علماء کرام ایک آزاد ماحول میں جمع ہوئے تھے اسی روز پاکستان میں بھی علماء ومشائخ کے نام سے ایک کانفرنس تھی، جس میں عسکری سربراہ عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر حکومتی اور عسکری عہدیداروں سمیت بڑی تعداد میں علماء کے نام سے بہت سارے افراد نے شرکت کی تھی، اس کانفرنس میں عبدالرحیم صاحب بھی حاضر تھے، اور یہاں اس نے بات کرنے کی درخواست دی تھی جس پر موقع بھی دیا گیا تھا، اس موقع پر جب اس نے بات کی اور ابھی عسکری سربراہ کے بارے میں چند ہی توصیفی کلمات کہہ ڈالے تھے کہ آواز آئی اور بس کرنے کو کہا، کیونکہ اب ہر عام وخاص کو گویا پتہ چل ہی گیا ہے کہ اس طرح سے وہ سربراہانِ مملکت وحکومت سے زیادہ اپنی حیثیت کو بحال کرنا چاہتا ہے، اس لئے سرے سے اس کی بات ہی نامعقول اور بے سود ہے، عبدالرحیم صاحب نے جب یہ آواز سنی تو بڑی لجاجت سے عرضی پیش کی کہ میں تو بیس سالوں سے اس دن کا انتظار کررہا تھا اور اسی موقع کے تاک میں بیٹھا تھا، اور بیس سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے بات کرنے کا چانس دیا گیا ہے، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ مجھے کچھ زیادہ وقت دیا جائےـ
بہرحال چاروناچار جب انتظامیہ نے وقت دو تین منٹ کے لئے اور بڑھایا تو ملک کے حالات کے مطابق اور مسلمانوں کے بہتے خون کو پیش نظر رکھتے ہوئے گمان یہ کیا جارہا تھا کہ شاید اپنے لئے نہ سہی ملک وملت اور اسلام ومسلمانوں کے مفاد پر اسے بولنے کی توفیق ہوگی، مگر اس نے دو تین منٹ کے انتہائی قیمتی وقت کو غنیمت سمجھتے ہوئے دنیا میں واحد اسلامی نظام امارتِ اسلامیہ کی طرف اپنے تیروں کا رخ موڑلیا اور یہود کے احبار ورہبان کی طرح سامنے بیٹھے زمام اقتدار سنبھالنے والوں کے ہر جرم پر نہ تنہا یہ کہ پردہ ڈالا بلکہ ان کے تمام کالے کرتوتوں کو جواز فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور افغانستان کے حکمرانوں کو سر بازار اسرائیل اور بھارت سے جوڑ دیاـ
اب اس ساری کہانی اور اس کی گھتیاں، سلجھائی جائیں تو عبدالرحیم صاحب کی چاہت کچھ سمجھ آتی ہے، ساتھ ہی یہ بھی سمجھئیے کہ افغانستان کی حکومت جب حکومت نہ تھی اور تنہا مزاحمتی تحریک تھی اور اپنے زور بازو سے کمزور سہی، باون ممالک کو ناکوں چنے چبوارہی تھی، تب یہی عبدالرحیم صاحب ضرب مؤمن، اسلام اخبار اور الرشید ٹرسٹ اور دیگر تمام مشہور زمانہ اسباب اور وسائل سے امارتِ اسلامیہ کو مہدی کا لشکر ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا، احادیث کا پورا ایک صحیفہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، مگر اب ایک سو اسی درجہ تبدیلی کے ساتھ اسی کانفرنس میں اسی لشکرِ مہدی کو جہاں اسرائیل اور بھارت نواز جیسے القاب سے نوازتا ہے وہیں اسے خارجی کہنے جیسے سنگین الزام بھی لگاتا ہے اور یہاں پھر وہی دھندا اختیار کرتا ہے کہ بیالیس احادیث اس بارے میں موجود ہیں، اس سپیڈ سے عرش سے فرش پر اور ثریا سے تحت الثری میں پہنچنے سے اس کے علاوہ اور کیا سمجھ آتا ہے کہ نہ وہاں مقصد ملک وملت اور اسلام ومسلمانوں کی سربلندی تھی اور نہ اب ہے، مقصد صرف اور صرف اس وقت بھی خود نمائی تھی اور آج بھی ہر مسلمان ان حرکات کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ چاہت تیری بھلا کیا ہے؟
چاہت تیری بھلا کیا ہے؟

