آج کل آپ نے پاکستانی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر بہت سارے سیاسی رہنما، دینی لباس میں ملبوس علماء کہلائے جانے والے شاطر، ٹی وی اینکر یا پھر یوٹیوب کے ذریعہ کمانے والے لوگ دیکھے ہوں گے جو یکدم سے کچھ زیادہ ہی فعال ہوگئے ہیں ـ وقت بے وقت کبھی صبح تو کبھی شام اور کبھی ایسے وقت میں سکرین پر نمودار ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح بولنے کے لئے مناسب نہیں ہوتاـ مگر وہ پھر بھی ایسا کر لیتے ہیںـ
اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس عالمی کشمکش اور بحران کے دوران ایک منظم منصوبہ دیا گیا ہے جس کی رو سے وہ عوام کی توجہ اصل قضیہ سے ایک ایسی چیز کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنی ذات میں تو بہت ہی چھوٹی اور معمولی چیز ہو لیکن یہ لوگ اسے ایک عالمی ناسور اور بہت بڑے مسئلے کے طور پر پیش کر سکیںـ اور لوگوں کو اسی میں الجھائے رکھیںـ
اس کی سادہ مثال آپ کے سامنے یہی لوگ اور ان کی وہ باتیں ہیں جو وہ میڈیا پر کرتے رہتے ہیںـ یہ لوگ کبھی کہتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کو بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ان کا اصل ہدف پاکستان ہےـ کبھی کہتے ہیں کہ اسرائیل چونکہ بھارت کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور اس طرح وہ قریب آ کر پاکستان کے خلاف انڈیا کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ کرسکتا ہےـ کبھی کہتے ہیں کہ پاکستان تو ایک عظیم اسلامی مملکت ہے اور اسرائیل کو اس سے شدید خوفزدہ ہے اس لئے کہ پاکستان ایٹمی طاقت کا بھی حامل ہے تو اب اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر کوئی سازش کرنا چاہتا ہےـ
مگر ساتھ ہی یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اور عسکری قیادت نے امریکہ کا زبردست اعتماد حاصل کیا ہےـ یہ لوگ اس بات بڑے نازاں دکھائی دیتے ہیں کہ جی ٹرمپ نے عسکری قیادت کی بڑی زبردست تعریف کردی ہےـ یہ لوگ آپ کو ہمیشہ بتاتے رہیں گے کہ انڈیا کے مقابلہ میں امریکہ چاچو نے پاکستان کو زیادہ توجہ دی ہے اور اتنی اتنی سہولیات مہیا کر رکھی ہےـ
ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب آپ بیس پچیس سال پیچھے چلے جائیےـ جس وقت امریکہ نے پچاس سے زائد ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان پر حملہ کیا تو یہی لوگ اس وقت کہا کرتے تھے کہ افغانستان تو محض ایک بہانہ ہے اور درحقیقت امریکہ چاہتا یہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قبضہ جما سکےـ یہ لوگ آپ کو ہاتھ ہلا ہلا کر بتاتے تھے کہ امریکہ اور نیٹو پاکستان کو سیاسی، معاشی اور ہر طرح سے مفلوج کرنا چاہتے ہیں ـ انہیں لوگوں کا یہ نعرہ کس قدر مشہور ہوگیا تھا کہ امریکہ اور کفری ممالک سے پاکستان کی اسلام پسندی ہضم نہیں ہو رہی ہےـ
لیکن عین اسی وقت یہ لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ امریکپ جو وزیرستان اور دیگر علاقوں پر ڈرون حملے کرتا ہے اور پاکستان کے بے گناہ شہریوں کو قتل کرتا ہے، آپ کو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیےـ اس لئے کہ امریکہ سے ہماری بڑی دوستی ہے اور امریکہ ہمیں جس قدر امداد فراہم کرتا ہے وہ دنیا کی کوئی دوسری طاقت نہیں دے سکتی ـ جب سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی طیاروں نے پاکستانی سپاہیوں کو نشانہ بنا کر جان سے مار دیا تو یہی لوگ امریکہ کے اس فعل کو جواز فراہم کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کہا کرتے تھےـ
میڈیا کے یہ اینکر اور کالم نگار ہمیں بتایا کرتے تھے کہ پاکستان میں جو موٹر ویز بن رہی ہیں ـ جو سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے، جو تعمیراتی کام ملک کے طول وعرض میں ہورہا ہے یہ سب امریکہ مہربان کے فضل و کرم سے ہی ہیںـ ایک مشہور کالم نگار نے تو یہ برملا کہا تھا کہ امریکی امداد کی بہتات کی وجہ سے پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے پاکستان کا تمام قرضہ تک ادا کر دیاـ
اب اس طرح کے ڈگمگاتے بیانات اور دلچسپ متضاد داستانیں سن کر انسان حیران رہ جاتا ہےـ مگر یہ حیرت اس لئے زیادہ دیر قائم نہیں رہتی کہ یہاں مقصود اب بالکل واضح ہو گیا ہےـ بیس پچیس سال پہلے اگر یہ لوگ اس طرح کے بیانات دیتے تھے تو مقصود یہ تھا کہ پاکستان جو اسلام اور مسلمانوں سے ایک تاریخی خیانت کرنے جا رہا ہے اور افغانستان میں قائم ایک اسلامی حکومت اور مظلوم قوم کے خلاف امریکہ کو اڈوں کی فراہمی کر رہا ہے اور اب پاکستان کی سرزمین مسلمانوں کے لئے زہریلا خنجر ثابت ہوگی اس سے پاکستان کے غیور عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے وہ فلسفے گھڑے جارہے تھےـ
اور اب جب کہ امریکہ اور اسرائیل نے بالکل ناحق ایک اسلامی مملکت ایران پر ناجائز حملہ کیا ہے اور ایسے وقت میں اسلامی نام کی لاج رکھنے کی خاطر ایران کی ہر طرح کی مدد کرنی تھی اور اسے فائدہ پہنچانا تھا مگر کیا کرے کہ پاکستان کی عسکری طاقت عادت سے مجبور ہے اور جب تک اس کا ہاتھ خون مسلم سے رنگین نہ ہو اسے جینے کا مزہ نہیں آتا اس لئے ایسے حساس موقع پر جب افغانستان نے ایران کی ہمنوائی کی حامی بھری تو پاکستان کی عسکری طاقت نے چند ڈالروں کے عوض امریکہ کی خوشنودی کے لئے افغانستان پر ان طیاروں سے بمباری کی جن کے نام پر وہ اسلامی بھاشن دیتی ہے اور پوری اسلامی دنیا سے پیسہ بٹورتی ہےـ اور اس پر عوام کا غیظ وغضب تو فطری بات تھی ـ اس لئے حسب معمول میڈیا، دین اور سیاست سے وابستہ لوگوں کو متحرک کردیا گیا تاکہ عوام کے ذہنوں کو ڈگمگاتے بیانات سے گمراہ کر دیا جائے اور اصل قضیہ سے توجہ دوسری طرف پھیر دی جائےـ
اس وقت افغانستان پر مسلط جنگ کے بارے میں یہ لوگ کیا کیا کہتے ہیں اور پاکستان کی کس طرح صفائی پیش کرتے ہیں وہ اپنی جگہ، مگر عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے معتبر اور دانشور حضرات واشگاف الفاظ میں بتا رہے ہیں کہ یہ جنگ ٹرمپ کی جنگ ہے اور پاکستان کی عسکری قیادت اسے ایندھن فراہم کررہی ہےـ
مولنا زاہد الراشدی پاکستان اور عالم اسلام کی ایک ممتاز شخصیت ہیںـ علم اور سیاست دونوں میں ان کا نمایاں مقام ہےـ ابھی جنگ کے آغاز میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ مین اپنے حکمرانوں پر واضح کیا کہ یہ تمھیں ٹرمپ کی طرف سے منصوبہ ملا ہے اور اس میں ہم تمھارے ساتھ نہیں ہیںـ سیاست کا ایک بڑا نام محمد خان شیرانی تو روز ایسے بیانات دیتے ہیں کہ یہ جنگ امریکی فرمائش پر ہو رہی ہےـ خود حکومت کے وزراء کہہ رہے ہیں کہ ہم امریکی مشن کی تکمیل کررہے ہیںـ کے پی کے کا گورنر برملا کہتا ہے کہ امریکہ نے جن کاموں کو ادھورا چھوڑا تھا ہم انہیں مکمل کررہے ہیں ـ علمائے کرام بار بار بتا چکے ہیں کہ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کی عسکری قیادت کی تعریف دراصل آشیر آباد ہےـ تاکہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف اپنی تلوار کا رخ سیدھا کرےـ
مگر بایں ہمہ کچھ لوگ یہاں آکر بتا رہے ہوتے ہیں کہ پاکستان کو اسرائیل کی طرف سے بڑا خطرہ ہےـ بھائی اسرائیل کی طرف سے خطرہ کیوں ہوگا؟ جو کام اسرائیل نے کرنا ہےـ بلکہ جس کام سے اسرائیل اور امریکہ بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور جو مشن وہ بھی مکمل نہ کر سکے تم اس کو مکمل کرنے نکلے ہو تو وہ خطرہ کیونکر ہو گا؟ بھلا وہ تو تمھیں امداد فراہم کرے گاـ لیکن چونکہ ان.حضرات کو بھی منصوبہ ہی ملا ہےـ اس لئے یہ پلان کے مطابق ڈگمگاتے بول دیتے رہیں گے اور مسلمانوں کو غفلت میں ڈالتے رہیں گےـ

