Site icon المرصاد

کابل بینک کی برانچ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ پشاور میں ہلاک

المرصاد کو ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ داعش خراسان (ISIS-K) کا ایک اہم کمانڈر پشاور میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

باخبر سکیورٹی ذرائع نے المرصاد کو بتایا کہ داعش خراسان کا سینئر آپریشنل منصوبہ ساز زلمی بدخشی پشاور کے علاقے شاہ کس میں فائرنگ کے نتیجے میں مارا گیا۔

بدخشی، جو داعش خراسان کے اندر سلمان کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، اکتوبر 2025ء میں افغانستان سے فرار ہو کر خیبر پختونخوا میں گروپ کے فعال مراکز میں منتقل ہو گیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ براہِ راست قندوز شہر میں کابل بینک کی ایک برانچ پر 11 فروری 2025 کو ہونے والے حملے اور اس کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان اور بلوچستان میں دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد داعشی عناصر نے اب اپنے مراکز تیراہ جبار میلہ، تور درہ، اورکزئی اور شلمن کے علاقوں میں منتقل کر لیے ہیں۔ تاہم وہاں بھی وہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کی فورسز کے نشانے پر رہے ہیں۔

28 فروری کو تور درہ اور تیراہ میں ان کے مراکز کے خلاف لیزر گائیڈڈ آلات کے ذریعے کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں دس داعشی جنگجو ہلاک ہو گئے۔

اسی طرح یکم مارچ کو غلجی، اورکزئی کے علاقوں ترکانی اور ناریک میں ایک آپریشن کے دوران نو داعشی جنگجو مارے گئے، جن میں دو اہم کمانڈر حاجی رحمان (عرف ابو ناصر) اور ملا فاروقی بھی شامل تھے۔

Exit mobile version