Site icon المرصاد

کامیاب انتقامی حملے اور دشمن کی اسٹریٹیجک شکست!

رمضان المبارک کی بابرکت راتوں اور دنوں میں عام افغان شہریوں پر پاکستانی جارح افواج کے بے رحمانہ حملوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی فوجی رجیم اور اس کے زیرِ تسلط حکمرانوں کے پاس نہ کوئی اسلامی نظام ہے اور نہ ہی ان کا ڈھانچہ اسلامی اقدار اور اصولوں پر قائم ہے، بلکہ وہ عالمی استعماری منصوبوں کو نافذ کرنے والی ایک مسلح کرائے کا گروہ ہے جس نے تاریخ میں نہ کوئی حقیقی کامیابی حاصل کی اور نہ ہی اپنے مظلوم عوام پر کبھی رحم کیا۔

پاکستانی رجیم کی غلیمانہ پالیسی پوری تاریخ میں افغانستان کے خلاف نفرت اور عداوت سے لبریز رہی ہے۔ افغان قوم نے ہمیشہ ہمسائیگی اور دینی اصولوں کا لحاظ کرتے ہوئے تحمل سے جواب دیا ہے اور خاموشی اختیار کی ہے۔ ورنہ قانونی اور تاریخی اعتبار سے گزشتہ کئی دہائیوں کی افغان تباہیوں کی داستان خود پاکستانی خفیہ اداروں اور فوجی حکومتوں کے فروخت شدہ جرنیلوں نے لکھی اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے نافذ کی۔ تاہم یہ شکر کا مقام ہے کہ سازشوں کا یہ سلسلہ بالآخر امارت اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ختم ہوا اور افغان قوم نے تقریباً نصف صدی کے بعد سکھ کا سانس لیا۔ امن و امان قائم ہوا اور عام معافی کی روشنی میں حقیقی معاشرتی استحکام کی فضا بنی۔ مگر جب پاکستانی فوجی رجیم نے اس خدائی نصرت اور امارت اسلامیہ کی مدبرانہ پالیسی کے مثبت نتائج دیکھے تو وہ ایک بار پھر میدان میں اتر آئی اور اپنے مغربی و امریکی سرپرستوں کی مالی و سیاسی حمایت سے بہانوں اور تنازعات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا۔

گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں امارت اسلامیہ نے جرات اور تدبر کے ساتھ پاکستان کی ہر تشویش پر مذاکرات اور مفاہمت کی پیشکش کی، تاکہ واضح کرے کہ امارت اپنی واضح خارجہ پالیسی اور کیے گئے وعدوں کی روشنی میں وہ کسی کو بھی اپنی سرزمین دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ مگر سب پر عیاں ہے کہ فوج کے زیرِ اثر پاکستانی سول حکومت نے قطر اور ترکیہ میں مذاکرات کی میز چھوڑ دی اور واپس اسلام آباد جا بیٹھی۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ افغان عوام اور امارت اسلامیہ کے پاس ان زیادتیوں کا جواب نہیں۔ امارت نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کی خودمختار زبان بھی رکھتی ہے اور عسکری میدان میں ایسے عزم اور فوج کی حامل ہے جس کے پاس نیٹو اور امریکہ کی جدید فوجی جارحیت کو شکست دینے کا قابلِ فخر ماضی موجود ہے۔ ہر اقدام کا انتقامی جواب دلیری سے دیا گیا، جس کی تازہ مثال ڈیورنڈ لائن کے مختلف حصوں پر پاکستانی چوکیوں پر بیک وقت حملے تھے، جن میں متعدد چوکیاں فتح کی گئیں اور درجنوں کرائے کے پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی فوج اور بے اختیار سول حکومت نے ایسی شرمناک پالیسی کیوں اپنائی ہے؟ اور پاکستان کے حامی ممالک اور نام نہاد عالمی برادری کیوں خاموش ہے، حالانکہ انہوں نے ننگرہار اور پکتیکا میں حالیہ حملوں کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنتے دیکھا؟ اس کے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:

اپنی کمزوریوں کو چھپانا:
پاکستانی فوجی رجیم اس وقت اندرونی طور پر شدید اقتصادی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہے۔ اقتصادی میدان میں ہر شہری فوجی پالیسیوں اور منصوبوں کے باعث قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ سیکیورٹی کے لحاظ سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ پاکستان کی حقیقت بن چکے ہیں، جن کے مقابلے میں فوج کا مورال گر چکا ہے۔ روزانہ دھماکے اور فوجی افسران پر حملے معمول بن چکے ہیں۔

افغانستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنا:
گزشتہ ساڑھے چار برسوں سے افغانستان میں امن ہے، جس سے تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے مواقع پیدا ہوئے۔ طورخم اور سپین بولدک کی بندش کے بعد متبادل راستے فعال ہوئے اور برآمدات و درآمدات ماضی سے بھی بہتر طریقے سے جاری رہیں۔ جبکہ پاکستان کی اپنی پالیسیوں کے باعث اس کی مصنوعات افغان منڈیوں سے تقریباً خارج ہو گئیں اور افغانستان کے بازاروں پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑا، جبکہ افغانی کرنسی مستحکم رہی اور پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گرتی رہی۔

عالمی منصوبوں اور ڈالرز کا حصول:
پاکستانی فوج کا سربراہ، جو درحقیقت اصل حکمران ہے، امریکہ اور سعودی عرب کے متعدد دورے کر چکا ہے تاکہ خطے میں مغرب اور امریکہ کے استعماری مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنے فوجی کرائے پر دے اور نئے منصوبے حاصل کرے۔ یمن کے معاملے پر سعودی موقف کی حمایت نے امارات کے ساتھ تعلقات متاثر کیے اور سودی قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا۔ اس مقصد کے لیے کہ اس طرح کے ڈالرز کمانے والے منصوبوں کے لیے اچھا پروپوزل پیش کیا جا سکے، اس نے اپنے داخلی مسائل جیسے ٹی ٹی پی، بلوچ مزاحمت کار اور دیگر مسائل کو دہشت گردی اور خطے کے مسائل کے طور پر پیش کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی صلاحیت بھی ثابت کی۔

اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا:

سب سے بری بات یہ ہے کہ پاکستانی رجیم اپنے مظلوم لوگوں، خصوصاً پشتونوں اور بلوچوں کی آواز کو نظر انداز کرتا ہے اور پنجاب کے تخت پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستانی فوج بڑے پیمانے پر اپنے ہی عوام اور جائز احتجاجی رہنماؤں کے قتل میں ملوث رہی ہے اور خفیہ قاتلوں کا کردار ادا کر رہی ہے۔۔ اسی پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر الزام لگایا جاتا ہے کہ افغانستان اس میں ملوث ہے اور ان کا حریف بھارت بھی افغانستان کے ذریعے ٹی ٹه پی اور دیگر مسلح گروہوں کی مدد سے پاکستان کو غیر محفوظ بنانا چاہتا ہے، جبکہ اس دعوے کو دستاویزی حقائق کے ذریعے بار بار رد کیا جا چکا ہے اور پاکستانی عوام بھی اب یہ حقیقت سمجھ چکی ہے۔

آخر میں افغانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے شکوہ کریں جو ہمیشہ انسانی حقوق اور علاقائی سالمیت کے دعوے تو کرتی ہیں مگر افغان سرزمین پر پاکستانی جارحیت اور ظلم کا مشاہدہ کرنے کے باوجود پاکستان کی جارحیت پر خاموش ہیں اور پاکستان کے غلط مؤقف کو سمجھنے کے باوجود صحیح اور غلط میں تفریق سے گریز کرتی ہیں۔ اگرچہ افغانستان اپنے حق موقف کے لیے ان کی حمایت کا محتاج نہیں، مگر کم از کم انہیں اپنے اوپر سے یہ تاریخی سیاہ داغ تو دھونا چاہیے جس کی وجہ سے ان کے اقدار اور اصولوں کو زوال کا سامنا ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کو بطور قومی نظام اپنے عوام کی بھرپور، وسیع اور ہر پہلو سے حمایت حاصل ہے، اور پاکستان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی یہ کارروائیاں نقصان کی بجائے افغان عوام کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، اور اس کے نتیجے میں افغان قوم ایک تاریخی دشمن کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ متحد، ہم خیال اور امارت اسلامیہ کی مضبوط حامی بن رہی ہے۔

وہ بیرونِ ملک مقیم اور پاکستان نواز گروہ جو اس بحران میں پاکستان کو برحق قرار دیتے ہیں اور اپنے ویزوں و منصوبوں میں توسیع کی خاطر اپنے عوام کے خون اور آنسوؤں کو نظر انداز کرتے ہیں، وہ کبھی حقیقی افغان نہیں ہو سکت بلکہ ان کا افغان ہونا بھی افغانستان کے لیے کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ رمضان کے اس بابرکت مہینے میں ہم ان کے لیے صرف ہدایت اور بھلائی کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔

Exit mobile version