اب وقت آ گیا ہے کہ اس تاریخی روایت کو تازہ کیا جائے اور فتح کی ان گھڑیوں کو شمار کیا جائے، جن میں فوجی رجیم کو اپنے کیے گئے مظالم کا حساب دینا ہوگا۔ اس فوجی رجیم نے مسلم معاشرے کے بہادر نوجوانوں، سفید ریش بزرگوں اور باعزت پردہ نشین خواتین کو بے رحمی کے ساتھ شہید اور قید کیا، ان کی عزتوں کو پامال کیا اور ان کے گھروں کو غم اور ویرانی میں بدل دیا۔
شہداء کا خون ابھی خشک نہیں ہوا، وہ اب بھی بہہ رہا ہے؛ زخمیوں اور قیدیوں کی چیخیں اب بھی پہاڑوں اور وادیوں میں گونج رہی ہیں، اور مظلوم ماؤں اور یتیموں کی سسکیاں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ ان تمام مظالم، جبر، تشدد اور انسانیت سوز جرائم کا حساب لینے کا وقت آ پہنچا ہے، اور یہ حساب نہایت سخت ہونے والا ہے۔
یہ حملے اور مزاحمت اب کسی معمولی پہلو کی عکاسی نہیں کرتے، نہ ہی یہ صرف ایک عسکری جھڑپ یا سیاسی اختلاف ہے؛ بلکہ یہ ایک زخمی اور ستائی ہوئی قوم کی چیخ و پکار ہے۔ یہ ان لوگوں کا انقلاب اور بیداری ہے، جو برسوں سے ظلم، زیادتی، امتیازی سلوک، جارحیت اور غلامی کی کوششوں کے خلاف ڈٹے رہے، مگر اب ان کا صبر جواب دے چکا ہے۔
جب کوئی رجیم اپنے عوام کو انصاف، آزادی اور وقار دینے کے بجائے صرف خوف، قید، تشدد اور خونریزی دے، تو آخرکار عوام اپنے عزت، ناموس اور مستقبل کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک طوفان برپا کرتے ہیں۔
اب وہ مقدس گھڑی آن پہنچی ہے، جب اللہ تعالیٰ حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے راستے ہموار کرتا ہے، ان پر اپنی مدد نازل فرماتا ہے اور ان کے ہاتھوں کو مضبوط بناتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾
ترجمہ: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک الله نیکوں کے ساتھ ہے۔
اب پورے خطے میں ایک نیا، گہرا اور طوفانی شعور اور تبدیلی آچکی ہے۔ لوگ اب یہ ہرگز نہیں چاہتے کہ ایک چھوٹی، خود غرض اور ظالم ٹولہ یا حلقہ ان کے دین، عزت اور مستقبل سے کھیلتا رہے۔ پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے جاری قومی امتیاز، معاشی استحصال، اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن، ظلم و زیادتی اور بے گناہ لوگوں کے خلاف کارروائیوں نے ایسی آگ بھڑکا دی ہے، جس کے شعلے اب ہر سمت پھیل رہے ہیں۔
ہم یہ تمام نشانیاں واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطے میں ایک ایسے نئے، وسیع اور عادلانہ نظام کے قیام کا ارادہ کر لیا ہے، جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو، جہاں انصاف، انسانی وقار اور حقیقی آزادی حاصل ہو۔ یہ نظام محض نام کا نہیں ہوگا، بلکہ عملاً نافذ ہو گا؛ ایسا نظام، جس میں ظلم، جبر، تشدد اور لوٹ مار کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی، اور ہر مظلوم انسان کے حقوق اور عزت کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔
ظالم نظام بظاہر طاقت، پروپیگنڈا اور خوف کے سہارے اپنی حکمرانی کو طول دے سکتے ہیں، مگر تاریخ کا اٹل اصول یہ ہے کہ کوئی بھی استبدادی نظام ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اس کے زوال کے اسباب بھی وہیں سے جنم لیتے ہیں۔ لوگوں کی خاموشی شعور میں بدل جاتی ہے، خوف ہمت میں ڈھل جاتا ہے اور دکھ اجتماعی مؤقف اختیار کر لیتا ہے۔
تاریخ کے اوراق گواہی دیتے ہیں کہ ہر وہ نظام، جس نے حق کی آواز کو دبایا، مسلمانوں کی عزت کو پامال کیا اور انصاف کو قربان کیا، بالآخر رسوائی، تنہائی اور شکست سے دوچار ہوا۔ ایسے نظام خواہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دیں، اپنے ہی ظلم کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتے ہیں۔
جب اللہ تعالیٰ تبدیلی کا ارادہ فرماتا ہے تو ایسی راہیں کھلتی ہیں جو انسانی سوچ و تصور سے بالاتر ہوتی ہیں۔ اس وقت ظالموں کے محلات اندر سے کھوکھلے ہونے لگتے ہیں؛ جیسا کہ آج پاکستانی فوجی رجیم کے ساتھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی طاقت کی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں، اور جسے وہ ناقابلِ شکست سمجھتے تھے، وقت کے ایک جھونکے سے مٹتا ہوا نظر آ رہا ہے اور یہ منظر جلد ہی واضح طور پر سامنے آئے گا، ان شاء اللہ۔
اگر یہ نظام اب بھی اپنی روش نہ بدلے، ظلم، خوف اور جبر کی پالیسی پر قائم رہے، تو تاریخ خود کو دہرائے گی اور اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دے گی۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کمان کے تیر اب اپنے ہدف تک پہنچ چکے ہیں، فوجی رجیم کے سینے میں پیوست ہو کر اسے گہرے زخم دے چکے ہیں، اور وہ ذلت کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اب اس کے خاتمے کی گھڑیاں قریب ہیں، اور یہ سرزمین ایک پاک اور عادل اسلامی نظام کے نفاذ کی منتظر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظام کے دائرے کو وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور موجودہ حالات کو اسی مقصد کے لیے ایک ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔

