دوشنبے(پیر) کی شب تقریباً 11:47 بجے، جب زیادہ تر لوگ نیند کی آغوش میں تھے، افغانستان کے مختلف صوبوں میں، بالخصوص کنڑ اور ننگرہار میں زمین لرز اٹھی۔ چھ ریکٹر اسکیل کے زلزلے نے کئی گھروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا اور رات کی خاموشی زخمیوں کی چیخ و پکار اور درد بھری فریادوں سے گونج اُٹھی۔ اس سیاہ رات میں خوف و ہراس کا سایہ لوگوں پر چھا گیا، مگر امارتِ اسلامی کے مجاہدین فرشتۂ نجات کی طرح فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک پہنچ گئے۔
پہاڑی تودے گرنے کے سبب کئی زمینی راستے بند ہو گئے اور دُور دراز علاقوں تک رسائی تقریباً ناممکن تھی، لیکن یہ رکاوٹ امدادی کاررائیوں کے سامنے حائل نہ ہو سکی۔ وزارتِ دفاع کے براہِ راست حکم پر فوجی ہیلی کاپٹروں نے ابتدائی گھنٹوں میں پروازیں شروع کیں اور کنڑ سے زخمیوں کو ننگرہار کے ولایتی ہسپتال منتقل کیا۔ یہ مہم صرف زخمیوں کے انخلا تک محدود نہ رہی بلکہ ادویات، خوراک اور دیگر اشد ضروری امدادی سامان بھی پہنچایا گیا۔ محض ایک دن میں ان ہیلی کاپٹروں نے اسّی سے زائد پروازیں انجام دیں۔
امارتِ اسلامی کے سیکیورٹی اہلکار بھی ملبوں تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے میدان میں اُتر آئے۔ انہوں نے ابتدائی اوزاروں کے ساتھ، اور کئی بار صرف اپنے ہاتھوں سے، اپنے ہم وطنوں کو بچانے کی جانفشانی کی۔ یہ مناظر قربانی اور جہادی روح کے وہ نقوش تازہ کر رہے تھے جو افغانستان کی تاریخ میں کڑے وقتوں میں نمایاں رہے ہیں۔ مقامی باشندے بھی ریاستی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور شہداء کی تلاش اور زخمیوں کی منتقلی میں بھرپور کردار ادا کیا۔
وزارتِ صحتِ عامہ نے بھی تجربہ کار ڈاکٹروں اور رضاکار نرسوں پر مشتمل ٹیم فوری طور پر متاثرہ مقامات روانہ کی۔ انہوں نے دشوار حالات اور محدود وسائل کے باوجود زخمیوں کا علاج کیا اور بے شمار جانیں بچائیں۔ یہ فوری اور مربوط ردعمل امارتِ اسلامی کے بحرانوں میں منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی کا مظہر تھا۔
زلزلے کے فوراً بعد امارتِ اسلامی نے سو ملین افغانی (تقریباً 1.3 ملین ڈالر) کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا اور وضاحت کی کہ ضرورت پڑنے پر امداد مزید بڑھائی جائے گی۔ یہ اقدام محض حکومتی ذمہ داری کا ثبوت نہیں بلکہ اس بات کا مظاہرہ بھی ہے کہ امارتِ اسلامی سخت ترین حالات میں بھی اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ سانحہ ایک بار پھر افغان عوام کے ملی اتحاد اور امارتِ اسلامی کے اہلکاروں کی قربانی اور وطن دوستی کی جھلک پیش کر گیا۔ جہاں بہت سے ممالک ایسے حالات میں لاجسٹک مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، وہاں امارتِ اسلامی کے مجاہدین نے دستیاب وسائل کے ساتھ فوری اور قابلِ تحسین انداز میں امدادی کارروائیاں کیں۔ اس بروقت ردعمل نے نہ صرف بے شمار زندگیاں بچائیں بلکہ اُن دلوں میں بھی امید جگا دی جو سب کچھ کھو بیٹھے تھے۔
یقیناً زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے جس کے وقوع کو روکا نہیں جا سکتا، مگر بعد ازاں کیے جانے والے اقدامات کسی ریاست کی قوت اور اہلیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ امارتِ اسلامی نے اپنے اقدامات سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف امن و امان کی ضامن ہے بلکہ عوام کی بھلائی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی پوری طرح مستعد ہے۔ یہ سانحہ ملی یکجہتی اور حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کی بہترین مثال ہے۔

