Site icon المرصاد

گھر جلا تو کیا، دیواریں تو پختہ ہو گئیں!

گزشتہ روز صوبہ بغلان میں سینکڑوں عام شہریوں، قبائلی عمائدین اور نوجوانوں نے ایک اجتماع میں افغان سرزمین پر پاکستانی فوجی رجیم کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے افغان سرحدی محافظوں اور جوابی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ بغلان کا یہ واقعہ عوامی اتحاد اور قومی حمایت کی ایک مثال ہے۔ رمضان المبارک کے دوران ہر روز منبروں اور مساجد میں بھی امارت اسلامیہ کے مؤقف اور مجاہدین کی حمایت کے لیے دعاؤں میں ہاتھ اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ ایک تاریخی اور قابلِ توجہ صورتحال اس لیے ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم بالآخر ایک بہادر قوم کی عوامی حمایت اور عملی مزاحمت کی طاقت دیکھ رہی ہے اور اسے سمجھ آ رہا ہے کہ ایک کرائے کا لشکر ایک عقیدے کی طاقت اور حقیقی عوامی پشت پناہی رکھنے والے اسلامی لشکر کے مقابل کھڑا ہے۔

پاکستانی فوجی رجیم کے خلاف امارت اسلامیہ کے انتقامی حملے، جنہیں "ردّ الظلم” کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اب بھی کامیابی سے جاری ہیں اور متعدد کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہیں، جن میں درجنوں پاکستانی چوکیوں کی فتح اور سو سے زائد کرائے کے فوجیوں کی ہلاکت شامل ہے۔ جنگوں کی تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جنگیں محض طاقت سے نہیں بلکہ جذبے اور مقدس مقصد سے جیتی جاتی ہیں۔ اسی اصول کے تحت وطن کا دفاع ایک مقدس جہاد کی طرحا ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم نے رمضان المبارک میں افغان سرزمین پر حملے کیے، مگر اس کے جواب میں امارت اسلامیہ نے اپنی زمینی اور فضائی قوت کے ذریعے دندان شکن جواب دیے اور قابل فخر انتقام لیا۔

شاید پاکستان یہ سمجھ رہا تھا کہ اپنی کرائے کی فوج کے ذریعے وہ ان مقاصد کو حاصل کر لے گا جنہیں اس نے ماضی میں افغانستان میں مداخلت اور مختلف بہانوں سے اٹھاتا رہا ہے، مگر اس مرحلے پر سیاسی اور جغرافیائی حقائق بدل چکے ہیں۔ افغانستان اب ایک مضبوط نظام رکھتا ہے اور پاکستانی فوجی رجیم کے خلاف قومی اتفاقِ رائے اور عوامی ہم آہنگی موجود ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے پاس اس ناپاک اور ظالمانہ جنگ کے لیے کوئی واضح اور قابلِ قبول جواز موجود نہیں، بلکہ یہ اقدام داخلی کمزوریوں اور مسائل کو چھپانے اور اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے شروع کیا ہے مگر مہلک ضربوں کا سامنا کر کے پشیمان ہو گیا ہو گا، کیونکہ جنگ شروع کرنا آسان اور اسے جیتنا مشکل ہوتا ہے۔ افغان قوم تاریخ میں جنگ جیتنے کا تجربہ رکھتی ہے، جبکہ پاکستان کے پاس جنگیں ہارنے کی طویل اور شرمناک تاریخ ہے، جس کی یاد دہانی کی یہاں ضرورت نہیں۔

اب ہم اس جنگ کے دوسرے پہلو کی طرف آتے ہیں جو عوامی حمایت اور اتفاقِ رائے کا ہے۔ پاکستان میں عام لوگ ہمیشہ محکوم رہے ہیں اور ایک مخصوص طبقہ اقتدار اور طاقت پر قابض رہا ہے۔ وہاں متعدد سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور علماء نے فوج کی شیطانی پالیسی اور دوسروں کے مفادات کے لیے کھیلنے پر بالخصوص افغانستان میں مداخلت پر بارہا تنقید کی، احتجاج کیے اور اسے ایک ناپاک عمل قرار دیا، مگر پاکستانی فوجی رجیم نے نہ صرف ان آوازوں کو نظر انداز کیا بلکہ ان احتجاجوں اور مطالبات پیش کرنے والے قائدین کو وقتاً فوقتاً قتل اور لاپتہ بھی کیا۔

افغانستان میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں امارت اسلامیہ نے عوام کی اس تاریخی مطالبے کو عملی جامہ پہنایا ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم کو محض بیانات نہیں بلکہ مضبوط جواب دیا جائے۔ یہاں وہ مشہور پشتو کہاوت صادق آتی ہے: "گھر جلا تو کیا، دیواریں تو پختہ ہو گئیں!” حالیہ حملوں کے بعد پاکستانی فوجی رجیم نے دیکھ لیا کہ افغان قوم میں اس کے خلاف کتنا غصہ اور جواب دینے کی کتنی صلاحیت موجود ہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس وقت ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم افغان یک زبان ہو کر امارت اسلامیہ کے انتقامی حملوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ بہنیں، مائیں اور بزرگ رمضان المبارک میں ان کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ بہت سے وہ لوگ جو بیرون ملک مقیم ہیں، حتیٰ کہ سابق حکومتی شخصیات اور جلا وطن افراد بھی امارت اسلامیہ کی بہادری اور حقانیت کا اقرار کر رہے ہیں اور اپنے تجزیوں اور آراء میں واضح کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔

"ردّ الظلم” آپریشنز کے دوران عوامی حمایت اور قومی یکجہتی کا جذبہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ برسر پیکار سکیورٹی فورسز عوامی محبت اور حمایت دیکھ رہی ہیں، ہر بار محاذ سے واپسی پر لوگ ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر استقبال کرتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی ملیشیا کے مرنے والوں پر کوئی ماتم بھی نہیں کرتا۔ فوجی قیادت اور پالیسی سازوں نے نہ تاریخ سے سبق سیکھا نہ ہی دنیا کے سیاست دانوں اور تاریخ دانوں کی آراء اور مشوروں پر کان دھرا۔ افغان عوام طویل جنگوں سے تھک چکے ہیں اور امن چاہتے ہیں۔ چار دہائیوں کے بعد امارت اسلامیہ کی قیادت کے تحت پچھلی جنگوں کے زخموں کے مداوا کا وقت آیا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی دوسرا حملہ آور حملہ کرے تو خاموشی اختیار کی جائے گی یا دفاع نہ کیا جائے گا۔

اس جاری تنازع میں امارت اسلامیہ کی خارجہ پالیسی بھی مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ بیرونِ ملک سفارتی نمائندوں نے میزبان ممالک کو واضح کیا ہے کہ افغانستان جنگ نہیں چاہتا بلکہ اپنے عوام کے تحفظ اور دفاع کی بھاری ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ہے، لیکن اس نے بات چیت اور افہام و تفہیم کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ اس کے برعکس پاکستان ہے جو ہمیشہ مذاکرات کی میز چھڑتا ہے اور اپنے جھوٹ چھپانے کے لیے مزید بہانے گھڑتا ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض مفاد پرست بیرونی عناصر، چند راندہ درگاہ افغان سیاستدان اور علاقائی ذرائع ابلاغ غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے ذریعے ایک بار پھر افغان معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے یا افغان فورسز اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ قوم بیدار ہے اور اب سمجھ چکی ہے کہ ملک کے حقیقی محافظ اور خادم کون ہیں۔

Exit mobile version