اپریل 2026ء کے اواخر میں پاکستانی فورسز نے اپنی سرزمین سے صوبہ کنڑ، بالخصوص صوبائی دارالحکومت اسد آباد اور اس کے نواحی علاقوں پر مہلک میزائل اور مارٹر گولے داغے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے حکام، خصوصاً حکومتی نائب ترجمان حمداللہ فطرت اور کنڑ کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے رئیس نجیب اللہ حنفی کے مطابق، ان حملوں میں 7 افراد شہید اور 85 سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں خواتین، بچے اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی شامل ہیں۔
ان حملوں میں سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 30 طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے اور یونیورسٹی کی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ رہائشی مکانات بھی متاثر ہوئے اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ کنڑ میں درجنوں دیگر اسکول بھی متاثر ہوئے، جس کے باعث ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے۔ پاکستانی حکام نے ان رپورٹس کو “بے بنیاد اور جعلی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف “دہشت گرد اہداف” کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ امارت اسلامیہ کے مطاب یہ حملے عام شہریوں کے خلاف “وحشیانہ” اور “جنگی جرم” ہیں۔
یہ حملے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے اس تسلسل کا حصہ ہیں، جو فروری 2026ء سے مختلف مراحل میں جاری ہے اور جس میں شہری علاقوں، گھروں اور تعلیمی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عام شہریوں اور تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانا صہیونیت کے طرزِ عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔ پاکستانی فورسز کی جانب سے دانستہ طور پر عام افغان شہریوں کے گھروں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانا صہیونی رجیم کی دہشت گردی سے مکمل طور پر مماثلت رکھتا ہے۔ جس طرح صہیونی رجیم غزہ میں اسپتالوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری کرکے انہیں “حماس کے ٹھکانے” قرار دیتی ہے، اسی طرح پاکستان بھی “دہشت گردوں کے مراکز” کے بہانے افغانوں کے تعلیمی اداروں اور گھروں پر بمباری کر رہا ہے، جس میں بچے، خواتین اور طلبہ شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔
صہیونی رجیم فلسطینی عوام کے تعلیمی اور ثقافتی اداروں کو نشانہ بنا کر نسلوں کو جڑ سے کاٹنے اور مزاحمت کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان بھی کنڑ اور دیگر مشرقی صوبوں میں افغانوں ک تعلیمی مراکز پر حملے کر رہا ہے تاکہ ہزاروں طلبہ علم کی روشنی سے محروم ہو جائیں۔ دونوں کے اعمال کا مقصد ایک جیسا ہے: مسلمانوں کی تعلیمی و معاشرتی ترقی کو ختم کرنا اور عام شہریوں کے درمیان خوف پھیلانا۔
صہیونیت اور اس کے حامیوں کے نزدیک تعلیمی ادارے “دہشت گردی کے مراکز” سمجھے جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ ادارے آنے والی نسلوں کے لیے علم و آگاہی کے مراکز ہوتے ہیں۔ پاکستانی رجیم بھی اسی منطق کو استعمال کرتے ہوئے سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی جیسے اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے، جو ایک عظیم مسلم مصلح کے نام سے منسوب ہے۔ یہ حملے نہ صرف جنگی جرائم ہیں بلکہ افغانوں کی شناخت اور مستقبل پر ایک منظم حملہ بھی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے غزہ اور فلسطین میں صہیونی رجیم کر رہی ہے۔
افغان عوام کو چاہیے کہ وہ ان دونوں ظالم رجیموں کے خلاف شعور اور مزاحمت کے راستے پر متحد رہیں، کیونکہ ان کے طریقۂ کار ایک جیسے ہیں: عام لوگوں کا قتل اور تعلیمی اداروں کی تباہی۔

